آئی پی پیز کا عذاب… قوم سے بجلی نہیں، زندگی چھینی جا رہی ہے
تحریر: محمد خالد
پاکستان میں عوام صرف بجلی کے بل نہیں بھر رہے، بلکہ ایک ایسے ظالمانہ نظام کی قیمت ادا کر رہے ہیں جس نے پوری قوم کو چند طاقتور کمپنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ یہ کہانی صرف مہنگی بجلی کی نہیں، بلکہ اُس لوٹ مار کی ہے جو برسوں سے “معاہدوں” کے نام پر عوام کے خون سے کی جا رہی ہے۔
آئی پی پیز یعنی Independent Power Producers کو ملک میں بجلی بحران ختم کرنے کے نام پر لایا گیا تھا۔ دعویٰ کیا گیا کہ نجی کمپنیاں آئیں گی، سرمایہ کاری ہوگی، بجلی سستی ہوگی، لوڈشیڈنگ ختم ہوگی، اور پاکستان ترقی کرے گا۔ مگر ہوا اس کے برعکس۔ بجلی سستی ہونے کے بجائے عوام کی پہنچ سے باہر ہو گئی، صنعتیں تباہ ہو گئیں، اور ملک قرضوں کے دلدل میں دھنس گیا۔
اصل کھیل “Capacity Charges” کا ہے، اور یہی وہ لفظ ہے جس نے پوری قوم کی جیب کا گلا گھونٹ رکھا ہے۔
کیپیسٹی چارجز کا مطلب یہ ہے کہ چاہے بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، حکومت ان کمپنیوں کو اربوں روپے ادا کرے گی۔ یعنی اگر پلانٹس بند بھی پڑے ہوں، تب بھی عوام ان کے اخراجات، منافع، اور ڈالر میں ادائیگیاں کریں گے۔ دنیا میں شاید ہی کہیں ایسا ظلم ہو کہ قوم اندھیرے میں بیٹھی ہو مگر بجلی کمپنیوں کے منافع پورے دیے جا رہے ہوں۔
آج پاکستان میں بجلی کا بڑا حصہ ان ہی معاہدوں کی وجہ سے مہنگا ہے۔ ہر مہینے عوام کے بلوں میں ایسے ایسے ٹیکس اور سرچارج ڈال دیے جاتے ہیں کہ اصل بجلی کم اور لوٹ مار زیادہ نظر آتی ہے۔ ایک غریب آدمی پنکھا چلانے سے پہلے بل کا سوچتا ہے، مگر آئی پی پیز کو اربوں کی ادائیگیاں وقت پر کر دی جاتی ہیں۔
یہ کیسا نظام ہے جہاں عوام بجلی کم استعمال کریں تب بھی بل زیادہ آتا ہے؟ کیونکہ اصل پیسہ بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ Capacity Payments پر لیا جا رہا ہے۔ یعنی قوم اُس بجلی کی قیمت بھی ادا کر رہی ہے جو بنی ہی نہیں یا استعمال ہی نہیں ہوئی۔
سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ یہ معاہدے ڈالر میں کیے گئے۔ جب ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو ادائیگیوں کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ روپے کی قدر گرتی ہے، مگر آئی پی پیز کے منافع کم نہیں ہوتے۔ عوام کی جیب خالی ہو جائے، صنعت بند ہو جائے، کاروبار تباہ ہو جائے، مگر ان کمپنیوں کی ادائیگی رکنی نہیں چاہیے۔
یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں، قومی المیہ ہے۔ مہنگی بجلی نے پاکستان کی صنعت کا پہیہ توڑ دیا۔ فیکٹریاں بند ہوئیں، سرمایہ کار بھاگے، بے روزگاری بڑھی، اور عام آدمی کی زندگی جہنم بنتی گئی۔ ایک طرف عوام بل نہ بھرنے پر ذلیل ہوتے ہیں، دوسری طرف اربوں روپے کے معاہدے کرنے والے آج بھی طاقتور ہیں۔
حکومتیں بدلتی رہیں، مگر آئی پی پیز کے معاہدے نہیں بدلے۔ کیوں؟ کیونکہ اس کھیل میں صرف کمپنیاں نہیں، طاقتور مفادات بھی شامل رہے۔ عوام کو ہمیشہ کہا گیا کہ “بجلی چوری” مسئلہ ہے، مگر کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اصل بوجھ ان ظالمانہ معاہدوں کا ہے جنہوں نے پورے ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
آج ایک سفید پوش آدمی بجلی کا بل دیکھ کر کانپ جاتا ہے۔ کئی گھروں میں لوگ اے سی تو دور، پنکھا چلانے سے بھی ڈرتے ہیں۔ بچے گرمی میں تڑپتے ہیں، چھوٹے دکاندار بلوں سے پریشان ہیں، اور صنعت کار فیکٹریاں بند کر رہے ہیں۔ مگر دوسری طرف Capacity Charges کے نام پر اربوں روپے خاموشی سے چند جیبوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔
یہ صرف لوٹ مار نہیں، یہ ریاستی سطح پر ایسا معاشی ظلم ہے جس نے عوام کو زندہ رہنے کی سزا دے دی ہے۔
قوم سے کہا جاتا ہے کہ بجلی بچاؤ۔ مگر سوال یہ ہے کہ عوام بجلی بچائیں یا اپنے بچے؟ کاروبار چلائیں یا بل بھریں؟ کھانا کھائیں یا میٹر چلنے سے ڈریں؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں بجلی بحران نہیں، انصاف کا بحران ہے۔ جب تک یہ ظالمانہ معاہدے، Capacity Charges، اور اشرافیہ کے مفادات ختم نہیں ہوں گے، تب تک عوام اندھیروں سے نہیں نکل سکیں گے۔
کیونکہ اس ملک میں بجلی صرف مہنگی نہیں…
بلکہ عوام کا خون جلا کر پیدا کی جا رہی ہے۔

Leave a Reply