مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
پیر، 5 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.49 EUR/PKR 312.18 GBP/PKR 367.19 سونا/تولہ 430,255 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,619 USD/PKR 277.49 EUR/PKR 312.18 GBP/PKR 367.19 سونا/تولہ 430,255 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,619
رائے و تجزیہ

ویلکم ٹو پاکستان‘: کراچی میں گوگل کا دفتر اور ہماری ڈیجیٹل معیشت کا نیا سفر

📅 جمعرات، 20 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 8 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

تحریر: محمد خالد

’ویلکم ٹو پاکستان‘: کراچی میں گوگل کا دفتر اور ہماری ڈیجیٹل معیشت کا نیا سفر

*تحریر: محمد خالد*

پاکستان کی معاشی تاریخ میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر ایک خبر محسوس ہوتے ہیں، مگر ان کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ کراچی میں عالمی ٹیکنالوجی کمپنی *گوگل* کی باضابطہ موجودگی بھی ایسا ہی ایک اہم موقع ہے۔ یہ پیش رفت صرف ایک عالمی کمپنی کے دفتر کے قیام تک محدود نہیں، بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی معیشت کا ایک نیا دروازہ کھل رہا ہے—ایسا دروازہ جس کے دوسری جانب روایتی صنعتوں کے بجائے مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس، سائبر سکیورٹی، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور فری لانسنگ کی دنیا موجود ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے اپنے نوجوانوں کی بڑی تعداد کو اپنی سب سے بڑی طاقت قرار دیتا آیا ہے۔ ہمارے پاس لاکھوں ایسے نوجوان ہیں جو کمپیوٹر، موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا کے کسی بھی حصے میں بیٹھے کاروبار، ملازمت اور خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس انسانی سرمائے کو وہ ماحول فراہم کیا ہے جس کا وہ حق دار ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں صلاحیت کی کمی نہیں، لیکن انہیں عالمی معیار کی تربیت، مستحکم انٹرنیٹ، جدید ٹیکنالوجی، آسان ڈیجیٹل ادائیگیوں، پالیسی کے تسلسل اور بین الاقوامی کمپنیوں سے براہِ راست رابطے کے مواقع کی شدید ضرورت ہے۔

گوگل جیسی عالمی کمپنی کی مقامی موجودگی اسی خلا کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ایک بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی جب کسی ملک میں اپنی موجودگی مضبوط کرتی ہے تو اس کا فائدہ صرف اس کمپنی تک محدود نہیں رہتا۔ اس کے گرد ایک پورا *ڈیجیٹل ایکو سسٹم* تشکیل پاتا ہے۔ مقامی سافٹ ویئر ہاؤسز، اسٹارٹ اپس، ڈویلپرز، ڈیجیٹل مارکیٹرز، مواد تخلیق کرنے والے افراد، آن لائن کاروبار اور تعلیمی ادارے ایک دوسرے سے جڑتے ہیں اور نئی معاشی سرگرمی جنم لیتی ہے۔

پاکستان کے فری لانسرز کے لیے بھی یہ پیش رفت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ہمارے نوجوان گرافک ڈیزائننگ، ویب ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، موبائل ایپلیکیشنز اور دیگر شعبوں میں دنیا بھر کے کلائنٹس کے لیے کام کر رہے ہیں۔ لیکن انہیں اکثر ادائیگیوں، پلیٹ فارمز، اکاؤنٹس، ٹیکنیکل سپورٹ اور عالمی مارکیٹ تک رسائی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مقامی سطح پر عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مضبوط موجودگی ایسے مسائل کے حل کے لیے بہتر رابطہ اور زیادہ مؤثر نظام پیدا کر سکتی ہے۔

اس پیش رفت کا ایک اور اہم پہلو *مصنوعی ذہانت یعنی AI* ہے۔ دنیا تیزی سے AI کی طرف بڑھ رہی ہے اور آنے والے برسوں میں تعلیم، صحت، بینکاری، صنعت، میڈیا، زراعت، تجارت اور سرکاری نظام تک اس کے اثرات پہنچیں گے۔ اگر پاکستان نے اس تبدیلی کو بروقت سمجھ لیا تو ہم صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے والی قوم نہیں بلکہ ٹیکنالوجی بنانے اور برآمد کرنے والی قوم بھی بن سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے جامعات، ٹیکنالوجی اداروں اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط شراکت داری ناگزیر ہے۔

یہاں ہماری حکومت کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ صرف عالمی کمپنیوں کا پاکستان آ جانا کافی نہیں۔ ہمیں ایسا *ڈیجیٹل انفراسٹرکچر* بنانا ہوگا جو سرمایہ کاروں، کمپنیوں، فری لانسرز اور نوجوان کاروباری افراد کی ضروریات پوری کر سکے۔ تیز رفتار اور سستا انٹرنیٹ، قابلِ اعتماد بجلی، جدید ڈیٹا انفراسٹرکچر، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل ادائیگیوں کا مؤثر نظام اور واضح ریگولیٹری پالیسی وہ بنیادی ستون ہیں جن کے بغیر ڈیجیٹل معیشت مضبوط نہیں ہو سکتی۔

پاکستان کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ آج کی دنیا میں سڑکیں صرف اینٹوں، سیمنٹ اور تارکول سے نہیں بنتیں۔ *فائبر آپٹک کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، کلاؤڈ سسٹمز اور تیز رفتار انٹرنیٹ بھی نئی معاشی شاہراہیں ہیں۔* کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں سے لے کر ملک کے چھوٹے اضلاع تک اگر نوجوانوں کو عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ سے جوڑ دیا جائے تو ایک ایسا معاشی انقلاب برپا ہو سکتا ہے جس کے لیے اربوں ڈالر کی روایتی فیکٹریاں بھی ضروری نہیں۔

کراچی میں گوگل کی موجودگی اس حوالے سے ایک علامتی اور عملی اہمیت رکھتی ہے۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی مرکز ہے، بندرگاہی شہر ہے، مالیاتی سرگرمیوں کا مرکز ہے اور ملک کی کاروباری نبض اسی شہر میں تیزی سے دھڑکتی ہے۔ اگر کراچی کو پاکستان کا *ڈیجیٹل گیٹ وے* بنا دیا جائے تو اس کے اثرات پورے ملک تک پھیل سکتے ہیں۔

لیکن ہمیں صرف خوشی کے اظہار تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ماضی میں پاکستان نے کئی مواقع حاصل کیے، مگر پالیسیوں کے عدم تسلسل، بیوروکریسی، کمزور انفراسٹرکچر اور غیر یقینی کاروباری ماحول کے باعث ان کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔ اس مرتبہ ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔

ہمیں اپنے نوجوانوں کو صرف نوکری تلاش کرنے والا نہیں بلکہ *نوکریاں پیدا کرنے والا* بنانا ہوگا۔ یونیورسٹیوں میں صرف ڈگریاں نہیں بلکہ عملی ڈیجیٹل مہارتیں دینی ہوں گی۔ اسکول کی سطح سے پروگرامنگ، AI، سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل لٹریسی کو فروغ دینا ہوگا۔ خواتین اور دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کو بھی اس ڈیجیٹل انقلاب کا برابر حصہ بنانا ہوگا۔

دنیا کی معیشت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ آنے والے وقت میں وہی ممالک کامیاب ہوں گے جو اپنی نوجوان نسل کو علم، ٹیکنالوجی اور عالمی مارکیٹ سے جوڑ سکیں گے۔ پاکستان کے پاس نوجوان آبادی، تخلیقی صلاحیت اور سیکھنے کی غیر معمولی استعداد موجود ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ریاست، نجی شعبہ، تعلیمی ادارے اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں ایک مشترکہ وژن کے ساتھ آگے بڑھیں۔

*گوگل کا پاکستان آنا اختتام نہیں، ایک آغاز ہے۔* اصل کامیابی اس دن ہوگی جب اسلام آباد کا کوئی نوجوان، کراچی کی کوئی طالبہ، فیصل آباد کا کوئی فری لانسر یا سیالکوٹ کا کوئی چھوٹا کاروباری شخص اپنے کمرے سے بیٹھ کر دنیا کی مارکیٹ میں خدمات یا مصنوعات فروخت کرے اور پاکستان کے لیے قیمتی زرمبادلہ کمائے۔

گوگل نے اگر پاکستان کی ڈیجیٹل شاہراہ پر قدم رکھا ہے تو اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اس شاہراہ کو کشادہ، محفوظ، تیز رفتار اور پوری دنیا سے منسلک بنائیں۔

*دنیا ہمیں صرف صارف کے طور پر نہیں، مستقبل کے ڈیجیٹل پارٹنر کے طور پر دیکھے—یہی اصل ہدف ہونا چاہیے۔* [image: image.png]

*’ویلکم ٹو پاکستان‘ کا جواب اب صرف الفاظ میں نہیں، بلکہ عمل، پالیسی، ہنر اور کامیابی سے دینا ہوگا۔*

صحافی و تجزیہ کار

اس کالم میں ظاہر کیے گئے خیالات کالم نگار کے ذاتی ہیں، ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں