مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 17°C
جمعہ، 30 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.91 EUR/PKR 308.64 GBP/PKR 368.46 سونا/تولہ (عالمی) 416,638 PKR Bitcoin $80,734 USD/PKR 276.91 EUR/PKR 308.64 GBP/PKR 368.46 سونا/تولہ (عالمی) 416,638 PKR Bitcoin $80,734
رائے و تجزیہ

وفاقی بجٹ 2026-27: صحت، سماجی تحفظ، بی آئی ایس پی، ادویات اور عوامی ریلیف کے منصوبوں کا مکمل جائزہ

📅 🔄 اپ ڈیٹ: ✍️ ⏱ 20 منٹ
وفاقی بجٹ 2026-27، غربت، خواتین، بچے، مزدور، بی آئی ایس پی اور کمزور طبقات پر اثرات
وفاقی بجٹ 2026-27، غربت، خواتین، بچے، مزدور، بی آئی ایس پی اور کمزور طبقات پر اثرات
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

نمائندہ خصوصی

اسلام آباد، دوست نیوز خصوصی رپورٹ: وفاقی بجٹ 2026-27 میں صحت، سماجی تحفظ اور عوامی ریلیف کو ایک ایسے وقت میں اہم پالیسی محور کے طور پر پیش کیا گیا ہے جب عام پاکستانی گھرانہ مہنگائی، علاج کے اخراجات، ادویات کی قیمتوں، بے روزگاری، محدود آمدن، بجلی و گیس بلوں اور خوراک کے بڑھتے خرچ سے مسلسل دباؤ میں ہے۔ حکومت نے اس بجٹ میں سماجی تحفظ کے سب سے بڑے پروگرام، یعنی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، کو مزید وسیع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت coverage کو 12 ملین خاندانوں تک بڑھانے، 9.2 ملین بچوں کو تعلیمی وظائف دینے، اور BISP کے لیے 838 ارب روپے رکھنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

یہ بجٹ صحت کے روایتی سرکاری ڈھانچے سے زیادہ ایک وسیع social protection framework کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں حکومت براہِ راست غریب خاندانوں، خواتین، بچوں، کم آمدن گھروں اور کمزور طبقوں تک مالی مدد، تعلیمی وظائف، ہدفی سبسڈی اور بنیادی سہولتوں کے ذریعے پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بجٹ کی خاص بات یہ ہے کہ حکومت subsidies کو عمومی انداز میں دینے کے بجائے BISP جیسے data-based نظام کے ذریعے زیادہ targetted اور direct بنانے کا اشارہ دے رہی ہے، تاکہ ریلیف واقعی ان خاندانوں تک پہنچے جنہیں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

صحت اور سماجی تحفظ بجٹ کا مرکزی سوال: ریلیف کس تک پہنچے گا؟

پاکستان میں صحت کا مسئلہ صرف اسپتال بنانے یا ڈاکٹر تعینات کرنے تک محدود نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب کسی غریب یا متوسط گھرانے میں کوئی فرد بیمار ہوتا ہے تو پورے گھر کا بجٹ بکھر جاتا ہے۔ ادویات مہنگی ہیں، ٹیسٹ مہنگے ہیں، نجی اسپتال عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں، سرکاری اسپتالوں میں رش ہے، ڈاکٹروں اور سہولتوں کا دباؤ ہے، اور بہت سے خاندان علاج کے لیے قرض لینے یا زیور بیچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحت اور سماجی تحفظ کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔

وفاقی بجٹ 2026-27 اس حقیقت کو تسلیم کرتا دکھائی دیتا ہے کہ کمزور طبقوں کے لیے صرف معاشی شرح نمو کافی نہیں، انہیں براہِ راست ریلیف بھی چاہیے۔ اگر کوئی خاندان خوراک، علاج، بچوں کی تعلیم اور بجلی کے بل کے درمیان پھنس جائے تو اسے macroeconomic stability سے فوری فائدہ محسوس نہیں ہوتا۔ اسی لیے حکومت نے BISP، تعلیمی وظائف، targeted subsidy اور عوامی ریلیف کو بجٹ کے اہم سماجی ستون کے طور پر رکھا ہے۔

بی آئی ایس پی کے لیے 838 ارب روپے: سماجی تحفظ کا سب سے بڑا ستون

بجٹ میں BISP کے لیے 838 ارب روپے رکھنے کا اعلان پاکستان کے سماجی تحفظ کے نظام میں اس پروگرام کی مرکزی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام گزشتہ کئی برسوں سے کم آمدن گھرانوں، خاص طور پر خواتین سربراہان خاندان، بیواؤں، بے سہارا افراد، غریب بچوں اور پسماندہ علاقوں کے لیے مالی مدد کا اہم ذریعہ رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کی coverage کو مزید بڑھایا جائے گا تاکہ زیادہ خاندانوں تک مدد پہنچ سکے۔

838 ارب روپے کی رقم صرف ایک بجٹ لائن نہیں بلکہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاست اب poverty relief کو welfare charity نہیں بلکہ social safety net کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں غیر رسمی روزگار بہت زیادہ ہے، مزدوروں کی بڑی تعداد سوشل سکیورٹی سے باہر ہے، دیہی غربت گہری ہے، خواتین کی معاشی شرکت محدود ہے اور صحت و تعلیم کے اخراجات بڑھ رہے ہیں، وہاں BISP جیسے پروگرام غریب خاندانوں کے لیے زندگی کی بنیادی ڈھال بن جاتے ہیں۔

12 ملین خاندانوں تک coverage: بڑا ہدف، بڑا امتحان

حکومت نے BISP کی coverage کو 12 ملین خاندانوں تک بڑھانے کا ہدف رکھا ہے۔ یہ فیصلہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ مہنگائی اور معاشی سست روی نے صرف انتہائی غریب طبقے کو نہیں بلکہ lower middle class کو بھی متاثر کیا ہے۔ بہت سے خاندان ایسے ہیں جو سرکاری تعریف کے مطابق شاید غریب نہ کہلائیں، مگر علاج، تعلیم، کرایہ، خوراک اور یوٹیلیٹی بلوں کے بعد ان کے پاس بچت نہیں رہتی۔ coverage بڑھانے سے ایسے گھرانوں تک مدد پہنچنے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

تاہم coverage بڑھانا آسان نہیں۔ اس کے لیے درست data، شفاف eligibility، poverty scorecard کی updating، جعلی beneficiaries کی نشاندہی، نئے مستحق خاندانوں کی registration، خواتین تک access، بینکنگ یا ڈیجیٹل payment system، اور شکایات کے فوری حل کا نظام ضروری ہو گا۔ اگر data پرانا یا سیاسی دباؤ کا شکار ہوا تو حقیقی مستحق باہر رہ سکتے ہیں اور غیر مستحق اندر آ سکتے ہیں۔ اس لیے 12 ملین خاندانوں کا ہدف سماجی تحفظ کے لیے بڑا موقع بھی ہے اور governance کا بڑا امتحان بھی۔

9.2 ملین بچوں کے لیے تعلیمی وظائف: غربت اور تعلیم کے درمیان پل

بجٹ میں 9.2 ملین بچوں کو تعلیمی وظائف دینے کا ذکر خاص طور پر اہم ہے۔ پاکستان میں غربت کا سب سے بڑا اثر بچوں کی تعلیم پر پڑتا ہے۔ جب گھر میں آمدن کم ہو، والدین علاج، خوراک، کرایہ اور بلوں میں پھنسے ہوں، تو بچے اسکول چھوڑ کر مزدوری، گھر کے کام، یا چھوٹے موٹے روزگار میں لگ جاتے ہیں۔ خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم ایسے حالات میں سب سے پہلے متاثر ہوتی ہے۔

تعلیمی وظائف کا مقصد صرف نقد رقم دینا نہیں بلکہ بچوں کو اسکول سے جوڑے رکھنا ہے۔ اگر خاندان کو یہ احساس ہو کہ بچے کے اسکول جانے سے کچھ مالی سہارا بھی ملے گا تو dropout کم ہو سکتا ہے۔ مگر اس کے لیے لازم ہے کہ وظائف attendance، enrollment، school verification اور learning outcomes سے مضبوط انداز میں جڑے ہوں۔ صرف رقم دینے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا؛ اسکول کا معیار، استاد کی موجودگی، کتابیں، ٹرانسپورٹ، لڑکیوں کے لیے محفوظ ماحول اور بنیادی سہولتیں بھی ضروری ہیں۔

خواتین کے لیے سماجی تحفظ: BISP کا اہم پہلو

BISP کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ اس کا بڑا حصہ خواتین کے ذریعے خاندان تک پہنچتا ہے۔ پاکستان کے غریب گھرانوں میں خواتین اکثر گھر کا روزمرہ بجٹ سنبھالتی ہیں، بچوں کی تعلیم، خوراک، علاج اور بنیادی ضروریات کا انتظام کرتی ہیں۔ جب مالی مدد براہِ راست عورت کے ہاتھ میں آتی ہے تو اس کے اثرات بچوں کی خوراک، تعلیم اور صحت پر زیادہ مثبت ہو سکتے ہیں۔

بجٹ 2026-27 میں BISP کی توسیع خواتین کی معاشی حیثیت، financial inclusion اور سماجی تحفظ کے لیے اہم ہے۔ لیکن اس کے ساتھ خواتین کی آسان registration، شناختی کارڈ، بینک یا ڈیجیٹل wallet access، biometric مشکلات، سفر کے اخراجات، payment centers پر رش، اور privacy جیسے مسائل بھی حل کرنے ہوں گے۔ اگر عورت کو امداد لینے کے لیے کئی کلومیٹر سفر کرنا پڑے، رش میں کھڑا ہونا پڑے یا کٹوتی کا سامنا ہو تو پروگرام کا dignity-based مقصد متاثر ہو جاتا ہے۔

صحت کے اخراجات اور غریب گھرانہ

پاکستان میں health shocks یعنی اچانک بیماری یا حادثہ غربت کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔ ایک operation، cancer treatment، dialysis، دل کی بیماری، delivery complications، بچوں کی بیماری یا ادویات کا مستقل خرچ ایک غریب گھر کو قرض میں دھکیل سکتا ہے۔ بجٹ میں اگرچہ صحت کے specific hospital allocations کو صوبائی دائرہ کار کے باعث محدود انداز میں دیکھا جاتا ہے، مگر سماجی تحفظ کے ذریعے غریب خاندانوں کی مالی سکت بڑھانا health protection کا بھی حصہ ہے۔

یہاں حکومت کے لیے اصل چیلنج یہ ہو گا کہ مالی امداد کو صحت سہولتوں سے کیسے جوڑا جائے۔ اگر BISP beneficiaries کو صحت insurance، سرکاری اسپتالوں میں priority access، maternal care، بچوں کی ویکسینیشن، nutrition support، اور chronic diseases کے لیے subsidized medicines سے جوڑا جائے تو سماجی تحفظ کا اثر کہیں زیادہ بڑھ سکتا ہے۔ صرف cash transfer وقتی ریلیف دیتا ہے؛ health-linked social protection خاندان کو طویل مدتی تحفظ دیتا ہے۔

ادویات کی قیمتیں: عام آدمی کا بڑا درد

ادویات کی قیمتیں ہر گھر کا مسئلہ بن چکی ہیں۔ بلڈ پریشر، شوگر، دل، گردے، سانس، بچوں کی بیماری، خواتین کی صحت اور بزرگوں کی ادویات پر ماہانہ خرچ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ غریب اور متوسط خاندان کے لیے ادویات کا خرچ اکثر کھانے پینے کے بجٹ سے مقابلہ کرتا ہے۔ بجٹ کے سماجی تحفظ والے اقدامات اس وقت زیادہ مؤثر ہوں گے جب حکومت ادویات کی دستیابی، قیمتوں کے استحکام، generic medicines، سرکاری اسپتالوں میں مفت یا subsidized دوا، اور ضلعی سطح پر essential medicines کی supply کو بہتر بنائے۔

اگر BISP beneficiary کو cash تو ملے مگر دوا مارکیٹ سے مہنگی خریدنی پڑے تو ریلیف کا بڑا حصہ علاج میں خرچ ہو جائے گا۔ اس لیے صحت اور سماجی تحفظ کو integrated policy کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ کم آمدن خاندانوں کے لیے essential medicines package، chronic patients support اور maternal-child health medicines کو خاص ترجیح دے۔

اسپتالوں کا دباؤ: وفاق اور صوبوں کی مشترکہ ذمہ داری

18ویں ترمیم کے بعد صحت بنیادی طور پر صوبائی ذمہ داری ہے، مگر وفاقی بجٹ پھر بھی قومی health policy، بڑے tertiary hospitals، اسلام آباد، وفاقی علاقوں، special programs، vaccines، disease surveillance، public health emergencies اور social protection financing کے ذریعے صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے وفاقی سطح کے سماجی تحفظ اقدامات صوبائی health delivery کے ساتھ جڑیں تو عام مریض کو زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

پاکستان کے سرکاری اسپتال پہلے ہی مریضوں کے غیر معمولی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر، نرسز، beds، ventilators، medicines، diagnostic tests، emergency services اور outpatient departments پر رش ہے۔ اگر سماجی تحفظ پروگرامز صحت سہولت سے نہ جڑیں تو غریب مریض کو cash help کے باوجود مناسب علاج نہیں ملے گا۔ یہی وجہ ہے کہ health financing اور health service delivery دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔

Targeted Subsidy: BISP کے ذریعے direct relief کا نیا راستہ

بجٹ میں subsidies کو BISP کے ذریعے direct یا targeted بنانے کا اشارہ بھی اہم ہے۔ ماضی میں عمومی سبسڈی کا فائدہ اکثر امیر اور غریب دونوں کو ملتا تھا۔ مثال کے طور پر بجلی، گیس یا خوراک کی عمومی رعایت زیادہ استعمال کرنے والے بہتر آمدن طبقات تک بھی پہنچ جاتی تھی، جبکہ کمزور طبقے کو محدود فائدہ ملتا تھا۔ Targeted subsidy کا تصور یہ ہے کہ ریاست subsidy کو براہِ راست مستحق خاندان تک پہنچائے، نہ کہ نظام میں ضائع ہونے دے۔

اگر یہ نظام درست data، شفاف eligibility اور digital payments کے ساتھ نافذ ہو تو حکومت کم رقم میں زیادہ مؤثر ریلیف دے سکتی ہے۔ لیکن اگر data غلط ہوا، payment delays ہوئیں، یا لوگوں کو registration میں مشکلات پیش آئیں تو یہی نظام عوامی ناراضی کا سبب بن سکتا ہے۔ Targeted subsidy کا کامیاب ہونا پاکستان کے welfare model کی سمت بدل سکتا ہے۔

غریب خاندانوں کے لیے cash transfer کافی ہے یا نہیں؟

یہ اہم سوال ہے۔ Cash transfer غریب گھر کے لیے فوری سہارا ہے، مگر غربت کا مستقل حل نہیں۔ اگر خاندان کو کچھ رقم ملے مگر اس کے پاس روزگار، ہنر، صحت، تعلیم، صاف پانی، محفوظ رہائش اور معاشی موقع نہ ہو تو وہ دوبارہ اسی کمزوری میں رہتا ہے۔ اس لیے BISP کو صرف امداد نہیں بلکہ graduation model سے جوڑنا ہو گا، یعنی مستحق خاندان کو آہستہ آہستہ خود کفالت کی طرف لے جانا۔

اس کے لیے cash transfer کے ساتھ skill training، microenterprise support، خواتین کے لیے گھر بیٹھے روزگار، بچوں کی تعلیم، health insurance، nutrition support، digital literacy اور small loans جیسے اقدامات جوڑنے ہوں گے۔ اگر BISP صرف مستقل cash support بن کر رہ گیا تو غربت کم کرنے کی رفتار محدود رہے گی۔ اگر اسے human capital investment سے جوڑا گیا تو یہ غریب خاندان کو نسل در نسل غربت سے نکالنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

غذائیت، بچے اور ماں کی صحت

پاکستان میں بچوں کی غذائی کمی، stunting، anemia، کم وزن، ماں اور بچے کی صحت جیسے مسائل سنگین ہیں۔ اگر سماجی تحفظ کے تحت غریب خاندان کو مالی مدد ملتی ہے تو اس کا ایک حصہ خوراک، دودھ، بچوں کی غذا، حاملہ خواتین کی دیکھ بھال اور basic health پر خرچ ہو سکتا ہے۔ لیکن بہتر نتائج کے لیے cash transfer کو nutrition awareness، vaccination، maternal checkups، and child growth monitoring سے جوڑنا ضروری ہے۔

دنیا کے کئی ممالک conditional cash transfer کے ذریعے بچوں کی صحت اور تعلیم بہتر کرتے ہیں۔ پاکستان بھی اگر BISP کو صحت و تعلیم کے outcomes سے بہتر انداز میں جوڑے تو اس کا اثر صرف آج کے گھر کے بجٹ پر نہیں بلکہ آنے والی نسل کے جسمانی اور ذہنی معیار پر بھی پڑے گا۔

بزرگ شہری اور علاج کا بحران

پنشنرز اور بزرگ شہریوں کے لیے صحت کے اخراجات ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ بجٹ میں پنشن میں اضافہ اپنی جگہ، مگر بزرگ افراد کو سب سے زیادہ ضرورت صحت سہولت، ادویات، regular checkups، chronic disease management اور emergency care کی ہوتی ہے۔ اگر سماجی تحفظ کے نظام میں بزرگ، معذور افراد اور chronic patients کے لیے خاص window بنائی جائے تو اس کا اثر بہت اہم ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں بزرگ شہریوں کے لیے health insurance، subsidized medicines اور geriatric care ابھی بھی کمزور ہیں۔ بجٹ کے سماجی تحفظ اقدامات کو اس سمت بھی بڑھایا جانا چاہیے تاکہ بزرگ شہری صرف خاندان کی مدد پر انحصار نہ کریں بلکہ ریاستی تحفظ بھی محسوس کریں۔

معذور افراد اور خصوصی ضروریات

سماجی تحفظ کا ایک اہم مگر اکثر نظر انداز طبقہ معذور افراد ہیں۔ ان کے لیے علاج، mobility devices، تعلیم، گھر سے باہر رسائی، روزگار، training اور مستقل مالی مدد کی ضرورت عام شہری سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر BISP اور دیگر social protection programs میں disability-sensitive targeting شامل ہو تو یہ بجٹ واقعی inclusive بن سکتا ہے۔

معذور افراد کو صرف cash transfer نہیں بلکہ assistive devices، special education، accessible public services، transport support اور ہنر کی تربیت بھی چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ social protection data میں disability کو الگ اور واضح category کے طور پر مضبوط کرے۔

عوامی ریلیف کا سیاسی اور معاشی پہلو

بجٹ 2026-27 کا سماجی تحفظ باب سیاسی طور پر بھی اہم ہے۔ مہنگائی کے دور میں عوام کو فوری ریلیف چاہیے، جبکہ حکومت مالیاتی discipline اور آئی ایم ایف اہداف کے باعث بڑے عمومی ریلیف پیکجز دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ ایسے میں BISP جیسے targeted programs حکومت کے لیے نسبتاً قابلِ دفاع راستہ ہیں: کمزور طبقے کو ریلیف بھی ملتا ہے اور بجٹ کا غیر ضروری بوجھ بھی کم رکھا جا سکتا ہے۔

لیکن سیاسی فائدہ تبھی ملے گا جب عوام کو رقم وقت پر، عزت کے ساتھ، کٹوتی کے بغیر اور آسان طریقے سے ملے۔ اگر ادائیگی میں تاخیر، biometric failure، agent commission، غیر شفاف selection یا سیاسی مداخلت ہوئی تو پروگرام کا اعتماد متاثر ہو گا۔

عملدرآمد کا سب سے بڑا امتحان

BISP اور سماجی تحفظ پروگراموں کی کامیابی کا اصل فیصلہ budget allocation سے نہیں بلکہ implementation سے ہو گا۔ 838 ارب روپے کی رقم بہت بڑی ہے، مگر اگر اس میں leakage، غیر مستحق beneficiaries، payment delays یا administrative inefficiency ہوئی تو اثر کم ہو جائے گا۔ اسی طرح 12 ملین خاندانوں اور 9.2 ملین بچوں کا ہدف بڑا ہے، مگر اسے حاصل کرنے کے لیے data cleaning، school verification، digital payment، grievance redressal، اور independent monitoring ضروری ہو گی۔

حکومت کو چاہیے کہ ہر beneficiary کو واضح معلومات ملیں: eligibility کیا ہے، رقم کتنی ہے، کب ملے گی، کہاں سے ملے گی، شکایت کہاں درج ہو گی، اور کسی کٹوتی کی صورت میں فوری کارروائی کیسے ہو گی۔ welfare system میں dignity اتنی ہی اہم ہے جتنی رقم۔

حتمی تجزیہ: ریلیف کو حق، صحت کو تحفظ اور امداد کو خود کفالت میں بدلنا ہو گا

وفاقی بجٹ 2026-27 کا صحت و سماجی تحفظ باب پاکستان کے کمزور طبقوں کے لیے اہم پیغام رکھتا ہے۔ BISP کے لیے 838 ارب روپے، coverage کو 12 ملین خاندانوں تک بڑھانے، 9.2 ملین بچوں کو تعلیمی وظائف دینے، اور subsidies کو زیادہ targetted بنانے کے اعلانات اس بات کا اشارہ ہیں کہ حکومت عمومی ریلیف کے بجائے data-based social protection کی طرف بڑھنا چاہتی ہے۔

یہ سمت درست ہے، مگر اسے صحت، تعلیم، غذائیت، ادویات، خواتین کی مالی شمولیت، بچوں کی schooling، بزرگوں کے علاج اور معذور افراد کے تحفظ سے مضبوطی سے جوڑنا ہو گا۔ غریب خاندان کو صرف رقم نہیں، قابلِ رسائی علاج، سستی دوا، بچوں کی تعلیم، محفوظ خوراک، اور مستقل آمدن کا راستہ چاہیے۔ اگر بجٹ کے یہ اقدامات اسی وسیع سوچ کے ساتھ نافذ ہوئے تو یہ پاکستان کے welfare system کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

لیکن اگر یہ رقم صرف cash distribution تک محدود رہی، data کمزور رہا، ادائیگیاں مشکل رہیں، اسپتالوں اور ادویات کا نظام بہتر نہ ہوا، اور غریب خاندان کو خود کفالت کی طرف نہ لے جایا گیا تو یہ ریلیف وقتی سہارا تو دے گا مگر غربت اور علاج کے بحران کو مستقل طور پر حل نہیں کر سکے گا۔

پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہی ہے: سماجی تحفظ کو سیاسی اعلان نہیں بلکہ انسانی سرمایہ کاری بنایا جائے۔ جس دن غریب بچے کی تعلیم، بیمار ماں کا علاج، بزرگ کی دوا، معذور فرد کی سہولت، اور کم آمدن خاندان کا وقار ایک ہی مضبوط نظام میں جڑ گیا، اسی دن بجٹ کے اعدادوشمار واقعی عوامی زندگی میں تبدیلی بنیں گے۔

وفاقی بجٹ، صحت اور سماجی تحفظ سے متعلق سرکاری مالیاتی دستاویزات وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ مزید صحت، قومی اور فیچر رپورٹس صحت، قومی اور فیچر رپورٹ صفحات پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
مصنف

Dost News

Dost News Desk publishes verified Urdu news, newsroom updates, press releases, features and public-interest reports for Dost News.

🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں