مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
پیر، 26 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 417,300 PKR Bitcoin $80,465 USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 417,300 PKR Bitcoin $80,465
رائے و تجزیہ

غریب کی بستی ملبہ… امیر کی عمارت محفوظ — یہ کیسا انصاف؟

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
اسلام آباد ہائیکورٹ کا ون کانسٹیٹیوشن ایونیو اپارٹمنٹ مالکان کو بے دخلی سے روکنے کا حکم
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

تحریر: محمد خالد

یہ صرف ایک تصویر نہیں… یہ ہمارے معاشرے کے دو چہروں کا آئینہ ہے۔
ایک طرف وہ غریب بستیاں ہیں جہاں برسوں کی محنت سے جوڑی گئی چھوٹی چھوٹی خوشیاں، ایک ایک اینٹ سے بنائے گئے آشیانے، چند لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بنا دیے جاتے ہیں…
اور دوسری طرف وہ بلند و بالا عمارتیں، پرتعیش ہوٹل، طاقت اور سرمایہ کی علامتیں… جن کے گرد قانون بھی شاید خاموشی سے گزر جاتا ہے۔

یہ منظر دل میں ایک گہرا سوال چھوڑ جاتا ہے…
کیا قانون صرف کمزور کے لیے ہے؟
کیا انصاف کی تلوار صرف غریب کی چھت پر ہی گرتی ہے؟

بڑی امام کے گرد آباد غریبوں کی بستیاں اگر تجاوزات ہیں، تو سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہر طاقتور تعمیر مکمل طور پر سوال سے پاک ہے؟
اگر ریاست واقعی قانون کی پاسدار ہے، تو پھر قانون کی نظر میں غریب کی جھونپڑی اور امیر کی بلند عمارت میں فرق کیوں؟

غریب آدمی اپنی پوری زندگی کی جمع پونجی سے ایک چھت بناتا ہے… وہ چھت صرف دیواریں نہیں ہوتیں، وہ اس کے بچوں کے خواب ہوتے ہیں، اس کی بیٹیوں کی عزت ہوتی ہے، اس کے بڑھاپے کا سہارا ہوتی ہے۔
جب وہ چھت گرتی ہے تو صرف مکان نہیں ٹوٹتا… ایک پورا خاندان اندر سے بکھر جاتا ہے۔

مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں طاقت اکثر حق پر بھاری دکھائی دیتی ہے۔
کمزور کے گھر پر بلڈوزر چلانا آسان ہے، کیونکہ وہاں مزاحمت کم ہوتی ہے…
مگر جہاں سرمایہ، اثر و رسوخ اور بڑے نام ہوں، وہاں فیصلے بھی شاید محتاط ہو جاتے ہیں۔

یہ تحریر کسی ترقی کی مخالفت نہیں…
ترقی ضروری ہے، شہر خوبصورت ہونے چاہئیں، قوانین نافذ ہونے چاہئیں…
مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ترقی صرف غریب کو ہٹا کر ہی ممکن ہے؟
کیا خوبصورتی صرف وہاں ضروری ہے جہاں امارت کھڑی ہو، اور غریب کی بستی صرف بدنما داغ؟

ریاست کی اصل طاقت اس کے کمزور شہری کے تحفظ میں ہوتی ہے۔
انصاف تب ہی انصاف کہلاتا ہے جب وہ طاقتور کے دروازے پر بھی اسی جرات سے پہنچے، جس جرات سے وہ غریب کی دہلیز تک آتا ہے۔

ورنہ پھر یہ تاثر جنم لیتا ہے کہ اس ملک میں قانون کی آنکھوں پر پٹی نہیں… بلکہ نظریں بھی طبقوں کے حساب سے بدلتی ہیں۔

قومیں صرف سڑکوں، ٹاورز اور ہوٹلوں سے ترقی یافتہ نہیں بنتیں…
قومیں تب عظیم بنتی ہیں جب وہاں ایک مزدور، ایک ریڑھی بان، ایک غریب ماں، ایک یتیم بچہ بھی خود کو اتنا ہی محفوظ سمجھے جتنا کسی بڑے سرمایہ دار کو۔

کیونکہ اگر ایک طرف غریب کے خواب ملبے تلے دبیں…
اور دوسری طرف امیر کے مفادات محفوظ رہیں…
تو پھر یہ ترقی نہیں، ایک خاموش ناانصافی ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ قانون کی ترازو واقعی برابر ہو…
تاکہ پاکستان صرف طاقتوروں کا نہیں، بلکہ ہر اُس انسان کا ملک بنے جو اس مٹی سے محبت کرتا ہے۔

کیونکہ یاد رکھیے…
جب انصاف بکتا ہے تو بستیاں گرتی ہیں،
اور جب انصاف جاگتا ہے تو قومیں اٹھتی ہیں۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں