“پاکستان تیار ہے، پاکستان کھلا ہے”: لندن میں وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کا عالمی سرمایہ کاروں کو بڑا پیغام
پاکستان: تین ارب افراد کی منڈی کا گیٹ وے
خصوصی رپورٹ: نیوز ڈیسک، دوست نیوز
لندن/اسلام آباد (21 اپریل 2026): وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے لندن میں منعقدہ “کامن ویلتھ ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ سمٹ (CTIS 2026)” میں پاکستان کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کر دیا۔ عالمی مندوبین، پالیسی سازوں اور بڑے کاروباری گروپوں کے سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کو ایک ایسی معیشت کے طور پر متعارف کرایا جو اب اصلاحات کے ذریعے عالمی سرمایہ کاری کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
پاکستان: تین ارب افراد کی منڈی کا گیٹ وے
وفاقی وزیر نے پاکستان کے سٹریٹجک محل وقوع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گوادر اور کراچی کی بندرگاہیں جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کو جوڑنے والا سب سے اہم تجارتی پل ہیں۔ انہوں نے سی پیک (CPEC) کے تحت بننے والے انفراسٹرکچر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے ذریعے عالمی سرمایہ کار دنیا کی ایک تہائی آبادی (تین ارب افراد) تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
سرمایہ کاروں کے لیے انقلابی اصلاحات
قیصر احمد شیخ نے عالمی برادری کو حکومتِ پاکستان کی حالیہ اصلاحات سے آگاہ کیا:
- پاکستان انویسٹمنٹ پالیسی 2023: جس کا ہدف سرمایہ کاری کے تناسب کو جی ڈی پی کے 20 فیصد تک لے جانا ہے۔
- ریگولیٹری ماڈرنائزیشن: 400 سے زائد اصلاحات کے ذریعے کاروباری لاگت میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔
- ون ونڈو آپریشن: ‘بزنس فسیلیٹیشن سینٹرز’ اور ڈیجیٹل پورٹلز کے ذریعے این او سیز (NOCs) کے حصول کو آسان بنا دیا گیا ہے۔
- ترجیحی شعبے: آئی ٹی، زراعت، توانائی، معدنیات اور خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) میں ٹیکس چھوٹ اور ڈیوٹی فری مشینری کی درآمد کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
اسلام آباد میں عالمی سمٹ کی دعوت
ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر، وفاقی وزیر نے تجویز پیش کی کہ کامن ویلتھ ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ سمٹ 2027 یا 2028 کا انعقاد اسلام آباد میں کیا جائے، تاکہ دنیا اپنی آنکھوں سے پاکستان کی ترقی اور محفوظ سرمایہ کاری کے ماحول کا مشاہدہ کر سکے۔
معاشی تجزیہ: دوست نیوز (Dost News Analysis)
لندن میں قیصر احمد شیخ کا خطاب محض ایک روایتی تقریر نہیں بلکہ پاکستان کی “اکنامک ڈپلومیسی” کا ایک اہم موڑ ہے۔ اس دورے اور خطاب کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو چند کلیدی نکات سامنے آتے ہیں:
1. اعتماد کی بحالی (Confidence Building):
پاکستان اس وقت ایک ایسے مرحلے پر ہے جہاں اسے غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (FDI) کی اشد ضرورت ہے۔ لندن جیسے عالمی مالیاتی مرکز میں “Pakistan is Open” کا نعرہ لگانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت سیاسی استحکام کے بعد اب معاشی استحکام کی مارکیٹنگ کر رہی ہے۔
2. کامن ویلتھ کا پلیٹ فارم اور برطانوی مارکیٹ:
کامن ویلتھ ممالک کے ساتھ تجارت پاکستان کے لیے برآمدات بڑھانے کا سنہری موقع ہے۔ برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اور وہاں کے سرمایہ کاروں کو پاکستان کی مینوفیکچرنگ سپلائی چین کا حصہ بنانا ایک دانشمندانہ چال ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آ سکتی ہے۔
3. اصلاحات کا عملی نفاذ:
وزیر موصوف نے ‘آسان کاروبار ایکٹ 2025’ کا ذکر کیا۔ دوست نیوز کے تجزیے کے مطابق، اگر ان اصلاحات پر روح کے مطابق عمل درآمد ہوتا ہے، تو پاکستان ‘ایز آف ڈوئنگ بزنس’ کی عالمی رینکنگ میں بڑی چھلانگ لگا سکتا ہے۔ تاہم، چیلنج یہ ہے کہ ان پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کار طویل مدتی منصوبوں میں پیسہ لگائیں۔
4. نوجوان افرادی قوت: ایک انمول اثاثہ:
تقریر میں 24 کروڑ آبادی اور نوجوانوں کی اکثریت کا ذکر عالمی ٹیک کمپنیوں (Tech Giants) کو متوجہ کرنے کے لیے تھا۔ اگر پاکستان آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن میں ان سرمایہ کاروں کو راغب کرنے میں کامیاب ہو گیا، تو یہ بے روزگاری کے خاتمے اور ڈیجیٹل انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
حاصلِ کلام:
وفاقی وزیر کی یہ کوششیں قابلِ ستائش ہیں، لیکن ان کا اصل فائدہ تبھی ہوگا جب لندن میں دکھائی گئی “سبز تصویر” زمین پر بھی اتنی ہی شفاف ہو۔ اسلام آباد میں عالمی سمٹ کی تجویز ایک جرات مندانہ قدم ہے جو پاکستان کے بارے میں عالمی تاثر (Global Perception) بدلنے میں گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔
دوست نیوز – باخبر پاکستان، خوشحال پاکستان
اس رپورٹ کو شیئر کریں اور اپنی رائے سے ہمیں آگاہ کریں۔
#PakistanEconomy #InvestmentInPakistan #Cais2026 #QaiserAhmedSheikh #LondonSummit #DostNews #BusinessPakistan #FDI
Leave a Reply