یورپی یونین طویل عرصے سے پاکستان کے اہم ترین تجارتی اور ترقیاتی شراکت داروں میں شامل رہی ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال
اسلام آباد۔29اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ یورپی یونین طویل عرصے سے پاکستان کے اہم ترین تجارتی اور ترقیاتی شراکت داروں میں شامل رہی ہے، یورپی یونین نے پاکستانی مصنوعات کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی، معیار میں بہتری، گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات کے فروغ کے ساتھ ساتھ پائیداری، شمولیت اور مسابقتی معیشت کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔یورپی یونین پاکستان بزنس فورم 2026 کے عشائیے سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان دیرینہ اقتصادی و ترقیاتی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے سفیر ریمنڈاس کاروبلس کا ایک کامیاب فورم کے انعقاد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان 24 کروڑ سے زائد آبادی، نوجوان اور باصلاحیت افرادی قوت اور منفرد جغرافیائی حیثیت کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور چین کو جوڑنے والا قدرتی اقتصادی گیٹ وے ہے جبکہ زراعت، ٹیکسٹائل، آئی ٹی، قابلِ تجدید توانائی، انجینئرنگ گڈز، معدنیات، لاجسٹکس، فارماسیوٹیکل اور گرین اکانومی جیسے شعبوں میں وسیع سرمایہ کاری مواقع موجود ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یورپی یونین کے ساتھ مضبوط شراکت داری پاکستان کو عالمی ویلیو چین میں اوپر لے جانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اب تعلقات کو صرف روایتی تجارت تک محدود رکھنے کے بجائے مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی پارٹنرشپس، ہنرمندی کے فروغ، گرین انڈسٹریل تعاون، ڈیجیٹل انوویشن پلیٹ فارمز اور پائیدار سپلائی چینز کی تشکیل کی جانب بڑھانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خود کو صرف صارفین کی منڈی کے طور پر نہیں بلکہ پیداوار، جدت، خدمات اور برآمدات کے علاقائی مرکز کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ یورپی کمپنیاں پاکستان میں صرف اپنی مصنوعات فروخت نہ کریں بلکہ یہاں پیداوار کریں، پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری قائم کریں اور پاکستان سے علاقائی و عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کریں۔احسن اقبال نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کاروبار کے لیے کھلا، شراکت داری کے لیے تیار اور معاشی تبدیلی کے سفر پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کو ترقی کا اصل انجن بنانے، اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد تیز کرنے اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک سازگار، شفاف اور پائیدار کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

Leave a Reply