عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات: کشمیری عوام کی آواز یا نظام کے لیے چیلنج؟
تحریر: محمد خالد
آزاد جموں و کشمیر میں گزشتہ چند برسوں کے دوران اگر کسی عوامی تحریک نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی ہے تو وہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی تحریک ہے۔ اس تحریک نے مہنگائی، بجلی کے نرخوں، آٹے کی قیمتوں اور حکومتی مراعات جیسے مسائل کو عوامی بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔
عوامی مطالبات اور معاشی پس منظر
عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کو ان وسائل کا مناسب حق نہیں مل رہا جو اس خطے میں موجود ہیں۔ خاص طور پر منگلا ڈیم اور دیگر آبی وسائل سے پیدا ہونے والی بجلی کے حوالے سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ کشمیری عوام کو بجلی پیداواری لاگت کے قریب نرخوں پر فراہم کی جائے۔ اسی طرح آٹے اور دیگر ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی بھی تحریک کا بنیادی مطالبہ رہا ہے۔
حکومتی مراعات اور سیاسی اصلاحات
تحریک کا ایک اہم نکتہ حکمران طبقے کی مراعات بھی ہیں۔ کمیٹی بارہا مطالبہ کرتی رہی ہے کہ وزراء، مشیروں، اعلیٰ سرکاری افسران اور دیگر بااثر طبقات کو حاصل غیر ضروری مراعات کم کی جائیں تاکہ قومی وسائل کا بہتر استعمال ہو سکے۔ سیاسی سطح پر عوامی ایکشن کمیٹی نے انتخابی اور آئینی اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا ہے، جن میں آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین جموں و کشمیر کے لیے مخصوص نشستوں کے نظام کا ازسر نو جائزہ بھی شامل ہے۔
حکومت کا مؤقف اور قانونی پیچیدگیاں
دوسری جانب حکومت اور بعض سیاسی حلقوں کا مؤقف ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے کئی معاشی مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں اور بجلی و آٹے کے حوالے سے مختلف اوقات میں ریلیف پیکجز بھی دیے گئے ہیں۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض آئینی اور سیاسی مطالبات پیچیدہ نوعیت کے ہیں جن پر وسیع مشاورت اور قانونی عمل کی ضرورت ہے۔
عام آدمی کا سوال
حقیقت یہ ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ عام آدمی کے معاشی مسائل ہیں۔ جب مہنگائی بڑھتی ہے، روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں اور بنیادی سہولیات متاثر ہوتی ہیں تو عوامی تحریکوں کو پذیرائی ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر میں یہ تحریک صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ عوامی بے چینی، نمائندگی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے سوالات سے جڑی ہوئی بحث بن چکی ہے۔
