دین
حج کی فضیلت
✓ لنک کاپی ہو گیا
Virtue of Hajj
حج مبرور کی جزا جنت
The reward of Hajj Mabrur is Paradise
🍃عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ. [صحیح البخاری:1773]
🍃ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک عمرہ دوسرے عمرے تک ان گناہوں کا کفارہ ہے جو ان کےدرمیان کیے گئے ہوں *اور حج مبرور کی جزا تو جنت ہے۔
🍃Narrated Abu Huraira ( رضی اللہ عنہ ) that the Messenger of Allah ( ﷺ )
said: “(The performance of) `Umra is an expiation for the sins committed (between it and the previous one). And the reward of Hajj Mabrur (the one accepted by Allah) is nothing except Paradise.”
نوٹ:
- ابن عبد البر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس حج میں ریا کاری، شہرت، بےہودگی، اور فسق نہ ہو، اور وہ حج حلال کمائی سے کیا جائے، تو وہ حج مبرور کہلاتا ہے۔
- ایک قول یہ ہے کہ حج مبرور سے مراد مقبول حج ہے، اور اس کے قبول ہونے کی دلیل یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی دوبارہ نافرمانی نہ کرے، اور حقدار کو ان کے حقوق پہنچا دے۔
(اسلام سوال جواب)
Note
- Ibn Abd al-Birr (رحمه الله )says that the Hajj in which there is no hypocrisy, fame, immorality, disobedience and is done with lawful earnings, is called Hajj Mabarur.
- One view is that Hajj Mabarur refers to the accepted Hajj, and the reason for its acceptance is that a person does not disobey his Lord again, and gives the rightful ones their rights. (Islam Question Answer)

Leave a Reply