اسلام آباد — “خوابوں کا شہر یا سرابوں کی بستی؟”
قسط 01:
اسلام آباد کس طرح اپنی چمک کے پیچھے اندھیروں کو چھپائے بیٹھا ہے۔

عابد محمود مغل
“آداب! آج سے ہم ایک ایسی دستاویزی سیریز کا آغاز کر رہے ہیں جو آپ کو اس شہر کی سیر کروائے گی جسے پاکستان کا دل اور ‘شہرِ اقتدار’ کہا جاتا ہے۔ اسلام آباد، جو دیکھنے میں تو خاموش اور پرسکون ہے، مگر اس کے سناٹے بھی بہت کچھ بولتے ہیں۔ اس سیریز کی پہلی کڑی میں ہم اس شہر کے بننے، اس کی منصوبہ بندی اور اس کے پسِ پردہ چھپے تضادات کی حقیقت جانیں گے۔ آئیے، اسلام آباد کی پرتیں کھولتے ہیں۔”
مارگلہ کے دامن میں بسا یہ شہر محض کنکریٹ، اینٹوں اور سیمنٹ کا بے جان مجموعہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسی زندہ جاوید تجربہ گاہ ہے جہاں ساٹھ کی دہائی میں ایک طاقتور فوجی حکمران کی انا اور ایک یونانی نقشہ نویس کی لکیروں نے باہم مل کر ایک نیا خواب بُنا تھا۔ اسلام آباد اس مغرور اور بنتی سنورتی محبوبہ کی مانند ہے جس کا ظاہری روپ تو پیرس اور لندن کی جدیدیت سے ہم آہنگ ہونے کی تڑپ رکھتا ہے مگر اس کا دل آج بھی راولپنڈی کے راجہ بازار کی تنگ و تاریک گلیوں اور شور شرابے میں دھڑکتا ہے۔ یہ شہر ایک عجیب تضاد کا حامل ہے جہاں کی شاہراہیں اتنی سیدھی اور ہموار ہیں کہ انسان اگر بھٹکنا بھی چاہے تو جدید برقی نقشہ اسے زبردستی سیدھے راستے پر لے آتا ہے، مگر ان ہموار سڑکوں کے پسِ پردہ چھپی ہوئی کہانیاں اتنی ہی پیچیدہ اور ٹیڑھی ہیں جتنی ہمارے ملک کی سیاسی بساط اور اس پر چلنے والی چالیں ہوتی ہیں۔ جب سورج مارگلہ کی چوٹیوں کے پیچھے سے طلوع ہوتا ہے تو وہ سب سے پہلے ان ایوانوں کو منور کرتا ہے جہاں فیصلے صادر کیے جاتے ہیں، لیکن اسی روشنی میں ان کچی آبادیوں کا نوحہ بھی صاف نظر آتا ہے جنہیں یہ شہر اپنے دامن میں چھپانے سے قاصر رہا ہے۔
1959ء کا وہ وقت یاد کیجیے جب کراچی کی حبس زدہ سیاست اور سمندر کی نمکین ہواؤں نے اس وقت کے مقتدر حلقوں کا دم گھونٹنا شروع کیا تو ایک ایسی پناہ گاہ کی ضرورت محسوس کی گئی جو عوامی احتجاج کے شور سے دور ہو اور جہاں اقتدار کے ایوانوں کو کسی عوامی ردِعمل کا خوف نہ رہے۔ چنانچہ یونانی ماہرِ تعمیرات کانسٹنٹینوس ڈوکسیادس کو بلایا گیا جس نے ترسیمی کاغذ پر نو سو چھ مربع کلومیٹر کا ایک ایسا ریاضیاتی جال بچھایا جس نے صدیوں قدیم پوٹھوہاری ثقافت، یہاں کے قدیم پیپل کے درختوں اور صدیوں سے بہتے چشموں کو جدید قطعات اور حلقوں میں قید کر دیا۔ یہ شہر کسی گراف پیپر پر ابھرتی ہوئی ایک ایسی ریاست تھی جہاں ہر چیز کے لیے ایک مخصوص خانہ مختص تھا، مگر منصوبہ ساز یہ بھول گئے کہ انسانی جذبات اور معاشرتی ضروریات کو خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام آباد آج کسی لاڈلے چھوٹے بھائی کی طرح اپنے بڑے بھائی راولپنڈی کے کاندھوں پر سوار ہے، جس نے اپنا سکون، اپنی سڑکیں، اپنا پینے کا صاف پانی اور اپنی قدیم شناخت اس “شہرِ بے مثال” کی چمک دمک کے لیے قربان کر دی، مگر جواب میں اسے صرف ٹریفک کا نہ ختم ہونے والا اژدھام اور “جڑواں شہر” کا ایک ایسا طوق ملا جو اس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔
2026ء کے جدید تناظر میں اگر ہم اس شہر کا معاشی نقشہ دیکھیں تو ہوش ربا حقائق سامنے آتے ہیں کہ ساٹھ کی دہائی میں جو زمین کوڑیوں کے بھاؤ میسر تھی، آج وہاں کا ایک مرلہ خریدنے کے لیے ایک عام سفید پوش شہری کو اپنی تین نسلوں کی جمع پونجی داؤ پر لگانی پڑتی ہے۔ یہ شہر اب محض افسر شاہی کا مسکن نہیں رہا بلکہ یہ سرمایہ داروں کی وہ چراگاہ بن چکا ہے جہاں پلاٹوں کی فائلیں کرنسی نوٹوں سے زیادہ تیزی سے ہاتھ بدلتی ہیں۔ یہاں کے نالے یہ گواہی دیتے ہیں کہ کاغذوں پر کی گئی مثالی منصوبہ بندی میں زمینی حقیقتوں کے کتنے بڑے سوراخ رہ گئے تھے کہ ذرا سی بارش اس شہر کے جدید نظام کا پول کھول دیتی ہے۔ طبقاتی کشمکش کی اس سے بدتر مثال کیا ہوگی کہ ایک طرف ایف-سکس اور ای-سیون کے وہ شیش محل ہیں جن کی دیواروں سے بھی متمول طبقے کی خوشبو آتی ہے اور دوسری طرف جی-سیون اور جی-ایٹ کے وہ سرکاری کوارٹر ہیں جہاں تیسری نسل بھی اسی بوسیدہ مکان میں “صاحبِ بہادر” بننے کا ادھورا خواب آنکھوں میں سجائے ریٹائرمنٹ کی دہلیز تک پہنچ جاتی ہے۔ یہاں کا “باہو” کلچر اور افسر شاہی کا غرور اس شہر کی فضاؤں میں رچا بسا ہے جہاں گاڑی کی نمبر پلیٹ کا رنگ اور سائرن کی آواز یہ طے کرتی ہے کہ قانون آپ کے سامنے جھکے گا یا آپ کو قانون کی دیوار سے لگائے گا۔
اسلام آباد کی راتیں اب وہ پرسکون راتیں نہیں رہیں جن کا ذکر پرانی کتابوں میں ملتا ہے، اب یہاں کا شور پنڈی کے شور سے ہم کلام ہونے لگا ہے۔ یہاں کی فائلیں اگر واقعی چلنا شروع کر دیں تو شاید یہ ملک اپنی تقدیر بدل لے، مگر وہ فائلیں صرف میز کے نیچے سے گزرنے کا خفیہ فن جانتی ہیں اور جب تک وہ میز کے نیچے سے نہیں گزرتیں، تب تک اس شہر کے نظام کا پہیہ جام رہتا ہے۔ یہ شہر ایک ایسا آئینہ خانہ ہے جہاں ہر شخص دوسرے کو نیچا دکھانے کی تگ و دو میں مصروف ہے، جہاں برانڈڈ لباس اور مہنگی گاڑیاں ہی انسان کی پہچان بن چکی ہیں۔ مارگلہ کی بلندیاں جہاں سے شہر کا نظارہ ایک سحر انگیز خواب کی مانند لگتا ہے، وہیں سے نیچے جھانکیں تو ان کچی بستیوں کا دھواں بھی نظر آتا ہے جنہیں شہر کی انتظامیہ اپنے ریکارڈ سے مٹانا چاہتی ہے مگر وہ بستیاں اس شہر کے وجود کا وہ ناگزیر حصہ بن چکی ہیں جن کے بغیر اس شہر کی عالیشان کوٹھیوں کا نظام نہیں چل سکتا۔ اسلام آباد ایک ایسا ادھورا خواب ہے جسے ہر حکمران نے اپنے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی، مگر یہ شہر آج بھی ایک مکمل معمہ ہے جس کی تہیں جتنی کھولی جائیں، اتنے ہی نئے تضادات سامنے آتے ہیں۔ یہ شہر سڑکیں تو صاف رکھتا ہے مگر اپنے دامن میں پلنے والی نفرتوں اور محرومیوں کے میل کو چھپانے کے ہنر میں بھی کمال رکھتا ہے، جہاں کی خاموشی میں بھی ایک خاص قسم کا جاہ و جلال ہے جو عام آدمی کو احساسِ کمتری میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہے۔ آئندہ جب ہم اس شہر کے تعلیمی نظام اور بازاروں کی بات کریں گے تو یہ حقیقت مزید واضح ہوگی کہ اسلام آباد کس طرح اپنی چمک کے پیچھے اندھیروں کو چھپائے بیٹھا ہے۔
“یہ تو تھا اس شہر کا ظاہری نقشہ اور اس کے قیام کی کہانی۔ لیکن کیا اس کی سیدھی سڑکیں یہاں بسنے والے انسانوں کی زندگیوں اور ان کے الجھے ہوئے مسائل کو بھی سیدھا کر پائیں؟ آئندہ قسط میں ہم اس شہر کے ان بازاروں اور گلیوں کا رخ کریں گے جہاں سادگی اور نمائش کا ایک عجیب ٹکراؤ نظر آتا ہے۔ جڑے رہیے اس سفر کے ساتھ، کیونکہ ابھی بہت سی سچائیاں سامنے آنا باقی ہیں۔ اللہ حافظ!”
اسلام آباد کی تاریخ، مارگلہ کے دامن میں، ایوب خان کا فیصلہ، اسلام آباد بمقابلہ راولپنڈی، جدید اسلام آباد 2026، بیوروکریسی کا گڑھ، اسلام آباد دستاویزی سیریز، پوٹھوہار کی زمین، نقشہ اسلام آباد، پاکستان کا دارالحکومت۔ Islamabad History, Margalla Hills, Rawalpindi vs Islamabad, Capital of Pakistan, Documentary Urdu, City Planning, Doxiadis Islamabad.
#Islamabad #Documentary #MargallaHills #PakistanHistory #CapitalCity #AbidMehmoodMughal

Leave a Reply