سندھ کے عوام کا صبر ختم — اب نظام بدلنے کا وقت
تحریر: محمد خالد
سندھ، خصوصاً کراچی، ایک ایسا خطہ ہے جہاں امکانات بے شمار ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ یہ شہر جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، آج مسائل کے اندھیروں میں گھرا ہوا ہے۔ سوال صرف ایک حکومت یا ایک جماعت کا نہیں، بلکہ ایک پورے نظام کا ہے جس نے دہائیوں سے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سندھ میں حکمرانی کا انداز ہمیشہ عوام سے دور رہا۔ ہر آنے والی قیادت نے وعدے کیے، دعوے کیے، مگر زمینی حقیقت تبدیل نہ ہو سکی۔ سڑکیں ٹوٹتی رہیں، پانی غائب رہا، کچرے کے ڈھیر بڑھتے گئے، اور شہری بنیادی سہولیات کے لیے دربدر ہوتے رہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ کسی ایک دور یا ایک پارٹی تک محدود نہیں—یہ ایک مسلسل سلسلہ ہے جس میں ہر کسی کا حصہ ہے۔
پروٹوکول کے نام پر عوام کو روکنا، گھنٹوں سڑکیں بند رکھنا اور شہریوں کو اذیت میں مبتلا کرنا اب معمول بن چکا ہے۔ ایک عام مزدور، ایک طالب علم، ایک مریض—سب اس نظام کے ہاتھوں بے بس نظر آتے ہیں۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کے لیے روزی کمانے میں تاخیر کا شکار ہو، جب ایک مریض وقت پر ہسپتال نہ پہنچ سکے، تو یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک اجتماعی ظلم ہے۔
اصل مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ عوام کی سہولت کے بجائے ذاتی مفادات کو فوقیت دی گئی۔ اختیارات کو عوامی خدمت کے بجائے طاقت کے اظہار کے لیے استعمال کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا گیا، اور اعتماد ختم ہوتا گیا۔
آج سندھ کے لوگ تھک چکے ہیں۔ وہ اب نعروں اور وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی تبدیلی چاہتے ہیں۔ وہ ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں انصاف ہو، سہولت ہو، اور سب سے بڑھ کر عزت ہو۔ جہاں سڑکیں بند کرنے کے بجائے راستے کھولے جائیں، اور جہاں حکمرانی کا مقصد عوام کی خدمت ہو نہ کہ ان پر بوجھ بننا۔
وقت آ چکا ہے کہ اس پرانے، فرسودہ نظام پر سوال اٹھایا جائے۔ اگر واقعی تبدیلی لانی ہے تو صرف چہرے بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا، سوچ اور نظام دونوں بدلنے ہوں گے۔ کیونکہ جب تک نظام وہی رہے گا، نتائج بھی وہی رہیں گے۔
سندھ کے عوام اب خاموش نہیں رہیں گے۔ یہ خاموشی ٹوٹ چکی ہے، ا
Leave a Reply