اسلام آباد پولیس نے تھانہ بھارہ کہو کی حدود سے اغواء ہونے والی دو ماہ کی بچی کو چند گھنٹوں کے اندر مری سے بحفاظت بازیاب کرا لیا

ڈی آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ اغواء جیسے سنگین جرم میں ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے
اسلام آباد
اسلام آباد پولیس نے تھانہ بھارہ کہو کی حدود سے اغواء ہونے والی دو ماہ کی بچی کو چند گھنٹوں کے اندر مری سے بحفاظت بازیاب کرا لیا، جبکہ اغواء کے سنگین جرم میں ملوث مرکزی ملزمہ اقصیٰ جمیل اور ٹیکسی ڈرائیور ظہیر کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق دو ماہ کی بچی فجر نور کو تھانہ بہارہ کہو کی حدود سے اغواء کیا گیا تھا، جس پر ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس پی محمد خرم اشرف اور ایس ڈی پی او شمس اکبر کی زیر نگرانی خصوصی پولیس ٹیمیں تشکیل دیں۔
پولیس حکام کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، سیف سٹی کیمروں اور انسانی ذرائع کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے بچی کو قلیل وقت میں مری سے بحفاظت بازیاب کر لیا گیا۔ پولیس نے کارروائی کے دوران مرکزی ملزمہ اقصیٰ جمیل اور ٹیکسی ڈرائیور ظہیر کو بھی گرفتار کر لیا۔
ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق کے مطابق ملزمہ بچی کو کھلانے کے بہانے اپنے گھر لے گئی تھی اور بعد ازاں بچی کو ساتھ لے کر فرار ہو گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمہ محلے میں جعلی نام “مریم” کے نام سے رہائش پذیر تھی۔
پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران ٹیکسی ڈرائیور سمیت مختلف افراد کو شاملِ تفتیش کیا گیا، جبکہ مری میں کامیاب کارروائی کے دوران مغوی بچی کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔
ڈی آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ اغواء جیسے سنگین جرم میں ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد پولیس نے رواں سال 2026 میں بھی اہم کیسز انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں 24 گھنٹوں سے کم وقت میں حل کیے ہیں۔
