مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 20°C
اتوار، 25 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 310.12 GBP/PKR 370.24 سونا/تولہ (عالمی) 414,909 PKR Bitcoin $80,262 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 310.12 GBP/PKR 370.24 سونا/تولہ (عالمی) 414,909 PKR Bitcoin $80,262
رائے و تجزیہ

عالمی سیاست کا ہفتہ وار جائزہ: دنیا بے چین کیوں ہے؟

📅 ✍️ ⏱ 7 منٹ
عالمی سیاست اور سفارت کاری کی علامت، اقوام متحدہ کا پرچم
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

تحریر: عابد محمود مغل

عالمی سیاست کا ہفتہ وار جائزہ ایک بے چین دنیا کی تصویر پیش کرتا ہے: سرحدیں اپنی جگہ ہیں، مگر طاقت کی لکیریں مسلسل کھسک رہی ہیں۔ کہیں امن کے لیے مذاکرات کی بات ہوتی ہے، کہیں نگرانی کے دروازے بند ہیں، اور کہیں سرمایہ کاری کا فیصلہ بھی قومی سلامتی کا سوال بن گیا ہے۔ اس ہفتے کی عالمی سیاست کو ایک منظر میں سمیٹنا ہو تو وہ ایسا مذاکراتی کمرہ ہے جس کے باہر جنگ جاری ہے۔ میرے نزدیک اصل سوال یہ ہے کہ سفارت کاری عام آدمی کے لیے تحفظ پیدا کررہی ہے یا صرف طاقت ور ریاستوں کو اگلی چال کا وقت دے رہی ہے؟

یوکرین: امن کی میز پر کس کی سلامتی؟

22 اکتوبر کو ولادیمیر پوتن نے کہا کہ یوکرین جنگ پر آئندہ بات چیت میں روس، یوکرین اور پورے یورپ کی سلامتی کی ضمانتیں مرکز ہونی چاہییں۔ انہوں نے مختصر عارضی جنگ بندی کے بجائے حتمی امن کی بات کی۔ یہ مؤقف رائٹرز کی رپورٹ کے حوالے سے جسٹ سکیورٹی کی 23 اکتوبر کی بریفنگ میں درج ہے۔

اس بیان کی سیاسی اہمیت اس کے الفاظ سے زیادہ اس سوال میں ہے کہ ضمانت کی تعریف کون کرے گا۔ روس اپنے تحفظ کی بات کرتا ہے؛ کسی پائیدار تصفیے میں یوکرین کی خودمختاری اور دوبارہ حملے سے حفاظت بھی بنیادی معیار ہونے چاہییں۔ یہ میرا تجزیہ ہے کہ اگر مذاکرات میں جارحیت کی قیمت اور معاہدے کی خلاف ورزی کا جواب واضح نہ ہوا تو امن کا اعلان بھی عدم تحفظ کو ختم نہیں کرسکے گا۔ یورپ کے لیے امتحان محض مذاکرات شروع کرانا نہیں، ایسے انتظام کی تشکیل ہے جس پر متاثرہ ملک اعتماد کرسکے۔

مشرقِ وسطیٰ: اعتماد کی جگہ نگرانی ضروری

ایران کے جوہری معاملے پر 23 اکتوبر کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی نے معائنہ کاروں کی جلد واپسی اور مذاکرات بحال کرنے پر زور دیا۔ اقوام متحدہ کی خبر، گلوبل ایشوز پر، کے مطابق انہوں نے سفارتی سمجھوتے کی تکنیکی بنیاد موجود ہونے کی بات بھی کی۔

یہ پیش رفت یاد دلاتی ہے کہ جوہری سفارت کاری کی کامیابی صرف ملاقات یا مشترکہ تصویر سے نہیں ناپی جاسکتی۔ اصل اہمیت قابلِ تصدیق رسائی، معلومات کے تسلسل اور واضح ذمہ داریوں کی ہے۔ نگرانی کمزور ہو تو فریقین ایک دوسرے کی نیت کے بارے میں زیادہ بدگمان ہوتے ہیں؛ بدگمانی سیاسی دباؤ بڑھاتی ہے، اور دباؤ مذاکرات کی گنجائش گھٹا سکتا ہے۔

عالمی سیاست اور سفارت کاری کی علامت، اقوام متحدہ کا پرچم

اسی خطے میں 23 اکتوبر کی اقوام متحدہ کی رپورٹ نے الخلیل میں مہلک حملے کے بعد مغربی کنارے کی بندشوں، نقل و حرکت کی پابندیوں اور ممکنہ بے دخلی پر تشویش ظاہر کی۔ یہاں سیاسی پیمانہ واضح ہونا چاہیے: شہریوں کے تحفظ، روزگار، علاج اور بنیادی خدمات تک رسائی میں کتنی بہتری آئی؟ امن کا کوئی بھی خاکہ ان سوالوں سے الگ ہوکر اپنی ساکھ قائم نہیں رکھ سکتا۔

امریکہ چین مقابلہ: سرمایہ بھی تزویراتی ہتھیار

22 اکتوبر کو امریکی محکمہ خزانہ نے چین اور دیگر متعلقہ ممالک میں بعض جدید ٹیکنالوجی سرمایہ کاریوں پر پابندیوں کا دائرہ بڑھانے کی تجویز پیش کی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سپرکمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت، بایوٹیکنالوجی اور ہائپرسونک نظام اس تجویز میں شامل ہیں۔ یہ ابھی مجوزہ ضابطہ ہے، حتمی نافذ شدہ فیصلہ نہیں۔ چین نے اقتصادی تعاون میں مداخلت پر اعتراض کیا۔

اس خبر کا مطلب کاروباری دنیا سے آگے جاتا ہے۔ میری رائے میں بڑی طاقتیں اب یہ بھی دیکھ رہی ہیں کہ پیسہ کہاں جارہا ہے اور اس سے مستقبل میں کون سی صلاحیت پیدا ہوگی۔ یوں تجارت، دفاع اور تحقیق ایک دوسرے کے زیادہ قریب آتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے سوال صرف سستی ٹیکنالوجی خریدنے کا نہیں رہے گا؛ متبادل سپلائر، مقامی مہارت اور مختلف نظاموں کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت بھی اہم ہوگی۔

جزیرہ نما کوریا: چھوٹی بات چیت، بڑا تحفظ

اس کشیدہ منظرنامے میں جنوبی کوریا نے 23 اکتوبر کو شمالی کوریا کو فوجی مذاکرات کی پیشکش کی۔ مقصد سرحدی حد بندی پر اختلافات، رابطوں اور حادثاتی جھڑپوں کے خطرے سے نمٹنا ہے۔ اے پی کی رپورٹ کے وقت یہ واضح نہیں تھا کہ پیانگ یانگ اسے قبول کرے گا۔

اس خبر کی قدر کسی بڑے امن معاہدے کے وعدے میں نہیں، ایک قابلِ عمل آغاز میں ہے۔ جب مسلح اہلکار ایک ہی سرحد کو مختلف انداز میں سمجھیں تو غلط فہمی بھی بحران پیدا کرسکتی ہے۔ میرا تجزیہ ہے کہ رابطہ بحال کرنے اور حادثے کو جنگ بننے سے روکنے والے انتظامات سفارت کاری کی سنجیدہ کامیابی ہوسکتے ہیں۔ ہر مسئلے کا حل فوری دوستی نہیں؛ بعض اوقات پہلا ضروری قدم ایک دوسرے کا پیغام بروقت سن لینا ہوتا ہے۔

سوڈان: عالمی سیاست کا انسانی حساب

سوڈان سے آنے والی خبر اس ہفتے کی سب سے تلخ یاددہانی ہے۔ اقوام متحدہ کی 23 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے پہلے تین ہفتوں میں ڈرون حملوں سے کم از کم 306 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے تشدد میں اضافے کی مذمت کی۔

چاڈ میں سوڈانی پناہ گزینوں کا کیمپ

سوڈان کو عالمی جائزے میں مرکزی جگہ دینا ضروری ہے۔ کسی بحران کی انسانی اہمیت اس بات سے کم نہیں ہوجاتی کہ اس میں بڑی طاقتوں کے سربراہ روزانہ بیان نہیں دے رہے۔ سیاسی حل کی سنجیدگی کو شہری تحفظ، امداد کی رسائی اور جواب دہی سے پرکھنا ہوگا۔ ورنہ جنگی ٹیکنالوجی آگے بڑھتی رہے گی اور انسان کی حفاظت پیچھے رہ جائے گی۔

آنے والے ہفتے کا اصل سوال

ان خبروں کو جوڑنے والی لکیر اعتماد کی کمی ہے۔ یوکرین میں ضمانت، ایران میں معائنہ، کوریا میں رابطہ اور سوڈان میں شہری حفاظت—ہر جگہ اعلانات کو عملی بندوبست میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے لیے بھی متوازن سفارت کاری، متنوع اقتصادی تعلقات اور قابلِ اعتماد معلومات کی اہمیت اسی لیے بڑھتی ہے۔

میرے نزدیک اس ہفتے کا حاصل یہ ہے کہ طاقت کا مظاہرہ آسان اور تحفظ کا انتظام مشکل ہے۔ آنے والے دنوں میں بیانات کی بلندی سے زیادہ معاہدوں کی تفصیل دیکھیے۔ دنیا کو ایسی سیاست درکار ہے جس کی کامیابی نقشے پر رنگ بدلنے سے نہیں، انسان کی زندگی میں خوف کم ہونے سے پہچانی جائے۔

مزید تجزیے اور خبریں: عالمی خبریں اور رائے و تجزیہ۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں