نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت چینی برآمد کمیٹی کا اجلاس
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت فاضل چینی کی برآمد سے متعلق کابینہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں چینی کی برآمد کے لیے پالیسی رہنما اصولوں کو حتمی شکل دی گئی ہے۔ ملک میں چینی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے حکومتی اقدامات جاری ہیں۔
اہم نکات
- کابینہ کمیٹی نے چینی کی برآمد کے لیے واضح پالیسی رہنما اصولوں کی منظوری دے دی ہے۔
- آئندہ کرشنگ سیزن تک چینی کے ملکی ذخائر کا جامع جائزہ لیا گیا تاکہ مقامی ضرورت پوری ہو۔
- برآمدات کا مقصد کسانوں کی مدد، صنعت کو تقویت اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنا ہے۔
- چینی کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
- حکام کو سپلائی چین کی نگرانی اور مارکیٹ میں قیمتوں کے بگاڑ کو روکنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
چینی کی برآمد اور ملکی منڈی میں استحکام
ترجمان دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق کمیٹی نے آئندہ کرشنگ سیزن تک چینی کے حتمی ذخائر کی صورتحال کا جامع جائزہ لیا۔ اس جائزے کا مقصد فاضل چینی کی مجموعی مقدار کا درست اندازہ لگانا تھا جبکہ اس بات کو بھی یقینی بنانا تھا کہ ملک بھر میں مقامی استعمال کے لیے چینی کے وافر ذخائر دستیاب رہیں۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مقامی صارفین کے تحفظ کے حوالے سے وزیراعظم کی ہدایات پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ چینی کی برآمدات میں سہولت فراہم کرنے کا مقصد مقامی کسانوں کی معاونت، چینی کی صنعت کو مضبوط بنانا اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنا ہے تاہم ملکی منڈیوں میں قیمتوں کا استحکام برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
نگرانی کے نظام کا قیام
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ چینی کی برآمد کے عمل کے دوران سپلائی چین کو ہموار رکھنے اور مارکیٹ میں کسی بھی قسم کے بگاڑ کو روکنے کے لیے موثر نگرانی کا نظام نافذ کیا جائے۔ اس ضمن میں حکومت ملکی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، جیسا کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور سعودی سفیر کی دوطرفہ اقتصادی تعاون پر بات چیت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
اجلاس میں وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق و موسمیاتی تبدیلی، وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، سیکرٹری تجارت، پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے نمائندوں سمیت متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس طرح کے اقدامات سے معیشت کو استحکام ملتا ہے، جس طرح پاکستان سائبر سکیورٹی کے ٹاپ ٹیئر میں شامل، وزیر شزہ فاطمہ نے حال ہی میں تذکرہ کیا تھا۔ دیگر اہم امور میں سوست خنجراب سرحد پر زرعی مصنوعات کیلئے گرین چینل کا معاہدہ بھی شامل ہے۔
اہم سوالات و جوابات
چینی کی برآمد سے متعلق کمیٹی کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
کمیٹی کا مقصد فاضل چینی کی مقدار کا تعین کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ برآمد کے دوران مقامی سطح پر چینی کی وافر مقدار موجود رہے اور قیمتوں میں استحکام رہے۔
برآمدات کے حوالے سے حکومت کی ترجیحات کیا ہیں؟
حکومت کی اولین ترجیح مقامی صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنا اور ملکی منڈی میں چینی کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا ہے۔
