یو اے ای عرب ممالک کی تیل برآمد کرنیوالی تنظیم سے بھی الگ ہوگیا
بوظہبی (دوست نیوز_ 04 مئی2026ء) متحدہ عرب امارات نے عالمی توانائی کی سیاست میں ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے باضابطہ طور پر ’اوپیک‘ کے بعد اب عرب ممالک کی تیل برآمد کرنے والی تنظیم سے بھی علیحدگی اختیار کرلی۔ خلیجی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات نے بین الاقوامی سطح پر اپنی تیل کی پیداواری حکمتِ عملی کو تبدیل کرتے ہوئے عرب ممالک کے پیٹرولیم اتحاد ’اوایپیک‘ (OAPEC) سے بھی دستبرداری اختیار کرلی ہے، یہ فیصلہ متحدہ عرب امارات کے اس حیران کن اعلان کے محض چند دن بعد سامنے آیا ہے جس میں اس نے عالمی تیل پیدا کرنے والے ممالک کی بڑی تنظیم ‘اوپیک’ اور ‘اوپیک پلس’ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔
’اوایپیک‘ کے جنرل سیکرٹریٹ سے معلوم ہوا ہے کہ انہیں یو اے ای کے وزیر توانائی و انفراسٹرکچر سہیل محمد المزروعی کا خط موصول ہوا، جو لیبیا کے وزیر برائے تیل و گیس ڈاکٹر خلیفہ رجب کو ارسال کیا گیا تھا، خط میں واضح کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی رکنیت یکم مئی 2026ء سے ختم تصور کی جائے گی۔
بتایا گیا ہے کہ 1968ء میں قائم ہونے والی تنظیم ’اوایپیک‘ اگرچہ اپنے ارکان کے لیے پیداواری پالیسی یا کوٹہ مقرر نہیں کرتی (جیسا کہ اوپیک کرتی ہے)، تاہم یہ عرب ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کا بنیادی پلیٹ فارم ہے، متحدہ عرب امارات کے اس بڑے فیصلے کے پیچھے بنیادی مقصد اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے، نکلنے کے بعد یو اے ای اب تنظیم کی جانب سے عائد کردہ پیداواری پابندیوں کا پابند نہیں رہے گا، امارات اپنی توانائی کی طویل مدتی حکمتِ عملی کے تحت پیداوار کو بڑھانا چاہتا ہے تاکہ عالمی منڈی میں اپنی پوزیشن مستحکم کرسکے۔
پیر کے روز “میک اٹ ان دی ایمریٹس” کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سہیل المزروعی نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر خود مختار اور پالیسی پر مبنی ہے، یہ ایک پالیسی فیصلہ ہے جو موجودہ اور مستقبل کی پیداواری حکمتِ عملیوں کے بغور جائزے کے بعد کیا گیا ہے، ہم یہ مسئلہ کسی دوسرے ملک کے ساتھ زیرِ بحث نہیں لائے، متحدہ عرب امارات نے خوشگوار ماحول میں تنظیم چھوڑی ہے اور وہ اوپیک پلس کے اراکین کے ساتھ دیگر شعبوں میں تعاون جاری رکھیں گے۔
Leave a Reply