“تین ارب کی حقیقت اور کھربوں کا فرق”
طاقت ہی اصل کہانی ہے
محمد خالد
کبھی کبھی ایک خبر صرف خبر نہیں رہتی، بلکہ پوری قوم کے لیے آئینہ بن جاتی ہے۔ جب یہ سننے کو ملا کہ یو اے ای کے ڈپازٹس کھربوں ڈالر تک پہنچ چکے ہیں اور وہ دنیا کی بڑی معیشتوں میں کھل کر سرمایہ کاری کر رہا ہے، تو دل نے ایک لمحے کے لیے رک کر سوچا… آخر فرق کہاں ہے؟
یہ فرق صرف پیسے کا نہیں، سوچ کا ہے۔ یو اے ای نے خود کو وقت کے ساتھ بدلا، اپنے وسائل کو صحیح سمت دی، اور سب سے بڑھ کر اپنی ترجیحات کو واضح رکھا۔ انہوں نے وقتی فائدے کے بجائے مستقل استحکام کو چنا۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ دنیا کے سامنے ایک طاقتور معاشی کھلاڑی کے طور پر کھڑے ہیں۔
ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ چونکہ یو اے ای ہمارا برادر اسلامی ملک ہے، اس لیے وہ ہمیں زیادہ سہارا دے، زیادہ سرمایہ دے، اور ہر مشکل وقت میں ہمارے لیے کھڑا ہو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں تعلقات جذبات سے نہیں بلکہ مفادات سے چلتے ہیں۔ یو اے ای ہو، چین ہو یا کوئی بھی طاقتور ملک — ہر کوئی وہاں سرمایہ لگاتا ہے جہاں اسے استحکام، اعتماد اور منافع نظر آئے۔
یہاں ہمیں خود سے ایک مشکل سوال پوچھنا ہوگا: کیا ہم وہ ماحول دے رہے ہیں؟
کیا ہماری پالیسیز مستقل ہیں؟
کیا ہمارے فیصلے مضبوط اور طویل المدتی ہیں؟
اگر جواب “نہیں” میں ہے، تو پھر شکوہ بھی بے معنی ہو جاتا ہے۔
آج اگر ہمیں کبھی تین ارب ادھر سے اور کبھی تین ارب ادھر سے ملتا ہے، تو یہ کسی کی زیادتی نہیں، بلکہ ہماری اپنی حقیقت ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک پیاسا سمندر کے کنارے کھڑا ہو، مگر اس کے ہاتھ میں صرف شبنم کے چند قطرے آئیں۔ اصل مسئلہ سمندر کی وسعت نہیں، اپنی استطاعت کی کمی ہے۔
طاقت کی کئی شکلیں ہوتی ہیں، مگر سب سے بڑی طاقت معاشی ہوتی ہے۔ ایک مضبوط معیشت نہ صرف ملک کو خود مختار بناتی ہے بلکہ دنیا کے سامنے اس کا مقام بھی بلند کرتی ہے۔ جب ایک ملک اپنے فیصلے خود کرنے کے قابل ہو جاتا ہے، تو پھر اسے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں رہتی۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف قرض لے کر یا وقتی سہارا لے کر کوئی قوم ترقی نہیں کرتی۔ ترقی کے لیے وژن چاہیے، مستقل مزاجی چاہیے، اور سب سے بڑھ کر خود پر یقین چاہیے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو تعلیم، ہنر اور مواقع دینے ہوں گے۔ ہمیں اپنی صنعتوں کو مضبوط کرنا ہوگا، اپنی برآمدات کو بڑھانا ہوگا، اور اپنی معیشت کو حقیقی بنیادوں پر کھڑا کرنا ہوگا۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب تک ہم اندر سے مضبوط نہیں ہوں گے، باہر کی دنیا ہمیں سنجیدگی سے نہیں لے گی۔ عزت مانگنے سے نہیں ملتی، بلکہ اپنی قابلیت اور طاقت سے حاصل کی جاتی ہے۔
آج وقت ہے کہ ہم دوسروں کو دیکھ کر حسرت کرنے کے بجائے خود کو بدلنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم نے اپنی سمت درست کر لی، تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان بھی ایک مضبوط اور باوقار معاشی قوت کے طور پر دنیا کے سامنے کھڑا ہوگا۔
آخر میں بس اتنا کہنا کافی ہے کہ:
طاقت ہی اصل کہانی ہے، باقی سب وقتی سہارے ہیں۔ اگر ہم نے اپنی بنیاد مضبوط کر لی، تو پھر نہ کسی کے سامنے جھکنا پڑے گا، نہ کسی سے شکوہ کرنا پڑے گا۔
Leave a Reply