اکراء کے زیرِ اہتمام آج شام سنو ٹی وی کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا
احتجاج کی قیادت چیئرمین اکراء شکیل قرار، صدر قمر المنور اور سیکرٹری ذوالقرنین حیدر نے کی
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پی آئی او کو سنو ٹی وی کے سرکاری اشتہارات بند کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
اسلام آباد کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن (اکراء) کی جانب سے سنو نیوز میں صحافیوں کی مبینہ جبری برطرفیوں کے خلاف کیا گیا احتجاج رنگ لے آیا، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پی آئی او کو سنو ٹی وی کے سرکاری اشتہارات بند کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
تفصیلات کے مطابق اکراء کے زیرِ اہتمام آج شام سنو ٹی وی کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں جڑواں شہروں سمیت مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ احتجاج کی قیادت چیئرمین اکراء شکیل قرار، صدر قمر المنور اور سیکرٹری ذوالقرنین حیدر نے کی۔
مظاہرین نے سنو ٹی وی انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے برطرف کیے گئے صحافیوں کو فوری بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاؤسز کی جانب سے صحافیوں کو جبری طور پر ملازمتوں سے فارغ کرنا ناقابلِ قبول ہے اور صحافیوں کے گھروں کے چولہے بند کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے احتجاج کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ میڈیا اداروں کی جانب سے صحافیوں کی برطرفی کسی صورت قابلِ برداشت نہیں اور حکومت صحافی برادری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔
صدر اکراء قمر المنور نے کہا کہ سنو ٹی وی انتظامیہ کو ہر صورت اپنا “ظالمانہ فیصلہ” واپس لینا ہوگا، جبکہ چیئرمین شکیل قرار نے کہا کہ صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
مقررین نے اعلان کیا کہ اگر برطرفیوں کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو معاملہ ہر فورم پر اٹھایا جائے گا اور احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ مظاہرین نے وزیر اطلاعات سے فوری مداخلت اور متاثرہ صحافیوں کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

Leave a Reply