مہنگائی صرف قیمتوں میں اضافہ نہیں… یہ ناکام نظام کا اعلان ہے
تحریر: محمد خالد
اس ملک میں مہنگائی اب صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں رہی، بلکہ یہ اس پورے گلے سڑے نظام کا چہرہ بن چکی ہے جس نے عام آدمی سے جینے کا حق تک چھین لیا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ روٹی مہنگی، روزگار کم، اور زندگی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ مگر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اب بھی فائلوں اور بیانات میں “بہتری” تلاش کر رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کو صرف مہنگائی نے تباہ نہیں کیا، بلکہ اس نظام نے تباہ کیا ہے جہاں غریب آدمی ہمیشہ قربانی دیتا ہے اور طاقتور ہمیشہ محفوظ رہتا ہے۔
آج اگر بازار میں آٹا، چینی، گھی، بجلی، گیس اور دوائی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں تو اس کی وجہ صرف عالمی حالات نہیں۔ اصل مسئلہ وہ کرپٹ، نااہل اور مفاد پرست نظام ہے جس میں فیصلے عوام کے لیے نہیں بلکہ مخصوص طبقات کے فائدے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
یہاں ٹیکس غریب دیتا ہے اور مراعات امیر لیتا ہے۔ ایک مزدور اپنی پوری تنخواہ بجلی کے بل اور راشن میں ختم کر دیتا ہے، جبکہ بڑے بڑے مافیا اربوں کھا کر بھی پروٹوکول میں گھومتے ہیں۔ کبھی چینی مافیا، کبھی آٹا مافیا، کبھی پٹرول مافیا… اس ملک میں ہر بحران کے پیچھے کوئی نہ کوئی طاقتور ہاتھ ضرور نکل آتا ہے، مگر سزا ہمیشہ عوام کو ملتی ہے۔
سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ کام کے مواقع مسلسل ختم ہو رہے ہیں۔ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، کاروبار تباہ ہو رہے ہیں، سرمایہ کار بھاگ رہے ہیں، اور نوجوان ڈگریاں لے کر دھکے کھا رہے ہیں۔ حکومتیں جلسوں میں لاکھ دعوے کریں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ملک کا نوجوان اندر سے ٹوٹ چکا ہے۔ اسے نہ مستقبل نظر آتا ہے، نہ انصاف، نہ استحکام۔
یہ کیسا نظام ہے جہاں ایک عام آدمی دن رات محنت کر کے بھی اپنے بچوں کو اچھی تعلیم اور علاج نہیں دے سکتا؟ اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کے محلات، گاڑیاں، پروٹوکول اور بیرونِ ملک اکاؤنٹس کبھی متاثر نہیں ہوتے۔
عوام سے ہمیشہ کہا جاتا ہے:
“صبر کریں، قربانی دیں، مشکل وقت ہے۔”
مگر سوال یہ ہے کہ مشکل وقت صرف غریب کے لیے ہی کیوں آتا ہے؟ کیا کبھی کسی بڑے سیاستدان، مافیا یا طاقتور طبقے نے اپنے خرچے کم کیے؟ کیا کبھی اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں نے اپنے مفادات قربان کیے؟
سچ تو یہ ہے کہ اس ملک میں غربت نہیں بڑھ رہی، بلکہ ایک ایسا نظام مضبوط ہو رہا ہے جو غریب کو آہستہ آہستہ ختم کر رہا ہے۔ عوام کو اتنا مصروف کر دو کہ وہ صرف بلوں، راشن اور فیسوں میں الجھے رہیں، تاکہ وہ سوال پوچھنے کی طاقت ہی کھو دیں۔
آج عام آدمی صرف مہنگائی سے نہیں لڑ رہا، بلکہ ایک ایسے ظالم نظام سے لڑ رہا ہے جہاں انصاف کمزور، قانون طاقتور کے تابع، اور ریاستی ترجیحات عوام سے دور ہو چکی ہیں۔
اگر یہی حالات رہے تو سب سے بڑا خطرہ معیشت کا نہیں، عوام کے اعتماد کا ہوگا۔ کیونکہ جب ایک قوم اپنے نظام سے امید کھو دیتی ہے تو پھر صرف معیشت نہیں، پورا معاشرہ ٹوٹنے لگتا ہے۔
Leave a Reply