پیٹرو ڈالر کا خاتمہ
دوست نیوز
دنیا کی معیشت میں پیٹرو ڈالر ایک ایسا نظام رہا ہے جس نے کئی دہائیوں تک عالمی مالیاتی طاقت کو ایک سمت میں رکھا۔ 1970 کی دہائی کے بعد جب امریکہ نے گولڈ اسٹینڈرڈ ختم کیا تو ڈالر کو عالمی سطح پر مضبوط رکھنے کے لیے تیل کی تجارت کو ڈالر سے جوڑ دیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد تیل خریدنے کے لیے ہر ملک کو ڈالر کی ضرورت پڑی اور یوں امریکی کرنسی عالمی معیشت کی بنیاد بن گئی۔
یہ نظام صرف ایک تجارتی معاہدہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک بڑی اسٹریٹجک سوچ تھی۔ جب تیل کی قیمت ڈالر میں مقرر ہوئی تو اس نے دنیا بھر میں ڈالر کی مستقل مانگ پیدا کر دی۔ تیل برآمد کرنے والے ممالک نے اپنی آمدنی کا بڑا حصہ امریکی مالیاتی نظام میں واپس لگایا جس سے امریکہ کو سستا قرض اور مضبوط معیشت ملی۔ اسی عمل نے ڈالر کو عالمی ریزرو کرنسی بنا دیا۔
لیکن وقت کے ساتھ عالمی حالات بدلنا شروع ہوئے۔ ایشیائی معیشتوں کا ابھرنا، چین کا بڑھتا ہوا کردار، اور مختلف ممالک کی تجارتی حکمت عملیوں میں تبدیلی نے اس نظام پر سوالات اٹھانے شروع کر دیے۔ کچھ ممالک نے اپنی تجارت میں متبادل کرنسیوں کا استعمال شروع کیا اور کچھ نے مقامی کرنسیوں میں معاہدے کرنے کی کوشش کی۔ یہ سب اقدامات اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ دنیا اب ایک ہی کرنسی کے مکمل غلبے سے آہستہ آہستہ دور جا رہی ہے۔
اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ پیٹرو ڈالر ابھی ختم نہیں ہوا۔ عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ آج بھی ڈالر میں ہوتا ہے اور بین الاقوامی مالیاتی نظام اب بھی امریکی معیشت کے گرد گھومتا ہے۔ امریکی مالیاتی منڈیاں اپنی گہرائی اور اعتماد کی وجہ سے اب بھی دنیا میں سب سے زیادہ مضبوط سمجھی جاتی ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ کوئی اچانک زوال نہیں بلکہ ایک تدریجی تبدیلی ہے۔ طاقت ہمیشہ ایک جگہ نہیں رہتی، وقت کے ساتھ وہ تقسیم بھی ہوتی ہے اور نئے مراکز بھی پیدا ہوتے ہیں۔ آج دنیا اسی مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں ایک ہی مالیاتی مرکز کی جگہ متعدد معاشی طاقتیں ابھر رہی ہیں۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ پیٹرو ڈالر کا نظام ختم نہیں ہو رہا بلکہ ایک نئے عالمی مالیاتی توازن کی طرف تبدیل ہو رہا ہے، جہاں طاقت ایک ملک کے بجائے کئی خطوں میں بٹتی جا رہی ہے
Leave a Reply