بدھ، 13 مئی 2026 ☀️ اسلام آباد: C°26
تازہ ترین
اسلام آباد

بازار اور معیشت — “شیش محلوں سے اتوار بازار تک”

📅 Monday، 27 April 2026 ✍️ Editor ⏱ 7 منٹ مطالعہ 💬 کوئی تبصرہ نہیں
islamabad
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Approved ✅ Easy Installments ✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing
f 𝕏 in شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

سینٹورس” اور “گیگا مال” جیسے دیو ہیکل مینار ہیں جو جدیدیت کے علمبردار بنے کھڑے ہیں

انسانی ہمدردی اور معاشی انصاف کے ترازو میں ہمارا پلڑا کتنا ہلکا ہو چکا ہے

قسط 02

abid

اسلام آباد کے بازار محض خریداری کے مراکز نہیں ہیں بلکہ یہ وہ آئینے ہیں جن میں اس شہر کے بدلتے ہوئے مزاج اور معاشی تفاوت کو صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ جب ہم جناح ایونیو پر کھڑے ہو کر ان بلند و بالا تجارتی عمارتوں کو دیکھتے ہیں جن کے شیشے سورج کی روشنی میں سنہری ہو جاتے ہیں، تو ایسا لگتا ہے جیسے ہم کسی مغربی ملک کے جدید شہر میں آ گئے ہیں۔ یہ وہ شیش محل ہیں جہاں مصنوعی ہواؤں (ایئر کنڈیشنڈ) کا راج ہے، جہاں قدم رکھتے ہی خوشبوؤں کے جھونکے آپ کا استقبال کرتے ہیں اور جہاں اشیاء کی قیمتیں ان کی ضرورت سے نہیں بلکہ ان پر لگے “نامیاتی نشان” (برانڈ) سے طے ہوتی ہیں۔ یہ وہ اسلام آباد ہے جہاں کی اشرافیہ اپنی خوشحالی کی نمائش کے لیے ان مراکز کا رخ کرتی ہے، جہاں ایک پیالی قہوہ کی قیمت اتنی ہوتی ہے کہ جس میں شہر کے مضافات میں بسنے والا ایک مزدور اپنے پورے خاندان کے لیے ایک وقت کی روٹی خرید سکتا ہے۔ یہاں کی چکا چوند میں غریب کی آنکھیں چندھیا تو جاتی ہیں، مگر ان کے اندر داخل ہونے کی ہمت ہر کسی میں نہیں ہوتی۔

2026ء کے موجودہ معاشی تناظر میں دیکھا جائے تو ان تجارتی مراکز کا نقشہ مزید پیچیدہ ہو چکا ہے۔ اب یہاں صرف نقد رقم کا تبادلہ نہیں ہوتا بلکہ “برقی ادائیگیوں” اور “ڈیجیٹل کرنسی” کے دور نے ایک ایسا مصنوعی نظام پیدا کر دیا ہے جہاں خرچ کرنے والے کو اپنی جیب خالی ہونے کا احساس بھی دیر سے ہوتا ہے۔ ایک طرف “سینٹورس” اور “گیگا مال” جیسے دیو ہیکل مینار ہیں جو جدیدیت کے علمبردار بنے کھڑے ہیں، تو دوسری طرف ‘آبپارہ’ اور ‘جی نائن’ کے وہ قدیم بازار ہیں جہاں آج بھی روایت پسندی اور بھاؤ تاؤ کی وہ قدیم جنگ جاری ہے جو اس شہر کی روح کا حصہ ہے۔ آبپارہ کی ان تنگ گلیوں میں جہاں کسی زمانے میں اس شہر کی پہلی چائے کی دکان کھلی تھی، آج بھی وہ سادگی موجود ہے جو جدید اسلام آباد کے پوش علاقوں میں مفقود ہو چکی ہے۔ یہاں کا متوسط طبقہ اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے ان بازاروں کی خاک چھانتا ہے، جہاں اشیاء کی قیمتیں اب بھی انسانی دسترس میں رکھنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے، مگر مہنگائی کے اژدھام نے اب ان بازاروں کے چہرے سے بھی وہ مسکراہٹ چھین لی ہے جو کبھی یہاں کی پہچان تھی

اس شہر کے معاشی تفاوت کی سب سے بڑی اور واضح مثال یہاں کا “اتوار بازار” ہے، جسے ‘سستا بازار’ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں اسلام آباد کا ہر طبقہ ایک ہی سورج کے نیچے، ایک ہی گرد و غبار میں اٹی ہوئی زمین پر کھڑا نظر آتا ہے۔ ای-سیون کی کوٹھیوں سے نکلنے والی بڑی گاڑیاں ہوں یا جی-سیون کے کوارٹروں سے آنے والی پرانی سائیکلیں، سب اسی بازار میں اپنی اپنی ضرورت کی تلاش میں بھٹکتے نظر آتے ہیں۔ مگر یہاں بھی ایک پوشیدہ تقسیم موجود ہے؛ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو تازہ پھلوں اور درآمد شدہ سبزیوں کے لیے من مانگی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں، اور دوسری طرف وہ لاچار مائیں ہیں جو دکاندار سے ایک ایک روپے کی تکرار صرف اس لیے کرتی ہیں تاکہ گھر جا کر بچوں کے لیے کچھ دال روٹی کا انتظام کر سکیں۔ یہ بازار اس شہر کی معیشت کا وہ ننگا سچ ہے جو بتاتا ہے کہ اسلام آباد صرف ‘برگرز’ اور ‘امیروں’ کا شہر نہیں ہے، بلکہ اس کے پیٹ میں وہ لاکھوں سفید پوش انسان بھی پل رہے ہیں جن کے لیے گوشت خریدنا اب ایک خواب بن چکا ہے۔

حالیہ برسوں میں اسلام آباد میں “لنڈا بازار” اور “استعمال شدہ اشیاء” کی فروخت میں جو غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، وہ اس شہر کی معیشت کے زوال کی خاموش گواہی ہے۔ وہ نوجوان جو کبھی برانڈڈ کپڑوں کی تلاش میں رہتے تھے، اب وہ ان سستے بازاروں میں “پہلی کاپی” یا استعمال شدہ درآمد شدہ اشیاء تلاش کرتے نظر آتے ہیں تاکہ معاشرے میں اپنا بھرم قائم رکھ سکیں۔ دکھاوے کی اس دوڑ نے اسلام آباد کے شہریوں کو ایک ایسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا کر دیا ہے جہاں وہ اپنی آمدنی سے زیادہ اپنی نمائش پر خرچ کرنا فخر سمجھتے ہیں۔ یہاں کے کیفے ٹیریا اور ہوٹل اب صرف کھانے پینے کی جگہیں نہیں رہے بلکہ وہ “خود نمائی” (سیلفی کلچر) کے مراکز بن چکے ہیں، جہاں کھانے کے ذائقے سے زیادہ اس کی تصویر کی اہمیت ہوتی ہے۔ اسلام آباد کا یہ نیا معاشی ڈھانچہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ہم مادی ترقی کی دوڑ میں کتنے آگے نکل گئے ہیں، مگر انسانی ہمدردی اور معاشی انصاف کے ترازو میں ہمارا پلڑا کتنا ہلکا ہو چکا ہے۔ یہ شہر اپنے بازاروں کی چمک سے دنیا کو متاثر تو کر سکتا ہے، مگر اپنے اندر بسنے والے محروم طبقے کی سسکیاں نہیں چھپا سکتا۔

اختتامی کلمات (Closing Remarks)

“تجارتی مراکز کی یہ چمک اور بازاروں کا یہ ہجوم ہمیں بتاتا ہے کہ اسلام آباد کس تیزی سے اپنی شناخت بدل رہا ہے۔ لیکن کیا یہ ترقی سب کے لیے یکساں ہے؟ یا پھر یہ صرف ان لوگوں کا شہر بنتا جا رہا ہے جن کی جیبیں بھری ہوئی ہیں؟ آج کی قسط میں ہم نے بازاروں کی حقیقت دیکھی، لیکن کل ہم اس شہر کے اس نظام پر بات کریں گے جو سب سے زیادہ حساس ہے، یعنی ‘صحت اور علاج’۔ کیا یہاں شفا بھی طبقات میں بٹی ہوئی ہے؟ جاننے کے لیے دیکھیے اگلی قسط۔ اللہ نگہبان!”

ٹیگز: #bazar #centaurus #economy #giga mall #islamabad #itwar bazar #landa #sunday bazar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *