مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 16°C
جمعہ، 30 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.91 EUR/PKR 308.64 GBP/PKR 368.46 سونا/تولہ (عالمی) 417,707 PKR Bitcoin $78,975 USD/PKR 276.91 EUR/PKR 308.64 GBP/PKR 368.46 سونا/تولہ (عالمی) 417,707 PKR Bitcoin $78,975
قومی

وفاقی بجٹ دو سالہ مسلسل کوششوں کا عکاس ہے، عطا تارڑ

📅 ✍️ ⏱ 3 منٹ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کو ایک جامع، متوازن اور ریلیف سے بھرپور دستاویز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں گزشتہ دو برسوں کے دوران کی جانے والی انتھک اور مخلصانہ کوششوں کا عکاس ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے، کاروباری برادری اور برآمداتی شعبے سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کا اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔

برآمدات پر مبنی معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع

وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت قومی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب تیزی سے پیش قدمی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈیوں میں ‘میڈ ان پاکستان’ مصنوعات کی موجودگی ہمارے لیے باعث فخر ہے۔ برآمداتی شعبے کے ٹرن اوور میں اضافے سے نہ صرف کاروبار کو وسعت ملے گی بلکہ اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جس کا براہ راست فائدہ مزدور طبقے کو پہنچے گا۔

ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے 90 ارب روپے اور معاشی استحکام

کم آمدنی والے طبقے کے لیے حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے ‘اپنا گھر’ پروگرام پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ بجٹ میں ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے 90 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ چونکہ تعمیراتی صنعت دیگر درجنوں صنعتوں سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے یہ سرمایہ کاری وسیع تر معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا باعث بنے گی۔ مزید برآں، ہاؤسنگ سیکٹر کی معاونت کے لیے مکانات کی خرید و فروخت پر ٹیکسوں میں بھی نمایاں کمی کی گئی ہے۔

ایف بی آر میں تاریخی اصلاحات اور ٹیکس چوری کا خاتمہ

وزیر اطلاعات نے معاشی اصلاحات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی منفی معاشی ترقی کے مقابلے میں اب ملکی معیشت استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے اور جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 سے 4 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، جس کا اعتراف آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے بھی کیا ہے۔ انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) میں کی جانے والی اصلاحات کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب ادارہ سیاسی اثر و رسوخ سے پاک ہو چکا ہے۔ ٹیکس چوری کے خاتمے کے لیے پیپر لیس اور آئی ٹی پر مبنی نظام متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ شوگر انڈسٹری جیسی بڑی صنعتوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے گئے ہیں تاکہ ٹیکس کا سارا بوجھ صرف تنخواہ دار طبقے پر نہ پڑے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں