بدھ، 13 مئی 2026 ☀️ اسلام آباد: C°26
تازہ ترین
بلاگ

اشرافیہ کی فلاحی ریاست کو توڑنا ہوگا

📅 Tuesday، 12 May 2026 ✍️ Muhammad Khalid ⏱ 4 منٹ مطالعہ 💬 کوئی تبصرہ نہیں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Approved ✅ Easy Installments ✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing
f 𝕏 in شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا


تحریر: محمد خالد
یہ ملک غریبوں کے لیے نہیں رہا۔ یہاں ریاست صرف طاقتور کے لیے نرم ہے، قانون صرف کمزور کے لیے سخت ہے، اور قربانی صرف عوام کے حصے میں آتی ہے۔ ایک طرف حکمران قوم کو صبر، قربانی اور حب الوطنی کے درس دیتے ہیں، دوسری طرف اسی قوم کے ٹیکسوں پر پلنے والی اشرافیہ شاہانہ زندگیاں گزارتی ہے۔
یہاں ایک مزدور سارا دن دھوپ میں جل کر بھی بچوں کے لیے دودھ نہیں خرید سکتا، مگر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کے پروٹوکول کم نہیں ہوتے۔ عوام بجلی کے بل دیکھ کر کانپ اٹھتے ہیں، جبکہ سرکاری محلات کی روشنیاں کبھی مدھم نہیں پڑتیں۔ غریب کے لیے ایک یونٹ بجلی بھی عذاب بن چکا ہے مگر اشرافیہ کے اے سی، گاڑیاں، مفت پٹرول اور شاہ خرچیاں آج بھی قوم کے خون سے چل رہی ہیں۔
یہ کیسا نظام ہے جہاں ایک نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے دروازے دروازے نوکری ڈھونڈتا پھرتا ہے، مگر سفارش، تعلق اور طاقت رکھنے والے نااہل لوگ بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوتے ہیں؟ اس ملک میں قابلیت نہیں، تعلق چلتا ہے۔ محنت نہیں، طاقت بولتی ہے۔
اصل تباہی مہنگائی نہیں، اصل تباہی وہ نظام ہے جس نے عوام کو نچوڑ کر چند خاندانوں، مافیاز اور طاقتور طبقات کے لیے ایک “فلاحی ریاست” بنا دی ہے۔ یہاں غریب آدمی ٹیکس دے کر بھی ذلیل ہوتا ہے جبکہ بڑے بڑے مگرمچھ قرضے کھا کر معزز کہلاتے ہیں۔
جب ملک مشکل میں ہوتا ہے تو عوام پر نئے ٹیکس لگا دیے جاتے ہیں۔ بجلی مہنگی، پٹرول مہنگا، گیس مہنگی، آٹا مہنگا۔ مگر کبھی کسی حکمران نے اپنے محلات بیچے؟ کبھی کسی وزیر نے اپنے پروٹوکول چھوڑے؟ کبھی کسی طاقتور طبقے نے اپنی مراعات قربان کیں؟ نہیں۔ کیونکہ اس ملک میں قربانی صرف عوام کے لیے لکھی گئی ہے۔
سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اب عوام صرف غریب نہیں رہے، وہ ذہنی طور پر بھی ٹوٹ رہے ہیں۔ ایک باپ جب بچوں کی فیس نہ دے سکے، ایک ماں علاج نہ کروا سکے، ایک نوجوان روزگار نہ پا سکے تو صرف جیب خالی نہیں ہوتی، انسان اندر سے مرنا شروع ہو جاتا ہے۔
یہ ملک وسائل کی کمی سے نہیں، انصاف کی کمی سے تباہ ہو رہا ہے۔ یہاں دولت کم نہیں، مگر چند ہاتھوں میں قید ہے۔ یہاں قانون موجود ہے، مگر صرف کمزور کے لیے۔ یہاں ریاست موجود ہے، مگر عوام کے لیے نہیں۔
اور شاید سب سے بڑا ظلم یہی ہے کہ اشرافیہ نے اس ملک کو اپنی جاگیر سمجھ لیا ہے۔ ان کے بچے بیرون ملک، علاج بیرون ملک، کاروبار بیرون ملک، سرمایہ بیرون ملک… مگر غریب کے لیے صرف لمبی قطاریں، مہنگائی، بے روزگاری اور وعدے۔
اگر واقعی اس ملک کو بچانا ہے تو صرف چہرے بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ اس پورے استحصالی نظام کو توڑنا ہوگا جہاں طاقت چند خاندانوں کے گرد گھومتی ہے اور عوام صرف ووٹ اور ٹیکس دینے کی مشین بن چکے ہیں۔
ورنہ ایک دن ایسا آئے گا جب اس ملک میں سب کچھ ہوگا…
محلات بھی، پروٹوکول بھی، اقتدار بھی…
مگر خوشحال عوام نہیں ہوں گے۔

ٹیگز: #elite class #welfare state

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *