بدترین موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں سے بچاو کیلئے تعمیراتی شعبے کو روایتی کے بجائے جدید و ماحول دوست بنایا جائے
یہ مطالبہ گزشتہ روز ایمپیک اسٹریٹیجیز کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کیا
اسلام آباد- بدترین موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں سے بچاو کیلئے تعمیراتی شعبے کو روایتی کے بجائے جدید و ماحول دوست بنایا جائے۔ یہ مطالبہ گزشتہ روز ایمپیک اسٹریٹیجیز کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کیا۔چیف آپریٹنگ آفیسر و ایئرپورٹ منیجر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سید آفتاب گیلانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی بیسڈ بلڈنگ مینجمنٹ سسٹمز عمارتوں میں توانائی کے استعمال کو خودکار طریقے سے کنٹرول کرتے ہیں جس سے بجلی کے ضیاع اور کاربن اخراج میں واضح کمی آتی ہے۔ اسی طرح اسمارٹ ڈیزائن سافٹ ویئرز موسمی حالات، درجہ حرارت اور ہوا کے بہاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے عمارتوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں جس سے عمارتیں زیادہ پائیدار اور ماحول دوست بن جاتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجیز جیسے انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT)، سینسرز اور ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے عمارتوں کی کارکردگی کو مسلسل مانیٹر کیا جا سکتا ہے، جس سے پانی اور توانائی کے استعمال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز شہری سیلاب، شدید گرمی اور دیگر موسمی خطرات سے نمٹنے کے لیے بروقت پیشگوئی اور بہتر حکمت عملی بنانے میں بھی مدد دیتی ہیں۔ڈاکٹر محمد ارشد نے کہا کہ شہری تعمیرات میں رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹمز کو لازمی جزو قرار دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے تاکہ پانی کی بڑھتی ہوئی قلت پر مؤثر انداز میں قابو پایا جا سکے۔ اس نظام کے تحت بارش کے پانی کو جمع کرکے گھریلو اور تجارتی استعمال کے لیے محفوظ بنایا جاتا ہے، جس سے زیرِ زمین پانی پر دباؤ کم ہوتا ہے اور شہری علاقوں میں پانی کی دستیابی بہتر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ رین واٹر ہارویسٹنگ نہ صرف پانی کے ضیاع کو روکتی ہے بلکہ شہری سیلاب کے خطرات میں بھی کمی لاتی ہے۔ اگر حکومت اس کو بلڈنگ بائی لاز کا حصہ بنا دے اور نئی تعمیرات میں اس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تو یہ اقدام مستقبل میں پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثر اور پائیدار حل ثابت ہو سکتا ہے۔کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیف ایڈوائزر ارشد داد نے کہا کہ گرین بلڈنگ کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ مالی وسائل کی کمی اور ابتدائی سرمایہ کاری کا زیادہ ہونا ہے۔ ماہرین کے مطابق توانائی مؤثر اور ماحول دوست عمارتیں اگرچہ تعمیر کے آغاز میں نسبتاً مہنگی ہوتی ہیں، تاہم یہ طویل مدت میں بجلی، پانی اور دیکھ بھال کے اخراجات میں نمایاں کمی لا کر مجموعی طور پر زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔ بین الاقوامی تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسی عمارتیں چند برسوں میں اپنی اضافی لاگت پوری کر لیتی ہیں، لیکن پاکستان میں مناسب مالی معاونت، سبسڈی اور آسان قرضوں کی عدم دستیابی کے باعث عام افراد اور ڈویلپرز کے لیے انہیں اپنانا مشکل بنا ہوا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت ٹیکس میں رعایت، گرین فنانسنگ اسکیمز اور مراعاتی پالیسیوں کے ذریعے اس شعبے کو فروغ دے۔
Leave a Reply