کامیابی کے لیے کیا درکار ہے

تحریر: عابد محمود مغل
کامیابی کے لیے کیا درکار ہے؟
Stephen A. Schwarzman کی کتاب What It Takes کا جامع خلاصہ
خصوصی مطالعہ: دوست نیوز ڈیسک
کامیاب لوگوں کی زندگیوں پر لکھی جانے والی بیشتر کتابیں قاری کو یہ تاثر دیتی ہیں کہ غیر معمولی کامیابی چند مخصوص عادات، کچھ متاثر کن جملوں اور مسلسل محنت کا لازمی نتیجہ ہے۔ Stephen A. Schwarzman کی کتاب What It Takes: Lessons in the Pursuit of Excellence اس روایتی تصور سے کچھ مختلف ہے۔ یہ کتاب محنت اور بلند حوصلے کی بات ضرور کرتی ہے، لیکن ساتھ یہ بھی بتاتی ہے کہ بڑے ادارے صرف جذبے سے نہیں بنتے۔ ان کی تعمیر کے لیے صحیح لوگوں کا انتخاب، مضبوط فیصلہ سازی، خطرات کا حقیقت پسندانہ جائزہ، ادارہ جاتی نظم اور طویل مدت تک قائم رہنے والی ساکھ ضروری ہوتی ہے۔
Schwarzman دنیا کی معروف سرمایہ کاری کمپنی Blackstone کے شریک بانی ہیں۔ کتاب میں وہ اپنے بچپن، تعلیم، Wall Street پر ابتدائی ملازمت، Lehman Brothers میں تجربات، Blackstone کے قیام، سرمایہ جمع کرنے کی مشکلات، بڑے کاروباری فیصلوں اور فلاحی منصوبوں تک کے سفر کو بیان کرتے ہیں۔ یہ ایک کاروباری شخصیت کی سوانح بھی ہے اور قیادت و فیصلہ سازی کا عملی مطالعہ بھی۔
ایک چھوٹے اسٹور سے بڑی دنیا کا خواب
Schwarzman نے کاروبار کو سب سے پہلے اپنے والد کے کپڑے اور گھریلو استعمال کی مصنوعات کے اسٹور میں دیکھا۔ وہ ابھی کم عمر تھے، لیکن ان کے ذہن میں ایک بنیادی سوال پیدا ہوچکا تھا: اگر ایک کاروبار کامیاب ہے تو اسے صرف ایک جگہ تک محدود کیوں رکھا جائے؟
یہاں سے کتاب کا پہلا اہم تصور سامنے آتا ہے—بڑا سوچنا۔
مصنف کے مطابق چھوٹا ہدف حاصل کرنے میں بھی وقت، توانائی اور ذہنی دباؤ صرف ہوتا ہے، اس لیے انسان کو ایسا مقصد منتخب کرنا چاہیے جس کا ممکنہ نتیجہ اس کی محنت کے مطابق بڑا ہو۔ تاہم اس کا مطلب بے بنیاد خواب دیکھنا نہیں۔ بڑا ہدف تب معنی رکھتا ہے جب اس کے پیچھے واضح ضرورت، قابلِ عمل منصوبہ اور درست ٹیم موجود ہو۔
یہی سوچ بعد میں Blackstone کے قیام میں نظر آتی ہے۔ Schwarzman اور ان کے شراکت دار Peter G. Peterson صرف ایک اور سرمایہ کاری کمپنی بنانا نہیں چاہتے تھے۔ وہ ایسا ادارہ قائم کرنا چاہتے تھے جو بہترین صلاحیت رکھنے والے افراد، سخت تجزیاتی عمل اور محتاط Risk Management کی بنیاد پر کام کرے۔
پہلی ملازمت: تنخواہ نہیں، سیکھنے کا فیصلہ
کتاب نوجوانوں کے لیے ایک اہم سبق پیش کرتی ہے۔ Schwarzman کے مطابق کیریئر کے ابتدائی مرحلے میں صرف تنخواہ، عہدے یا ادارے کی شہرت نہیں دیکھنی چاہیے۔ پہلی ملازمت کا اصل فائدہ یہ ہونا چاہیے کہ وہاں انسان کتنی تیزی سے سیکھ سکتا ہے۔
ان کے نزدیک ابتدائی پیشہ ورانہ زندگی ایک تربیتی میدان ہے۔ ایسا کام جہاں مشکل ذمہ داریاں، اعلیٰ معیار اور تجربہ کار لوگوں کی رہنمائی میسر ہو، مستقبل کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
Schwarzman نے اپنی ابتدائی ملازمتوں میں مالیاتی معاملات، کمپنیوں کے انضمام، مذاکرات اور فیصلہ سازی کا عملی تجربہ حاصل کیا۔ کئی مواقع پر وہ ایسے کاموں کے سامنے کھڑے تھے جنہیں پہلے کبھی انجام نہیں دیا تھا۔ ان حالات میں انہوں نے یہ سیکھا کہ پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے سب سے پہلے اس کے دو یا تین بنیادی نکات شناخت کرنا ضروری ہیں۔ ہر تفصیل یکساں اہم نہیں ہوتی؛ اچھا فیصلہ ساز یہ جانتا ہے کہ اصل معاملہ کہاں چھپا ہوا ہے۔
Blackstone کی بنیاد اور مسلسل انکار
کسی بڑے ادارے کی کامیابی کو بعد میں دیکھنا آسان ہوتا ہے، لیکن اس کے ابتدائی دن عموماً غیر یقینی، خاموشی اور مسترد کیے جانے سے بھرے ہوتے ہیں۔
Blackstone کے پہلے سرمایہ کاری فنڈ کے لیے رقم جمع کرتے وقت Schwarzman اور Peterson کو بار بار انکار کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی ایسے افراد اور اداروں نے بھی تعاون نہیں کیا جن سے انہیں مثبت جواب کی توقع تھی۔ ملاقاتیں منسوخ ہوئیں، وعدے پورے نہ ہوئے اور بعض اوقات طویل سفر کے بعد بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا۔
کتاب کا یہ حصہ کامیابی کے بارے میں ایک حقیقت پسندانہ تصویر پیش کرتا ہے۔ ہر انکار یہ ثابت نہیں کرتا کہ منصوبہ غلط ہے، لیکن ہر انکار کو نظر انداز کرنا بھی دانشمندی نہیں۔ اصل صلاحیت یہ ہے کہ انسان اپنے بنیادی مقصد پر قائم رہتے ہوئے طریقۂ کار کو بہتر کرتا رہے۔
استقامت کا مطلب ایک ہی غلطی کو مسلسل دہرانا نہیں؛ استقامت کا مطلب سیکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔
بہترین ٹیم اتفاق سے نہیں بنتی
Schwarzman کے نزدیک کسی کاروباری رہنما کی سب سے اہم صلاحیتوں میں سے ایک لوگوں کو درست انداز میں پرکھنا ہے۔ وہ غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے افراد کو “10 out of 10” کہتے ہیں۔
ایسے افراد صرف دی گئی ذمہ داری مکمل نہیں کرتے۔ وہ مسئلہ خود محسوس کرتے ہیں، اس کا حل تلاش کرتے ہیں اور کاروبار کے لیے نئے امکانات پیدا کرتے ہیں۔ انہیں ہر قدم پر ہدایات دینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
لیکن کتاب میں قابلیت کو کردار سے الگ نہیں کیا گیا۔ Schwarzman ایسے افراد کو ترجیح دیتے ہیں جن میں ذہنی تجسس، خود اعتمادی، دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت، حالات کے مطابق خود کو بدلنے کی اہلیت اور دیانت موجود ہو۔ ان کے مطابق انتہائی ذہین لیکن بداخلاق یا ناقابلِ اعتماد شخص بالآخر ادارے کے لیے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
ایک اچھا ادارہ صرف باصلاحیت لوگوں کا مجموعہ نہیں ہوتا؛ وہ مشترکہ اقدار، اعتماد اور ذمہ داری کے احساس سے تشکیل پاتا ہے۔
منافع سے پہلے نقصان کو سمجھیں
سرمایہ کاری کی دنیا میں مواقع ہمیشہ پُرکشش زبان کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں۔ بڑی آمدن، تیز رفتار ترقی اور غیر معمولی منافع کے امکانات فیصلہ ساز کو متاثر کرسکتے ہیں۔ Schwarzman کا طریقہ اس کے برعکس ہے۔ وہ پہلے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اگر فیصلہ غلط ثابت ہوا تو نقصان کتنا ہوگا۔
Blackstone میں رائج بنیادی سوچ کو مختصر طور پر یوں بیان کیا گیا ہے: پیسہ ضائع نہ کریں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر خطرے سے فرار اختیار کیا جائے۔ کاروبار خطرے کے بغیر نہیں چل سکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ خطرہ نامعلوم نہ رہے۔ اس کے قانونی، مالی، انتظامی اور ساکھ سے متعلق پہلو پہلے سے شناخت کیے جائیں۔
Schwarzman پریشانی یا فکر کو مکمل طور پر منفی جذبہ نہیں سمجھتے۔ اگر فکر کو درست سمت دی جائے تو وہ ممکنہ نقصان کی نشاندہی کرتی اور بروقت حفاظتی اقدام پر مجبور کرتی ہے۔ مسئلہ فکر کرنا نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ فکر کے باوجود کوئی تیاری نہ کی جائے۔
اختلافِ رائے کو جگہ دینا
بڑے اداروں میں ایک خطرہ یہ ہوتا ہے کہ سربراہ کی رائے کو آخری سچ سمجھ لیا جاتا ہے۔ ماتحت افراد اختلاف سے گریز کرتے ہیں اور کمزور فیصلہ بھی بظاہر متفقہ فیصلے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
کتاب میں ایسے نظام کی حمایت کی گئی ہے جہاں سرمایہ کاری یا کاروباری تجویز کو مختلف زاویوں سے جانچا جائے۔ کسی بھی شخص کی seniority اسے سوال سے بالاتر نہ بنائے۔ اگر جونیئر رکن کے پاس درست دلیل موجود ہے تو اسے بات کرنے کا حق اور اعتماد حاصل ہونا چاہیے۔
اس عمل کا مقصد میٹنگ کو مشکل بنانا نہیں بلکہ غلطی کو مہنگا ہونے سے پہلے پکڑنا ہے۔ مضبوط ادارہ وہ نہیں جہاں اختلاف موجود نہ ہو؛ مضبوط ادارہ وہ ہے جہاں اختلاف کو ذاتی مخالفت بنانے کے بجائے بہتر فیصلے کے لیے استعمال کیا جائے۔
نئی معلومات کے سامنے پرانا فیصلہ بدلنا
انسان عموماً اپنے فیصلوں سے جذباتی وابستگی پیدا کرلیتا ہے۔ نئی معلومات سامنے آنے کے باوجود وہ اپنی سابقہ رائے کا دفاع کرتا رہتا ہے، کیونکہ فیصلہ بدلنا اسے کمزوری محسوس ہوتا ہے۔
Schwarzman اسے کاروبار کے لیے خطرناک رویہ قرار دیتے ہیں۔ حالات بدل جائیں تو حکمتِ عملی بدلنا ناکامی نہیں بلکہ ذہنی لچک کی علامت ہے۔ جو ادارہ کامیابی کے دور میں تبدیلی کے اشارے نظر انداز کرتا ہے، وہ عموماً اس وقت بیدار ہوتا ہے جب نقصان شروع ہوچکا ہوتا ہے۔
کسی منصوبے سے محبت، اس منصوبے کے حقائق سے زیادہ اہم نہیں ہونی چاہیے۔
تعلقات ضرورت کے وقت نہیں بنتے
کتاب کا ایک نمایاں پہلو انسانی تعلقات کی اہمیت ہے۔ Schwarzman نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ان لوگوں سے رابطہ کریں جن کے کام سے متاثر ہیں۔ ان سے ملاقات یا رہنمائی کی درخواست کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔
ہر شخص جواب نہیں دے گا، لیکن بعض اوقات ایک مختصر ملاقات زندگی بھر کے تعلق، رہنمائی یا کاروباری موقع میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
تاہم تعلقات کا مقصد صرف فوری فائدہ حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل تعلق وہ ہے جس میں انسان دوسرے شخص کے مسئلے، حالات اور ضرورت کو بھی سمجھتا ہو۔ مصنف کے مطابق لوگوں کو ان کے مسائل کے حل کے لیے سوچے سمجھے خیالات پیش کیے جائیں تو انتہائی مصروف اور بااثر افراد بھی سننے پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔
دباؤ میں فوری فیصلہ نہ کریں
کاروباری دنیا میں “یہ موقع صرف آج تک ہے” یا “ابھی فیصلہ نہ کیا تو دیر ہوجائے گی” جیسے جملے عام ہیں۔ Schwarzman کے مطابق ہر فوری فیصلہ حقیقتاً فوری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات دوسرا فریق اپنی ضرورت، مفاد یا اندرونی دباؤ کی وجہ سے آپ کو جلدی فیصلہ کرنے پر مجبور کررہا ہوتا ہے۔
ایک ذمہ دار رہنما کو یہ حق استعمال کرنا چاہیے کہ وہ مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد فیصلہ کرے۔ مصنوعی ہنگامی صورتحال میں کیا گیا معاہدہ بعد میں قانونی، مالی یا انتظامی مسئلہ بن سکتا ہے۔
رفتار ضروری ہے، لیکن رفتار کو سوچ کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔
ساکھ: وہ سرمایہ جو بیلنس شیٹ میں نظر نہیں آتا
کتاب کا شاید سب سے اہم سبق ساکھ اور دیانت سے متعلق ہے۔ کاروباری ادارہ رقم کے نقصان سے دوبارہ سنبھل سکتا ہے، لیکن اعتماد کے نقصان سے نکلنا کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
سرمایہ کار، ملازمین، شراکت دار اور صارفین صرف منافع نہیں دیکھتے؛ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مشکل وقت میں ادارہ کیسا رویہ اختیار کرتا ہے۔ کیا وعدے پورے کیے جاتے ہیں؟ کیا غلطی تسلیم کی جاتی ہے؟ کیا معلومات چھپائی جاتی ہیں؟ کیا کمزور فریق کے ساتھ انصاف کیا جاتا ہے؟
اعتماد کسی ایک اشتہاری مہم سے پیدا نہیں ہوتا۔ یہ چھوٹے اور بڑے فیصلوں کے طویل سلسلے سے بنتا ہے۔
کاروبار سے آگے: بڑے مسائل کا دیرپا حل
Schwarzman نے کاروباری کامیابی کے بعد تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور عالمی قیادت سے متعلق فلاحی منصوبوں میں سرمایہ لگایا۔ ان کا مؤقف ہے کہ Philanthropy محض رقم تقسیم کرنے کا نام نہیں۔ اصل مقصد ایسا مسئلہ منتخب کرنا اور اس کے حل کے لیے ایسا ادارہ یا نظام بنانا ہے جو طویل مدت تک اثر پیدا کرسکے۔
یہی اصول کاروبار پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ وقتی کامیابی اور پائیدار ادارے میں فرق یہ ہے کہ وقتی کامیابی کسی موقع سے فائدہ اٹھاتی ہے، جبکہ پائیدار ادارہ ایسا نظام قائم کرتا ہے جو قیادت اور حالات بدلنے کے باوجود کام کرتا رہے۔
کیا یہ کامیابی کا مکمل نسخہ ہے؟
What It Takes ایک بااثر اور عملی کتاب ہے، لیکن اسے کامیابی کا واحد یا مکمل فارمولا نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس نے امریکی مالیاتی نظام، عالمی سرمایہ کاری اور طاقتور کاروباری نیٹ ورک کے اندر کامیابی حاصل کی۔ ہر مارکیٹ، معاشرہ اور کاروباری ماحول ایک جیسا نہیں ہوتا۔
مصنف کی بعض باتیں، خصوصاً بہت بڑا ہدف منتخب کرنے اور تیزی سے Scale کرنے کا تصور، ہر کاروبار پر اسی شکل میں لاگو نہیں کیا جاسکتا۔ بعض کاروباروں میں محدود مگر مستحکم ترقی زیادہ دانشمندانہ فیصلہ ہوسکتی ہے۔ اسی طرح بڑی سرمایہ کاری کمپنی کے وسائل، معلومات اور رسائی ایک نئے یا چھوٹے کاروبار کو دستیاب نہیں ہوتے۔
اس کے باوجود کتاب کے بنیادی اصول تقریباً ہر شعبے کے لیے اہم ہیں: تیاری، دیانت، درست لوگوں کا انتخاب، خطرات کی پیشگی شناخت، اختلافِ رائے کی گنجائش اور حالات کے مطابق فیصلہ بدلنے کی صلاحیت۔
حاصلِ مطالعہ
What It Takes کا بنیادی پیغام یہ نہیں کہ ہر شخص Blackstone جیسا ادارہ قائم کرسکتا ہے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ بڑے نتائج خواہش اور قسمت کے اتفاق سے پیدا نہیں ہوتے۔ ان کے پیچھے برسوں کی تربیت، بار بار مسترد کیے جانے کا تجربہ، درست لوگوں کا انتخاب، منظم فیصلہ سازی اور مسلسل خود احتسابی موجود ہوتی ہے۔
ایک اچھا کاروباری رہنما صرف مواقع تلاش نہیں کرتا؛ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کون سا موقع چھوڑ دینا چاہیے۔ وہ صرف ذہین افراد جمع نہیں کرتا بلکہ ایسا ماحول بناتا ہے جہاں ذہانت ذمہ داری کے ساتھ استعمال ہو۔ وہ صرف منافع نہیں دیکھتا بلکہ نقصان، اعتماد اور ادارے کے مستقبل کو بھی سامنے رکھتا ہے۔
کتاب کا سب سے مضبوط سبق شاید یہی ہے:
بڑا خواب دیکھنا اہم ہے، لیکن اسے حقیقت بنانے کے لیے مضبوط کردار، بہترین ٹیم، درست نظام اور مشکل فیصلے کرنے کا حوصلہ درکار ہوتا ہے۔
تجزیہ کار
اس کالم میں ظاہر کیے گئے خیالات کالم نگار کے ذاتی ہیں، ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
