کپاس کی پیداوار بڑھانے کیلئے زرعی شعبے میں اصلاحات کا فیصلہ
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ حکومتِ پاکستان نے کپاس کی پیداوار میں اضافے اور کاشتکاروں کے منافع کو بہتر بنانے کے لیے زرعی شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کپاس کی بحالی کے لیے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بیج کی منظوری کا عمل تیز کرنے، تحقیق کو فروغ دینے اور بین الاقوامی جینیاتی وسائل تک رسائی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔
اہم نکات
- کپاس کی پیداوار میں کمی کی وجوہات میں موسمیاتی تبدیلیاں، نقصان دہ کیڑے اور غیر معیاری بیج شامل ہیں۔
- حکومت کپاس کے بیج کی منظوری کے سات سالہ طویل طریقہ کار کو 12 سے 18 ماہ تک لانے کے لیے فاسٹ ٹریک نظام پر غور کر رہی ہے۔
- مقامی سطح پر تحقیق کو فروغ دینے کے لیے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (PARC) کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔
کپاس کی بحالی کی حکمت عملی
اجلاس میں وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق، نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (NSDRA)، پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (PARC)، پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی (PCCC)، محکمہ تحفظِ نباتات (DPP) اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (APTMA) کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ پنجاب سمیت ملک بھر میں کپاس کا زیرِ کاشت رقبہ کم ہو رہا ہے، کیونکہ کسان گنے اور مکئی جیسی فصلوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے زور دیا کہ بلوچستان میں کامیاب آپریشن پر وزیراعظم شہباز شریف کا سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین کے تناظر میں زرعی شعبے کی ترقی بھی قومی سلامتی جتنا اہم معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کی بحالی ٹیکسٹائل صنعت کی ضروریات پوری کرنے اور خام مال کی درآمد پر انحصار کم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ اجلاس میں مقامی تحقیق اور بیج کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا جو بیرونِ ملک سے کپاس کا جدید جینیاتی مواد حاصل کرنے کے طریقہ کار کا تعین کرے گی۔
درآمدی بیج اور بائیو سیکیورٹی کے تقاضے
وفاقی وزیر نے محکمہ تحفظِ نباتات کو ہدایت کی کہ پیسٹ رسک اینالیسز (PRAs) اور کنٹرولڈ امپورٹ پرمٹس (CIPs) کے معاملات ترجیحی بنیادوں پر نمٹائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈیوں میں پاکستان کی کپاس کو مسابقتی بنانے کے لیے جدید بیج اور ٹیکنالوجی تک رسائی ضروری ہے، تاہم پودوں کے تحفظ اور بائیو سیکیورٹی کے قانونی تقاضوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ پاکستان سائبر سکیورٹی کے ٹاپ ٹیئر میں شامل، وزیر شزہ فاطمہ کے بیان کے بعد اب زرعی ٹیکنالوجی میں بھی اسی طرح کے جدید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
مزید برآں، کپاس کی مشینی چنائی کو فروغ دینے کے لیے جدید مشینری پر عائد ٹیکسوں پر نظرثانی کی سفارش بھی کی گئی۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں 2 نومبر تک انٹرنیٹ کی رفتار سست رہے گی، سب میرین انٹرنیشنل کیبل کی مرمت کا کام جاری ہے، تاہم زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تحقیق کا عمل کسی بھی صورت متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ سیکرٹری وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے کہا کہ ضابطہ جاتی اصلاحات اور کاشتکاروں کے منافع میں اضافے کے لیے مربوط اقدامات ہی کپاس کی صنعت کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کر سکتے ہیں۔
اہم سوالات و جوابات
کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے کونسی اہم حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے؟
حکومت تین نکاتی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے جس میں مقامی سطح پر معیاری بیج کی تیاری، بہتر خصوصیات کے حامل درآمدی بیج کی فراہمی اور بیج کی منظوری کے عمل کو تیز کرنا شامل ہے۔
کپاس کے بیج کی منظوری کے طریقہ کار میں کیا تبدیلی متوقع ہے؟
حکومت موجودہ سات سالہ طویل منظوری کے طریقہ کار کو کم کر کے 12 سے 18 ماہ تک لانے کے لیے ایک فاسٹ ٹریک نظام متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔
