خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان پر تنقید
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے دفاع اور سالمیت کے کم از کم ایک نکتے پر پوری پارلیمان اور قوم کو متحد ہونا چاہیے، کیونکہ قومی مفاد کے معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی گنجائش ہونی چاہیے۔ خواجہ محمد آصف نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی تاریخ کو تضادات سے بھری قرار دیا اور ان پر کڑی تنقید کی۔
اہم نکات
- وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کے دفاع اور سالمیت کے معاملے پر پوری قوم اور پارلیمان کو متحد ہونا چاہیے۔
- خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی تاریخ کو تضادات سے بھری قرار دیتے ہوئے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر ان کی کارکردگی پر سوال اٹھائے۔
- انہوں نے وضاحت کی کہ تہران میں ہونے والی بات چیت کسی باقاعدہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے نہیں تھی، تاہم اس نے خطے میں ممکنہ تصادم کو ٹالنے میں مدد کی۔
- وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود ملک کے مفاد میں ہونے والی کوششوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔
قومی مفاد اور دفاعی معاملات پر اتفاق
قومی اسمبلی میں جے یو آئی (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمان کے نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ تہران میں ہونے والی بات چیت کسی دفاعی معاہدے کے حوالے سے نہیں تھی اور نہ ہی وہاں پاکستان کے دفاع سے متعلق کوئی باقاعدہ بات چیت ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے گزشتہ سوا سال کے دوران ملک کے لیے جو کردار ادا کیا اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی، اس کے تناظر میں یہ پیش رفت اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان جبکہ قطر، ترکیہ، پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دو معاہدے ہوئے ہیں۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور سعودی سفیر کی دوطرفہ اقتصادی تعاون پر بات چیت کی طرح دفاعی امور میں بھی پیش رفت دیکھی جا رہی ہے۔ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کے نتیجے میں یمن کے مسئلے پر ایک ممکنہ تصادم کو ٹالنے میں مدد ملی، لہذا اس حوالے سے کی جانے والی نکتہ چینی بلاجواز ہے۔
سیاسی تضادات اور مولانا فضل الرحمان کا کردار
خواجہ محمد آصف نے مولانا فضل الرحمان کی سیاست پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پوری سیاسی تاریخ تضادات سے بھری پڑی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کشمیر کاز کے لیے منصب سے مراعات حاصل کرنے اور مفت کی سواری سے لطف اندوز ہونے کے علاوہ مولانا فضل الرحمان کی کیا خدمات ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کشمیر جیسے اہم مسئلے کو عالمی فورمز پر اجاگر کرنے کے لیے کسی بھی کمیٹی کا سربراہ ایسا شخص ہونا چاہیے جس کی ساکھ پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ بلوچستان میں کامیاب آپریشن پر وزیراعظم شہباز شریف کا سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرنا اس بات کی علامت ہے کہ قومی اداروں کو سراہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم ماضی کو ذہن سے محو کرکے اپنے سیاسی مخالفین پر حملہ کرتے ہیں تو مجھے کم از کم اپنی سابقہ سیاست اور اپنے کردار کو بھی سامنے رکھنا پڑتا ہے۔
جمہوری عمل اور آئینی حکمرانی
خواجہ آصف نے کہا کہ انتخابات پر اعتراضات جمہوری عمل کا حصہ ہیں اور ان پر اختلافِ رائے ہو سکتا ہے لیکن اگر کسی جماعت کو اقتدار میں حصہ نہ ملے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ماضی کو نظرانداز کر کے تنقید شروع کر دے۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیاسی طور پر یتیم ہو چکے ہیں لیکن انہوں نے مولانا کے سائبان تلے پناہ لے لی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر آصف علی زرداری کا کیچ میں کامیاب کارروائی پر خراج تحسین پیش کرنا قومی یکجہتی کا مظہر ہے۔ وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ گروہی اور ذاتی سیاست کے بجائے آئین، جمہوریت اور ملکی سالمیت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
اہم سوالات و جوابات
وزیر دفاع نے تہران میں ہونے والی بات چیت کے بارے میں کیا وضاحت کی؟
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ تہران میں ہونے والی بات چیت وزارتِ دفاع کی کوئی باقاعدہ سرگرمی نہیں تھی، بلکہ وہاں ایک ذریعے کے ذریعے پیغام پہنچایا گیا جس سے بات چیت کی زمین ہموار ہوئی اور اس نے ممکنہ تصادم کو ٹالنے میں مدد کی۔
خواجہ محمد آصف کے مطابق سیاسی جماعتوں کو کیا طرزِ عمل اپنانا چاہیے؟
وزیر دفاع کا ماننا ہے کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قومی مفاد اور ملکی سالمیت کے معاملات پر تمام جماعتوں کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور سیاسی دباؤ کے بجائے ملکی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔
