مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 18°C
بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 420,008 PKR Bitcoin $80,406 USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 420,008 PKR Bitcoin $80,406
قومی

وفاقی بجٹ 2026-27: غربت، خواتین، بچوں، مزدوروں اور کمزور طبقات پر بجٹ کے اثرات کا مکمل جائزہ

📅 🔄 اپ ڈیٹ: ✍️ ⏱ 17 منٹ
budget 26-27
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

نمائندہ خصوصی

وفاقی بجٹ 2026-27: غربت، خواتین، بچوں، مزدوروں اور کمزور طبقات پر بجٹ کے اثرات کا مکمل جائزہ

اسلام آباد، دوست نیوز خصوصی رپورٹ:

وفاقی بجٹ 2026-27 کو اگر صرف اعدادوشمار، ٹیکس اہداف، دفاعی اخراجات، قرضوں پر سود، ترقیاتی بجٹ، آئی ایم ایف شرائط اور معاشی شرح نمو کے زاویے سے دیکھا جائے تو یہ ایک سخت مالیاتی دستاویز دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اگر اسی بجٹ کو ایک غریب ماں، ایک اسکول جانے والے بچے، ایک مزدور، ایک بیوہ، ایک پنشنر، ایک کم آمدن ملازم، ایک بیمار بزرگ، ایک رکشہ ڈرائیور، ایک دیہاڑی دار، یا ایک ایسے خاندان کی نظر سے دیکھا جائے جس کے گھر کا ماہانہ بجٹ پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے، تو یہ بجٹ ایک بالکل مختلف کہانی سناتا ہے۔

اس بجٹ میں حکومت نے معاشی استحکام، مالیاتی نظم، دفاعی ضرورت، قرضوں کے بوجھ اور آئی ایم ایف اہداف کے درمیان کمزور طبقات کے لیے کچھ حفاظتی انتظامات رکھنے کی کوشش کی ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے بڑی رقم مختص کرنا، مستحق خاندانوں کی تعداد بڑھانے کا ہدف، بچوں کے تعلیمی وظائف، targeted subsidy کا تصور، تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف، کم از کم اجرت میں اضافہ، پنشن میں اضافہ اور سماجی تحفظ کے پروگرام اسی کوشش کا حصہ ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات مہنگائی، علاج، خوراک، تعلیم، کرایہ، بجلی، گیس اور روزگار کے دباؤ کے مقابلے میں کافی ثابت ہوں گے؟

بجٹ کا انسانی چہرہ: اعدادوشمار کے پیچھے گھرانوں کی کہانی

ہر بجٹ میں کھربوں روپے کے اعداد آتے ہیں، مگر ان اعداد کے پیچھے لاکھوں گھرانوں کی حقیقی کہانیاں ہوتی ہیں۔ ایک گھر میں ماں یہ سوچ رہی ہوتی ہے کہ بچوں کی فیس دے یا بجلی کا بل؟ ایک مزدور یہ حساب لگا رہا ہوتا ہے کہ روز کی دیہاڑی سے آٹا، دال، دودھ اور کرایہ کیسے پورا ہو گا؟ ایک پنشنر دوا خریدنے سے پہلے قیمت پوچھتا ہے۔ ایک بیوہ امداد کی قسط کے انتظار میں گھر کا راشن ادھار لیتی ہے۔ ایک طالب علم صرف اس لیے اسکول چھوڑ دیتا ہے کہ گھر میں کمانے والا کوئی نہیں۔

وفاقی بجٹ 2026-27 کا اصل انسانی امتحان یہی ہے کہ یہ بجٹ ایسے گھرانوں تک کیا پہنچاتا ہے۔ اگر BISP کی رقم وقت پر، عزت کے ساتھ، کٹوتی کے بغیر، مستحق خاندان تک پہنچتی ہے؛ اگر بچوں کے تعلیمی وظائف واقعی اسکول چھوڑنے کی شرح کم کرتے ہیں؛ اگر کم از کم اجرت پر عمل ہوتا ہے؛ اگر targeted subsidy عام آدمی کے بل اور راشن میں فرق ڈالتی ہے؛ تو بجٹ کا انسانی چہرہ مثبت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر اعلانات فائلوں میں رہ گئے، ادائیگیاں مشکل رہیں، مہنگائی برقرار رہی اور روزگار نہ بڑھا، تو عام آدمی کے لیے یہ بجٹ بھی ایک اور مشکل سال کی خبر ہو گا۔

غربت: نقد امداد ضروری، مگر مکمل حل نہیں

پاکستان میں غربت کا مسئلہ صرف آمدن کی کمی نہیں بلکہ مواقع کی کمی بھی ہے۔ غریب خاندان کے پاس بہتر اسکول، صحت کی سہولت، محفوظ رہائش، صاف پانی، مستقل روزگار، ہنر، بینکنگ رسائی اور سماجی تحفظ کم ہوتا ہے۔ اسی لیے cash support ضروری ہے، مگر غربت کا مکمل حل نہیں۔ BISP جیسے پروگرام فوری سہارا دیتے ہیں، مگر مستقل تبدیلی کے لیے غریب خاندان کو تعلیم، صحت، ہنر، روزگار اور چھوٹے کاروبار سے جوڑنا ہو گا۔

بجٹ 2026-27 میں BISP کے لیے بڑی رقم مختص ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت کمزور طبقے کو مکمل طور پر بازار کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہتی۔ مگر اگر یہ امداد صرف قسط تک محدود رہی اور خاندان کو خود کفالت کی طرف نہ لے گئی تو غربت کی جڑیں برقرار رہیں گی۔ بہتر راستہ یہ ہے کہ BISP beneficiary خاندانوں کو بچوں کی تعلیم، خواتین کی ہنرمندی، صحت بیمہ، غذائیت، microenterprise، digital wallet اور چھوٹے قرضوں سے بھی جوڑا جائے۔

خواتین: گھر کا بجٹ سنبھالنے والی اصل وزیر خزانہ

غریب اور متوسط گھرانوں میں عورت اکثر گھر کی اصل وزیر خزانہ ہوتی ہے۔ وہی فیصلہ کرتی ہے کہ آٹا کب خریدنا ہے، دودھ کتنا لینا ہے، بچوں کی کاپی پہلے آئے گی یا دوا، بجلی کا بل کیسے جمع ہو گا، اور ادھار کس دکان سے لینا ہے۔ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو سب سے پہلے عورت اپنی ضرورت کم کرتی ہے۔ وہ کم کھاتی ہے، بچوں کو پہلے کھلاتی ہے، دوا دیر سے خریدتی ہے، اور گھر کی عزت بچانے کے لیے قرض چھپاتی ہے۔

BISP کی ایک بڑی اہمیت یہی ہے کہ امداد اکثر عورت کے نام پر آتی ہے۔ اس سے عورت کے ہاتھ میں کچھ مالی اختیار آتا ہے۔ لیکن اس اختیار کو واقعی باوقار بنانے کے لیے payment centers پر رش، کٹوتی، biometric failure، agent commission، سفر کے اخراجات اور بدسلوکی جیسے مسائل ختم کرنے ہوں گے۔ اگر عورت کو امداد لینے کے لیے کئی گھنٹے لائن میں کھڑا ہونا پڑے، کرایہ خرچ کرنا پڑے اور رقم میں کٹوتی برداشت کرنی پڑے تو welfare کا مقصد کمزور ہو جاتا ہے۔

بجٹ کو خواتین کے زاویے سے دیکھنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ خواتین کی صحت، بچوں کی غذا، بچیوں کی تعلیم، گھر بیٹھے روزگار، چھوٹے کاروبار، digital payments اور محفوظ مالیاتی خدمات کو ایک ہی پالیسی میں جوڑا جائے۔ عورت کو صرف امداد لینے والی beneficiary نہیں بلکہ معاشی participant بنانا ہو گا۔

بچے: بجٹ کا سب سے خاموش مگر اہم طبقہ

بجٹ کا سب سے بڑا اثر بچوں پر پڑتا ہے، مگر بچے بجٹ debate میں اپنی آواز نہیں رکھتے۔ جب گھر میں آمدن کم ہوتی ہے تو بچہ اسکول سے نکلتا ہے، کم خوراک کھاتا ہے، علاج میں تاخیر ہوتی ہے، کتابیں دیر سے ملتی ہیں، اور بعض اوقات بچپن مزدوری میں بدل جاتا ہے۔ اسی لیے بچوں کے تعلیمی وظائف بجٹ کا انتہائی اہم حصہ ہیں۔

تعلیمی وظائف کا مقصد صرف نقد رقم دینا نہیں بلکہ بچے کو اسکول سے جوڑے رکھنا ہے۔ اگر ایک غریب خاندان کو یہ سہارا ملے کہ بچہ اسکول جائے گا تو کچھ مالی مدد بھی ملے گی، تو والدین بچے کو مزدوری کی طرف بھیجنے کے بجائے تعلیم جاری رکھنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ مگر اس کے لیے اسکول کا معیار بھی بہتر ہونا چاہیے۔ اگر اسکول میں استاد نہیں، عمارت خراب ہے، واش روم نہیں، کتابیں نہیں، یا بچی کے لیے محفوظ ماحول نہیں، تو وظیفہ بھی مکمل اثر نہیں دے گا۔

پاکستان کو بچوں کے لیے conditional support model مضبوط کرنا ہو گا: اسکول حاضری، ویکسینیشن، غذائیت، learning outcomes اور health checkups کو سماجی تحفظ کے ساتھ جوڑنا چاہیے۔ بچہ اگر صحت مند، تعلیم یافتہ اور محفوظ ہے تو یہی مستقبل کا productive citizen ہے۔

مزدور اور دیہاڑی دار: کم از کم اجرت کا اصل امتحان

بجٹ میں کم از کم اجرت میں اضافے کا اعلان اہم ہے، مگر مزدور کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ اسے یہ اجرت ملے گی بھی یا نہیں۔ پاکستان میں لاکھوں مزدور informal sector میں کام کرتے ہیں۔ دکان، ورکشاپ، فیکٹری، ہوٹل، گھر، تعمیراتی سائٹ، مارکیٹ، گودام، کھیت، ٹرانسپورٹ اور چھوٹے کاروباروں میں کام کرنے والے مزدور کو اکثر appointment letter نہیں ملتا، bank transfer نہیں ہوتا، social security نہیں ہوتی، overtime نہیں ملتا اور قانونی اجرت بھی پوری نہیں ملتی۔

اگر حکومت کم از کم اجرت بڑھاتی ہے مگر عملدرآمد نہیں کرواتی تو یہ اعلان کاغذی رہ جاتا ہے۔ مزدور کے لیے بجٹ کا فائدہ تب ہو گا جب صوبائی لیبر محکمے، سوشل سکیورٹی ادارے، EOBI، کاروباری تنظیمیں اور مزدور نمائندے مل کر ایسا نظام بنائیں جس میں اجرت کی ادائیگی کا ریکارڈ ہو، شکایت کا آسان راستہ ہو، اور employer پر عملدرآمد کی ذمہ داری ہو۔

مزدور کو صرف زیادہ اجرت نہیں بلکہ محفوظ کام، صحت سہولت، حادثہ بیمہ، بچوں کی تعلیم اور بڑھاپے کا تحفظ بھی چاہیے۔ ورنہ ایک بیماری، ایک حادثہ یا چند دن بے روزگاری پورے گھر کو قرض میں دھکیل دیتی ہے۔

بزرگ اور پنشنرز: دوا، بل اور تنہائی کا بجٹ

پنشن میں اضافہ ایک مثبت قدم ہے، مگر بزرگ شہریوں کے لیے سب سے بڑا خرچ دوا اور علاج ہے۔ بلڈ پریشر، شوگر، دل، گردے، سانس، جوڑوں کے درد، آنکھوں اور دیگر بیماریوں کی ادویات مستقل خرچ ہیں۔ اگر پنشن میں اضافہ ہو مگر دوا، ٹیسٹ، ڈاکٹر فیس اور بجلی بل بڑھ جائیں تو پنشنر کو حقیقی ریلیف کم محسوس ہوتا ہے۔

بزرگ شہریوں کے لیے بجٹ میں صرف پنشن نہیں بلکہ health protection، subsidized medicines، سرکاری اسپتالوں میں سہولت، home-based care، اور chronic disease management جیسے اقدامات ضروری ہیں۔ پاکستان میں بزرگ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے، مگر geriatric care کا نظام ابھی کمزور ہے۔ welfare budget کو بزرگوں کے لیے الگ حساسیت کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔

معذور افراد: سماجی تحفظ کا نظر انداز طبقہ

معذور افراد کے لیے زندگی کے اخراجات عام شہری سے زیادہ ہوتے ہیں۔ wheel chair، hearing aid، special education، transport، therapy، assistive devices، caretaker support اور employment barriers ان کے مسائل کو بڑھاتے ہیں۔ اگر سماجی تحفظ کے پروگرام disability-sensitive نہ ہوں تو معذور افراد اکثر welfare system سے بھی باہر رہ جاتے ہیں۔

بجٹ 2026-27 کے انسانی زاویے سے ضروری ہے کہ معذور افراد کے لیے الگ registration، زیادہ امداد، assistive devices، skills training، accessible public services اور روزگار کے مواقع کو پالیسی میں شامل کیا جائے۔ ایک inclusive بجٹ وہ ہے جو صرف اکثریت نہیں بلکہ کمزور ترین فرد کو بھی دیکھے۔

مہنگائی: ہر ریلیف کو کھا جانے والا خطرہ

بجٹ میں ریلیف کے کئی اعلانات ہو سکتے ہیں، مگر مہنگائی اگر قابو میں نہ آئے تو ہر ریلیف کمزور پڑ جاتا ہے۔ ایک خاندان کو چند ہزار روپے امداد ملتی ہے، مگر آٹا، دودھ، دال، گھی، بجلی، گیس، کرایہ، دوا اور ٹرانسپورٹ میں اضافہ اس رقم کو چند دنوں میں ختم کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سماجی تحفظ کو price stability کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔

غریب گھرانے کے لیے inflation کا مطلب statistics نہیں بلکہ kitchen reality ہے۔ گھر میں چولہا کتنی بار جلتا ہے؟ بچے کو دودھ ملتا ہے یا نہیں؟ دوا پوری لی جاتی ہے یا آدھی؟ اسکول کی فیس وقت پر جاتی ہے یا نہیں؟ بجلی کا بل جمع ہونے کے بعد راشن بچتا ہے یا نہیں؟ یہی بجٹ کا حقیقی عوامی پیمانہ ہے۔

Targeted Subsidy: درست سمت، مشکل عملدرآمد

حکومت عمومی سبسڈی کے بجائے targeted subsidy کی طرف جانا چاہتی ہے۔ معاشی طور پر یہ درست سمت ہے، کیونکہ عمومی سبسڈی کا بڑا فائدہ اکثر زیادہ استعمال کرنے والے طبقات کو بھی ملتا ہے۔ لیکن targeted subsidy کا نظام شفاف، آسان، updated data پر مبنی اور باوقار ہونا چاہیے۔ اگر مستحق خاندان registration میں ہی پھنس جائے، biometric مسئلہ آئے، یا اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ eligible ہے، تو پالیسی ناکام ہو جائے گی۔

Targeted subsidy کے لیے BISP data، نادرا، utility records، mobile wallets اور local verification کو بہتر انداز میں جوڑنا ہو گا۔ مگر data privacy، misuse، سیاسی مداخلت اور exclusion errors سے بھی بچنا ہو گا۔ غریب آدمی کو اپنی غربت ثابت کرنے کے لیے ہر دفتر کے چکر نہ لگانے پڑیں؛ ریاست کو خود اسے پہچاننا چاہیے۔

متوسط طبقہ: نہ مکمل مستحق، نہ مکمل محفوظ

بجٹ debate میں غریب طبقے کے لیے BISP ہے، تنخواہ دار طبقے کے لیے کچھ ٹیکس ریلیف ہے، مگر lower middle class اکثر درمیان میں پھنس جاتا ہے۔ یہ طبقہ welfare programs کے لیے eligible نہیں ہوتا، مگر اتنا امیر بھی نہیں کہ مہنگائی، فیس، علاج، کرایہ، قسطیں اور بل آسانی سے برداشت کر سکے۔ یہی طبقہ خاموشی سے اپنی savings ختم کرتا ہے، بچوں کی تعلیم پر compromise کرتا ہے، کم معیار کا علاج لیتا ہے، یا قرض لے کر گھر چلاتا ہے۔

بجٹ کا انسانی تجزیہ اس طبقے کو بھی شامل کیے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ lower middle class کے لیے tax relief، affordable housing، health insurance، education support، transport سہولت اور utility bills میں targeted slabs بہت اہم ہیں۔

انسانی ترقی: بجٹ کو امداد سے آگے بڑھنا ہو گا

پاکستان کو welfare کو human development میں بدلنا ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امداد صرف آج کا چولہا نہ جلائے بلکہ کل کی آمدن بھی بنائے۔ ایک غریب بچہ اسکول میں رہے، ایک عورت skill سیکھے، ایک مزدور social security میں آئے، ایک معذور فرد کو روزگار ملے، ایک بزرگ کو دوا ملے، اور ایک نوجوان کو ہنر ملے—یہ سب مل کر human development بنتے ہیں۔

اگر بجٹ cash transfer، education stipend، health support، skill training، microcredit اور digital inclusion کو ایک ساتھ جوڑتا ہے تو غربت کم ہو سکتی ہے۔ اگر یہ سب الگ الگ فائلوں میں چلتے رہے تو اثر بکھر جائے گا۔

عملدرآمد: سب سے بڑا سوال

بجٹ کا انسانی اثر allocation سے نہیں، delivery سے ناپا جائے گا۔ رقم مختص کرنا آسان ہے؛ مستحق تک پہنچانا مشکل ہے۔ payment delay، agent کٹوتی، ناقص data، political favoritism، کمزور monitoring، شکایت کا نہ ہونا اور local corruption welfare programs کو کمزور کر دیتے ہیں۔ حکومت کو ہر welfare payment، scholarship، subsidy اور support program کے لیے transparent dashboard، complaint system، third-party audit اور public reporting دینی چاہیے۔

عوامی اعتماد اسی وقت بنے گا جب مستحق خاندان کو رقم وقت پر، مکمل، باوقار اور آسان طریقے سے ملے۔

حتمی تجزیہ: بجٹ کا اصل امتحان کمزور ترین گھر ہے

وفاقی بجٹ 2026-27 کا انسانی اثر اسی وقت مثبت سمجھا جائے گا جب کمزور ترین گھر میں کچھ آسانی آئے۔ اگر غریب ماں کو راشن کے لیے کم ادھار لینا پڑے، اگر بچہ اسکول نہ چھوڑے، اگر مزدور کو قانونی اجرت ملے، اگر پنشنر دوا خرید سکے، اگر معذور فرد کو سہولت ملے، اگر بیوہ کی قسط کٹوتی کے بغیر ملے، اگر بجلی کا بل گھر کا بجٹ نہ توڑے، تو یہ بجٹ واقعی عوامی بجٹ کہلا سکے گا۔

حکومت نے سماجی تحفظ، BISP، تعلیمی وظائف، targeted subsidy، تنخواہوں، پنشن اور اجرت کے ذریعے کمزور طبقات کو کچھ سہارا دینے کی کوشش کی ہے۔ مگر یہ سہارا مہنگائی، علاج، تعلیم اور روزگار کے بڑے دباؤ کے مقابلے میں تبھی معنی خیز ہو گا جب عملدرآمد مضبوط، شفاف اور باوقار ہو۔

پاکستان کو اب welfare کو charity نہیں بلکہ حق سمجھنا ہو گا۔ غریب شہری ریاست پر بوجھ نہیں، ریاست کی ذمہ داری ہے۔ بچہ امداد کا مستحق نہیں، مستقبل کی سرمایہ کاری ہے۔ عورت beneficiary نہیں، گھر اور معیشت کی بنیاد ہے۔ مزدور صرف اجرت لینے والا نہیں، پیداوار کا اصل ہاتھ ہے۔ بزرگ صرف پنشنر نہیں، معاشرے کی عزت ہیں۔

بجٹ 2026-27 کے اعدادوشمار اپنی جگہ، مگر تاریخ اس بجٹ کو اس بنیاد پر یاد رکھے گی کہ اس نے کمزور ترین پاکستانی کے گھر میں کتنی روشنی، کتنی روٹی، کتنی دوا، کتنی تعلیم اور کتنی عزت پہنچائی۔

متعلقہ ذرائع اور مزید مطالعہ

سماجی تحفظ اور بجٹ پالیسی سے متعلق سرکاری معلومات کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، بجٹ فریم ورک کے لیے وزارت خزانہ پاکستان، بچوں اور سماجی بہبود کے وسیع تناظر کے لیے UNICEF Pakistan، اور مزید متعلقہ رپورٹس کے لیے دوست نیوز قومی، صحت اور فیچر رپورٹ ملاحظہ کریں۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
مصنف

Dost News

Dost News Desk publishes verified Urdu news, newsroom updates, press releases, features and public-interest reports for Dost News.

🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں