تازہ ترین
بلاگ

“اگر طاقتور بھی رشوت دے تو عام آدمی کہاں جائے

📅 Friday، 24 April 2026 ✍️ Muhammad Khalid ⏱ 3 منٹ مطالعہ 💬 کوئی تبصرہ نہیں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Approved ✅ Easy Installments ✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing
f 𝕏 in شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

محمد خالد

کبھی کبھی ایک جملہ پورے نظام کی حقیقت کھول کر رکھ دیتا ہے۔ جب ایک ذمہ دار عہدے پر بیٹھا شخص یہ کہنے پر مجبور ہو جائے کہ “کام کروانے کے لیے بھی لاکھوں روپے دینے پڑتے ہیں”، تو یہ صرف ایک بیان نہیں رہتا، بلکہ ایک ایسے نظام کی عکاسی بن جاتا ہے جو اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے۔

سوال یہ نہیں کہ یہ بات کس نے کہی، سوال یہ ہے کہ اگر ایک طاقتور شخص کو بھی نظام کے اندر کام کروانے کے لیے رشوت دینی پڑے، تو ایک عام آدمی کہاں جائے؟ وہ کس دروازے پر دستک دے؟ وہ کس سے انصاف مانگے؟ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان خود سے بھی نظریں نہیں ملا پاتا۔

آج کل “تیز رفتار گورننس” کا بڑا چرچا ہے۔ فائلیں جلدی چل رہی ہیں، فیصلے تیزی سے ہو رہے ہیں، اور بظاہر سب کچھ بہتر دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اگر اس رفتار کے پیچھے شفافیت نہ ہو، اگر اس کے نیچے کرپشن چھپی ہو، تو یہ رفتار ترقی نہیں بلکہ تباہی کا شارٹ کٹ بن جاتی ہے۔

یہ الزامات کہ کسی ادارے میں معمولی کام کے لیے بھی لاکھوں روپے دینا پڑتے ہیں، صرف ایک خبر نہیں بلکہ ایک خطرے کی گھنٹی ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو یہ صرف ایک ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے نظام کا مسئلہ ہے۔ اور اگر یہ غلط ہے تو اس کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔

کرپشن صرف پیسے کا لین دین نہیں ہوتی، یہ عوام کے اعتماد کا قتل ہوتی ہے۔ جب ایک شہری یہ محسوس کرنے لگے کہ اس کے مسائل کا حل قانون میں نہیں بلکہ “پیسوں” میں ہے، تو وہ ریاست سے جڑنا چھوڑ دیتا ہے۔ اور جب عوام کا اعتماد ختم ہو جائے، تو کوئی بھی نظام زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ احتساب صرف نعروں سے نہیں آتا، بلکہ عملی اقدامات سے آتا ہے۔ شفاف نظام، ڈیجیٹل پراسیس، اور آزاد تحقیقات ہی وہ راستے ہیں جو اس دلدل سے نکال سکتے ہیں۔ ورنہ ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سنائے گا، اور ہر کہانی میں ایک نیا دکھ ہوگا۔

یہ وقت صرف بات کرنے کا نہیں، سوچنے کا ہے۔ اگر آج بھی ہم نے آنکھیں بند رکھیں، تو کل شاید بہت دیر ہو جائے۔ ایک عام آدمی کی خاموشی سب سے بڑا المیہ ہے، کیونکہ اسی خاموشی میں ظلم پنپتا ہے۔

آخر میں دل یہی کہتا ہے:
اگر انصاف خریدنا پڑے، تو یہ نظام نہیں، مذاق ہے۔
اور اگر سچ بولنا جرم بن جائے، تو پھر خاموشی بھی گناہ بن جاتی ہے۔

ٹیگز: #international #pakistan

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *