بدھ، 13 مئی 2026 ☀️ اسلام آباد: C°26
تازہ ترین
دین

قادیانی ایسے ھی کافر قرار نہیں دیے گئے

📅 Wednesday، 22 April 2026 ✍️ Muhammad Khalid ⏱ 11 منٹ مطالعہ 💬 کوئی تبصرہ نہیں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Approved ✅ Easy Installments ✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing
f 𝕏 in شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

کفرِ قادیانیت و لاہوری گروپ پر قومی اسمبلی میں جرح تیرہ روز تک جاری رہی۔گیارہ دن ربوہ گروپ پر اور دو دن لاہوری گروپ پر۔ہرروز آٹھ گھنٹے جرح ہوئی۔اس طویل جرح و تنقید نے قادیانیت کے بھیانک چہرے کو بےنقاب کر کے رکھ دیا۔ اس کے بعد ایک اور مناظرہ ذولفقار علی بھٹو کی حکومت سے شروع ہوا کہ آئین پاکستان میں اس مقدمہ کا ”حاصل مغز“ کیسے لکھا جائے۔؟

°قادیانی بل
جب قومی اسمبلی میں فیصلہ ہوا
کہ قادیانیت کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنا
موقف اور دلائل دینے قومی اسمبلی میں آئیں تو !!

مرزا ناصر قادیانی سفید شلوار کرتے میں ملبوس طرے دار پگڑی باندھ کر آیا۔متشرع سفید داڑهی۔قرآن کی آیتیں بهی پڑھ رہے تهے
اور آپ صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا اسم مبارک زبان پر لاتے تو پورے ادب کے ساتھ درودشریف بهی پڑھتے.
ایسے میں ارکان اسمبلی کہ ذہنوں کو تبدیل کرنا کوئی آسان کام نہیں تها۔
یہ مسئلہ بہت بڑا اور مشکل تها
اللّٰه کی شان کہ پورے ایوان کی طرف سے مولانا شاہ احمد نورانی صاحب کو ایوان کی ترجمانی کا شرف ملا اور نورانی صاحب نے راتوں کو جاگ جاگ کر مرزا غلام قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کیا۔حوالے نوٹ کیئے۔سوالات ترتیب دیئے۔ اسی کا نتیجہ تها کہ مرزا طاہرقادیانی کے طویل بیان کے بعد جرح کا جب آغاز ہوا اب سوالات نورانی صاحب کی طرف سے اور جوابات مرزا طاہر قادیانی کی طرف سے آپ کی خدمت میں۔۔۔۔


سوال۔مرزا غلام احمد کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟
جواب۔وہ امتی نبی تهے۔امتی نبی کا معنی یہ ہے کہ امت محمدیہ کا فرد جو آپ کے کامل اتباع کی وجہ سے نبوت کا مقام حاصل کر لے۔
سوال۔اس پر وحی آتی تهی؟
جواب۔آتی تهی۔
سوال۔ (اس میں) خطا کا کوئی احتمال؟
جواب۔بالکل نہیں۔
سوال۔مرزا قادیانی نے لکها ہے جو شخص مجھ پر ایمان نہیں لاتا“ خواہ اس کو میرا نام نہ پہنچا ہو (وہ)کافر ہے۔پکا کافر۔دائرہ اسلام سے خارج ہے۔اس عبارت سے تو ستر کروڑ مسلمان سب کافر ہیں؟
جواب ۔کافر تو ہیں۔لیکن چهوٹے کافر ہیں“جیسا کہ امام بخاری نےاپنےصحیح میں ”کفردون کفر“ کی روایت درج کی ہے۔
سوال۔آگے مرزا نے لکها ہے۔پکا کافر؟
جواب۔اس کا مطلب ہے اپنے کفر میں پکے ہیں۔
سوال۔آگے لکها ہے دائرہ اسلام سے خارج ہے۔حالانکہ چهوٹا کفر ملت سے خارج ہونے کا سبب نہیں بنتا ہے؟
جواب۔دراصل دائرہ اسلام کے کئی کٹیگیریاں ہیں۔اگر بعض سے نکلا ہے تو بعض سے نہیں نکلا ہے۔
سوال ایک جگہ اس نے لکها ہےکہ جہنمی بهی ہیں؟
(یہاں نورانی صاحب فرماتےہیں جب قومی اسمبلی کے ممبران نےجب یہ سنا تو سب کے کان کهڑے ہوگئے کہ اچها ہم جہنمی ہیں اس سے ممبروں کو دهچکا لگا)
اسی موقع پر دوسرا سوال کیا کہ مرزا قادیانی سے پہلے کوئی نبی آیا ہے جو امتی نبی ہو؟ کیا صدیق اکبر ؓ یا حضرت عمر فاروق ؓ امتی نبی تهے؟
جواب۔ نہیں تھے۔
اس جواب پر نورانی صاحب نے کہا پهرتو مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد آپ کا ہمارا عقیدہ ایک ہوگیا۔بس فرق یہ ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے بعد نبوت ختم سمجهتے ہیں۔تم مرزا غلام قادیانی کے بعد نبوت ختم سمجهتے ہو۔تو گویا تمہارا خاتم النبیین مرزا غلام قادیانی ہے۔اور ہمارے خاتم النبیین نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہیں۔
جواب۔وہ فنا فی الرسول تهے۔یہ ان کا اپنا کمال تها۔وہ عین محمد ہوگئے تهے (معاذاللّٰه نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی اس سے زیادہ توہین کیا ہوسکتی تهی)
سوال۔مرزا غلام قادیانی نے اپنے کتابوں کے بارے میں لکها ہے۔اسے ہر مسلم محبت و مودت کی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے۔اور ان کے معارف سے نفع اٹهاتا ہے۔ مجهےقبول کرتاہے۔اور(میرے)دعوے کی تصدیق کرتا ہے۔مگر (ذزیتہ البغایا) بدکار عورتوں کی اولاد وہ لوگ جن کے دلوں پر اللّٰه نے مہر لگا رکهی ہے۔وہ مجهے قبول نہیں کرتے۔؟
جواب۔بغایا کہ معنی سرکشوں کے ہیں۔
سوال۔بغایا کا لفظ قرآن پاک میں آیاہے” و ما کانت امک بغیا“ سورہ مریم )ترجمہ ہے تیری ماں بدکارہ نہ تهی“
جواب۔قرآن میں بغیا ہے۔بغایا نہیں۔
اس جواب پر نورانی صاحب نےفرمایا کہ صرف مفرد اور جمع کا فرق ہے۔نیز جامع ترمذی شریف میں اس مفہوم میں لفظ بغایا بهی مذکور ہے یعنی ”البغایا للاتی ینکحن انفسهن بغیر بینه“)پھر جوش سےکہا)میں تمہیں چیلنج کرتا ہوں کہ تم اس لفظ بغیه کا استعمال اس معنی (بدکارہ) کے علاوہ کسی دوسرے معنی میں ہر گز نہیں کرکے دکها سکتے۔!!!
(اور مرزا طاہر لاجواب ہوا یہاں )
13دن کے سوال جواب کے بعد جب فیصلہ کی گهڑی آئی تو22اگست1974کو اپوزیشن کی طرف سے6افراد پرمشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی۔جن میں مفتی محمود صاحب“ مولانا شاہ احمدنورانی صاحب“پروفیسر غفور احمد صاحب“چودہری ظہور الہی صاحب“مسٹر غلام فاروق صاحب“سردار مولا بخش سومرو صاحب اور حکومت کی طرف سے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب تهے۔ان کے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ یہ آئینی و قانون طور پر اس کا حل نکالیں۔تاکہ آئین پاکستان میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کے کفر کو درج کردیا جائے۔لیکن اس موقع پر ایک اور مناظرہ منتظر تها۔۔۔
کفرِ قادیانیت و لاہوری گروپ پر قومی اسمبلی میں جرح تیرہ روز تک جاری رہی۔گیارہ دن ربوہ گروپ پر اور دو دن لاہوری گروپ پر۔ہرروز آٹھ گھنٹے جرح ہوئی۔اس طویل جرح و تنقید نے قادیانیت کے بھیانک چہرے کو بےنقاب کر کے رکھ دیا۔ اس کے بعد ایک اور مناظرہ ذولفقار علی بھٹو کی حکومت سے شروع ہوا کہ آئین پاکستان میں اس مقدمہ کا ”حاصل مغز“ کیسے لکھا جائے۔؟
*مسلسل بحث مباحثہ کے بعد
22اگست سے5 ستمبر1974کی شام تک اس کمیٹی کے بہت سے اجلاس ہوئے۔مگر متفقہ حل کی صورت گری ممکن نہ ہوسکی۔سب سے زیادہ جهگڑا دفعہ 106میں ترمیم کے مسئلے پر ہوا۔حکومت چاہتی تھی اس میں ترمیم نہ ہو۔اس دفعہ 106کے تحت صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی تهی۔ایک بلوچستان میں۔ایک سرحد میں۔ایک دو سندھ میں اور پنجاب میں تین سیٹیں اور کچھ 6اقلیتوں کے نام بهی لکهے ہیں۔عیسائی۔ہندو پارسی۔بدھ اور شیڈول کاسٹ یعنی اچهوت۔
نورانی صاحب اور دیگر کمیٹی کے ارکان یہ چاہتے تهے کہ ان 6 کی قطار میں قادیانیوں کو بهی شامل کیا جائے۔تاکہ کوئی “شبہ” باقی نہ رہے۔
اس کے لیے بهٹو حکومت تیار نہ تهی۔وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا اس بات کو رہنے دو۔
نورانی صاحب نے کہا جب اور اقلیتوں اور فرقوں کے نام فہرست میں شامل ہیں تو ان کا نام بهی لکھ دیں۔
پیرزادہ نےجواب دیا کہ ان اقلیتوں کاخود کا مطالبہ تهاکہ ہمارا نام لکھاجائے۔
جب کہ مرزائیوں کی یہ ڈیمانڈ نہیں ہے۔
نورانی صاحب نے کہا کہ یہ تو تمہاری تنگ نظری اور ہماری فراخ دلی کا ثبوت ہے کہ ہم ان مرزائیوں کو بغیر ان کی ڈیمانڈ کے انہیں دےرہےہیں (کمال کاجواب)
اس بحث مباحثہ کا 5ستمبر کی شام تک کمیٹی کوئی فیصلہ ہی نہ کرسکی چنانچہ 6ستمبر کو وزیراعظم بهٹو نے نورانی صاحب سمیت پوری کمیٹی کے ارکان کو پرائم منسٹر ہاوس بلایا۔لیکن یہاں بهی بحث و مباحثہ کا نتیجہ صفر نکلا۔حکومت کی کوشش تهی کہ دفعہ106میں ترمیم کامسئلہ رہنےدیاجائے۔
جب کہ نورانی صاحب اور دیگر کمیٹی کے ارکان سمجهتےتهےکہ اس کے بغیر حل ادهورا رہےگا۔
بڑے بحث و مباحثہ کے بعد بهٹو صاحب نے کہا کہ میں سوچوں گا۔
عصر کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے نورانی صاحب اور دیگر کمیٹی ارکان کو اسپیکر کے کمرے میں بلایا۔ نورانی صاحب اور کمیٹی نے وہاں بهی اپنےاسی موقف کو دهرایاکہ دفعہ 106میں دیگر اقلیتوں کے ساتھ مرزائیوں کا نام لکها اور اس کی تصریح کی جائے۔
اور بریکٹ میں قادیانی اور لاہوری گروپ لکها جائے۔
پیرزادہ صاحب نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو مرزائی نہیں کہتے، احمدی کہتے ہیں۔
نورانی صاحب نے کہا کہ احمدی تو ہم ہیں۔ہم ان کو احمدی تسلیم نہیں کرتے۔پهر کہا کہ چلو مرزا غلام احمد کے پیرو کار لکھ دو۔
وزیرقانون نےنکتہ اٹهایاکہ آئین میں کسی شخص کانام نہیں ہوتا(حالانکہ محمد علی جناح کا نام آئین میں موجود ہے)اور پهر سوچ کر بولے کہ نورانی صاحب مرزا کا نام ڈال کر کیوں آئین کو پلید کرتے ہو؟۔وزیر قانون کا خیال تها شاید نورانی صاحب اس حیلےسے ٹل جائیں گے۔(لیکن نورانی تو پهرنورانی صاحب تهے)
نورانی صاحب نے جواب دیاکہ شیطان۔ابلیس۔خنزیر اور فرعون کے نام تو قرآن پاک میں موجود ہیں۔کیا ان ناموں سے نعوذ باللہ قرآن پاک کی صداقت وتقدس پر کوئی اثر پڑا ہے۔؟
اس موقع پر وزیر قانون پیرزادہ صاحب لاجواب ہو کر کہنے لگے۔
چلو ایسا لکھ دوجو اپنےآپ کو احمدی کہلاتےہیں۔
نورانی صاحب نے کہا بریکٹ بند ثانوی درجہ کی حیثیت رکهتاہے۔صرف وضاحت کےلیےہوتا ہے۔لہذا یوں لکھ دو قادیانی گروپ۔لاہوری گروپ جو اپنےکو احمدی کہلاتےہیں۔اور پهرالحمدللّٰہ اس پرفیصلہ ہوگیا۔
تاریخی فیصلہ۔۔
7ستمبر1974 ہمارے ملک پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا وہ یادگار دن تها جب1953اور74کے شہیدانِ ختم نبوت کاخون رنگ لایا۔اورہماری قومی اسمبلی نےملی امنگوں کی ترجمانی کی اورعقیدہ ختم نبوت کوآئینی تحفظ دےکر
قادیانیوں کودائرہ اسلام سےخارج قراردےدیا۔
دستورکی دفعہ 260میں اس تاریخی شق کااضافہ یوں ہواہے۔
”جوشخص خاتم النبیین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پرمکمل اورغیرمشروط ایمان نہ رکهتاہو۔اورمحمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کےبعدکسی بهی معنی و مطلب یا کسی بهی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرنے والے کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہو۔وہ آئین یا قانون کے مقاصدکےضمن میں مسلمان نہیں۔
اوردفعہ106کی نئی شکل کچھ یوں بنی۔۔
*بلوچستان پنجاب سرحد اور سندھ کے صوبوں کی صوبائی اسمبلیوں میں ایسے افراد کے لیے مخصوص نشستیں ہوں گی جو عیسائی۔ہندو سکھ۔بدھ اور پارسی فرقوں اور قادیانیوں گروہ یا لاہوری افراد
(جواپنےآپ کواحمدی کہتے ہیں)
یا
شیڈول کاسٹس سےتعلق رکهتےہیں۔
(ان کی)
بلوچستان میں ایک۔
سرحدمیں ایک۔
پنجاب میں تین۔
اورسندھ میں دوسیٹیں ہوں گی،
یہ بات اسمبلی کےریکارڈ پر ہے۔
کہ
اس ترمیم کےحق میں130ووٹ آئےاور
مخالفت میں ایک بهی ووٹ نہیں آیا۔
اس موقع پر اس مقدمہ کےقائدمولانا شاہ احمدنورانی رحمتہ اللّٰه نے فرمایا۔
اس فیصلے پر پوری قوم مبارک باد کی مستحق ہےاس پر نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام میں *اطمینان کااظہارکیا جائےگا۔
میرےخیال میں مرزائیوں کوبهی اس فیصلہ کو خوش دلی سےقبول کرناچاہیئے۔کیونکہ اب انہیں غیر مسلم کےجائزحقوق ملیں گے۔اور پهرفرمایاکہ
سیاسی طورپرتو میں یہی کہہ سکتا ہوں(ملک کے)الجھے ہوئے مسائل کاحل بندوق کی گولی میں نہیں۔بلکہ مذاکرات کی میزپرملتےہیں

ٹیگز: #india #international #pakistan #qadyani non muslim

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *