فالج کے 80 فیصد کیسز سے بچاؤ ممکن، فوری علاج اور بحالی ضروری: طبی ماہرین
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) — فالج کی علامات پہچان کر مریض کو فوری طور پر علاج کی سہولت رکھنے والے اسپتال پہنچانا مستقل معذوری اور موت کا خطرہ کم کر سکتا ہے۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں طبی ماہرین نے فالج سے بچاؤ، ہنگامی علاج اور مریضوں کی بحالی کے لیے سہولیات بڑھانے پر زور دیا۔
پریس کانفرنس میں ڈاکٹر حسنین ہاشم، ڈاکٹر یاسر محمود ملک اور ڈاکٹر ولید شہزاد نے کہا کہ فالج سے مریض کے ساتھ اس کا پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔ بروقت طبی امداد کے علاوہ مسلسل بحالی اور اہلِ خانہ کی معاونت بھی ضروری ہے۔
ڈاکٹر حسنین ہاشم نے کہا کہ فالج کے تقریباً 80 فیصد کیسز سے بچاؤ ممکن ہے۔ بلڈ پریشر، ذیابیطس اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھنا اور سگریٹ نوشی سے اجتناب اس خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
ماہرین نے چہرے کا ایک طرف ڈھلک جانا، بازو یا ٹانگ میں اچانک کمزوری اور بولنے میں دشواری کو اہم علامات قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کیفیت میں علامات کے آغاز کا وقت نوٹ کرکے فوری ایمرجنسی طبی امداد حاصل کی جائے۔ انتظار یا علاج کی سہولت نہ رکھنے والے مراکز کے چکر قیمتی وقت ضائع کر سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دماغی شریان میں خون کا لوتھڑا بننے سے ہونے والے فالج میں بعض اہل مریضوں کو علامات شروع ہونے کے ساڑھے چار گھنٹے کے اندر لوتھڑا تحلیل کرنے والی دوا دی جا سکتی ہے۔ علاج کا فیصلہ ڈاکٹر فالج کی نوعیت، ضروری اسکین اور مریض کی حالت دیکھ کر کرتے ہیں۔ منتخب مریضوں میں مکینیکل تھرومبیکٹومی کے ذریعے لوتھڑا نکالنے کا طریقہ بھی استعمال ہوتا ہے۔
ڈاکٹر یاسر محمود ملک نے فوری علاج کے بعد بحالی اور فزیوتھراپی کی ضرورت پر زور دیا۔ ماہرین کے مطابق بعض مریضوں کو چلنے، بولنے، نگلنے اور جسمانی حرکات میں مشکلات رہتی ہیں، جن کے لیے فزیوتھراپی، اسپیچ تھراپی اور دیگر بحالی خدمات کا تسلسل ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اہلِ خانہ کو مریض کی نگہداشت کی تربیت دی جانی چاہیے۔ طبی ٹیم کی ہدایت کے مطابق پوزیشن تبدیل کرنے، بستر کے زخموں اور انفیکشن سے بچانے اور نگلنے میں مشکل پر طبی رہنمائی لینے سے پیچیدگیوں کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر ولید شہزاد نے متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی ضرورت بیان کی۔ ماہرین نے ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو باقاعدہ معائنہ کرانے اور تجویز کردہ ادویات ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔
پریس کانفرنس میں سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے رش، بستروں کی کمی اور ایمرجنسی میں تاخیر پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ ماہرین نے فالج، ہارٹ اٹیک اور حادثات کے شدید زخمی مریضوں کے لیے واضح ترجیحی نظام اور مؤثر ہنگامی طریقہ کار کی ضرورت بیان کی۔
انہوں نے اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں اسٹروک سینٹرز کی استعداد بڑھانے اور علاج و بحالی کی سہولیات مزید اسپتالوں تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق نیورولوجسٹ، ایمرجنسی ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکل عملے اور بحالی کے ماہرین کی مشترکہ ٹیمیں اور باقاعدہ تربیت مریضوں کو فوری اور بہتر نگہداشت فراہم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
تصویر: نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں فالج سے متعلق آگاہی پریس کانفرنس۔
