مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
پیر، 26 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 415,950 PKR Bitcoin $80,021 USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 415,950 PKR Bitcoin $80,021
تازہ ترین

مظفرآباد آل پارٹیز کانفرنس کا متفقہ اعلان

📅 🔄 اپ ڈیٹ: ✍️ ⏱ 9 منٹ
muzaffarabad all parties conference
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

آزاد کشمیر میں جمہوری تسلسل، آئینی اصلاحات اور ریاستی استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: مظفرآباد آل پارٹیز کانفرنس کا متفقہ اعلان

مظفرآباد (دوست نیوز) آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں منعقد ہونے والی اہم آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) نے ریاست کے سیاسی، آئینی اور جمہوری مستقبل سے متعلق متعدد اہم فیصلوں اور مؤقف کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آزاد کشمیر میں جمہوری تسلسل، آئینی بالادستی، شفاف انتخابات اور ریاستی استحکام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور کی زیر صدارت ایوان وزیر اعظم میں منعقد ہونے والے اجلاس میں ریاست کی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں کی قیادت نے شرکت کی اور آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، انتخابی عمل، آئینی اصلاحات، مسئلہ کشمیر اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے پیش کی گئی جامع قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا، جس میں ریاست کے آئینی ڈھانچے، جمہوری اداروں، قومی سلامتی اور مسئلہ کشمیر سے متعلق واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا گیا۔

کن رہنماؤں نے شرکت کی؟

اجلاس میں آزاد کشمیر کی نمایاں سیاسی جماعتوں اور مختلف مکاتب فکر کے نمائندہ رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں پاکستان مسلم لیگ کے شاہ غلام قادر، پاکستان پیپلز پارٹی کے چودھری یاسین، مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان، سابق وزیراعظم سردار فاروق حیدر خان، سابق صدر و وزیراعظم سردار یعقوب خان، سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان، احمد رضا قادری، مولانا سعید یوسف، یاسر عباس نقوی اور ڈاکٹر الیاس سمیت دیگر سیاسی شخصیات شامل تھیں۔

اجلاس میں عوامی ایکشن کمیٹی کے قائدین کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی، تاہم طویل انتظار کے باوجود وہ اجلاس میں شریک نہ ہوئے۔ قرارداد میں اس امر کا بھی ذکر کیا گیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے مشاورتی اور جمہوری عمل کا حصہ بننے سے گریز کیا۔

مسئلہ کشمیر پر دوٹوک مؤقف

آل پارٹیز کانفرنس نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی آزادی کی جدوجہد کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت ہر سطح پر جاری رکھی جائے گی۔

قرارداد میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں، سیاسی کارکنوں اور حریت رہنماؤں کی گرفتاریوں اور طویل نظربندیوں کی شدید مذمت کی گئی۔

اجلاس نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے بھارتی اقدامات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی قرار دیا۔

جمہوری عمل اور ریاستی اداروں کی مضبوطی پر زور

آل پارٹیز کانفرنس نے واضح کیا کہ آزاد جموں و کشمیر میں جمہوری تسلسل اور آئینی عمل ہی ریاستی استحکام کی بنیاد ہیں۔

قرارداد میں کہا گیا کہ جمہوری اداروں کو مزید فعال، مضبوط اور مؤثر بنایا جائے گا جبکہ سیاسی اختلاف رائے کو جمہوریت کا حسن قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ کسی بھی سیاسی اختلاف کو ریاستی اداروں یا جمہوری ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

اجلاس میں تمام سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں پر زور دیا گیا کہ وہ برداشت، مکالمے اور پرامن سیاسی جدوجہد کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ خطے میں سیاسی استحکام اور پائیدار امن کو یقینی بنایا جاسکے۔

قومی سلامتی کے اداروں کے کردار کو سراہا گیا

قرارداد میں قومی سلامتی کے اداروں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ یہ ادارے آزاد جموں و کشمیر کے استحکام اور سلامتی کے لیے ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ دشمن ملک بھارت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف منظم پروپیگنڈا کر رہا ہے اور ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کررہا ہے۔

قرارداد میں واضح کیا گیا کہ ایسی تمام کوششوں کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا اور ریاستی اداروں کے خلاف کسی بھی منفی مہم کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

عام انتخابات مقررہ وقت پر کرانے کا اعلان

آل پارٹیز کانفرنس کی قرارداد کا ایک اہم حصہ آئندہ عام انتخابات سے متعلق تھا۔

اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات آئین اور قانون کے مطابق مقررہ مدت میں منعقد ہوں گے۔

قرارداد کے مطابق انتخابات کو آزادانہ، منصفانہ، شفاف، غیر جانبدارانہ اور پرامن بنانے کے لیے تمام ضروری انتظامی، قانونی اور سکیورٹی اقدامات کیے جائیں گے۔

اجلاس نے واضح کیا کہ عوام کو بلا خوف و خطر اور کسی بھی قسم کے دباؤ سے آزاد ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

شرکاء نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے، مؤخر کرنے یا متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش کو قانون کے مطابق روکا جائے گا اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مہاجرین کشمیر کی نمائندگی اور آئینی اصلاحات

آل پارٹیز کانفرنس نے مہاجرین جموں و کشمیر کی تحریک آزادی کشمیر اور تحریک تکمیل پاکستان کے لیے دی گئی قربانیوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ مہاجرین مقیم پاکستان کی نمائندگی ایک تاریخی اور آئینی حقیقت ہے، تاہم اس نمائندگی سے متعلق بعض انتخابی اور انتظامی پیچیدگیوں کو آئینی اور قانونی اصلاحات کے ذریعے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ آئینی اصلاحات کا اختیار منتخب قانون ساز اسمبلی کے پاس ہے اور اسی فورم کے ذریعے تمام ضروری تبدیلیاں عمل میں لائی جانی چاہئیں۔

اس مقصد کے لیے سیاسی جماعتوں، بار ایسوسی ایشنز، بار کونسل، سول سوسائٹی اور آئینی ماہرین سے مشاورت پر مبنی ایک وسیع البنیاد عمل شروع کرنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔

سیاسی مبصرین کیا کہتے ہیں؟

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مظفرآباد میں منعقد ہونے والی یہ آل پارٹیز کانفرنس آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاست کی سیاسی قیادت انتخابی عمل، آئینی استحکام اور مسئلہ کشمیر کے بنیادی مؤقف پر کم از کم مشترکہ اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات، مہاجرین نشستوں کے معاملات، آئینی اصلاحات اور عوامی مطالبات آنے والے مہینوں میں آزاد کشمیر کی سیاست کے اہم موضوعات رہیں گے، تاہم اے پی سی کی متفقہ قرارداد نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود ریاستی استحکام، جمہوری تسلسل اور آئینی بالادستی کو مقدم رکھا جائے گا۔

نتیجہ

مظفرآباد آل پارٹیز کانفرنس نے ایک متفقہ پیغام دیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے سیاسی، آئینی اور جمہوری مستقبل کا تعین آئین، قانون، مکالمے اور جمہوری اداروں کے ذریعے ہی کیا جائے گا۔ اجلاس نے مسئلہ کشمیر پر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی بھرپور حمایت، مقررہ وقت پر شفاف انتخابات کے انعقاد، ریاستی اداروں کے استحکام اور آئینی اصلاحات کے لیے وسیع مشاورت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ آزاد کشمیر میں جمہوری تسلسل اور ریاستی استحکام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

مظفرآباد آل پارٹیز کانفرنس کا متفقہ اعلان

www.thereportdigital.com

www.dostmarketing.pk

www.naqshconsultants.com

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں