ریاض ۔18اپریل:سعودی وزارتِ داخلہ ’’ طریق مکہ ‘‘ اقدام پر عملدرآمد جاری رکھے ہوئے ہے جو مملکت کے ویژن 2030 کے پروگرام ’’ خدمتِ ضیوف الرحمن ‘‘ کے اقدامات میں سے ایک ہے۔العربیہ اردو کے مطابق یہ اقدام 10 ممالک مراکش، انڈونیشیا، ملائیشیا، پاکستان، بنگلہ دیش، ترکیہ، کوٹ ڈی آئیوری، مالدیپ، اور پہلی بار جمہوریہ سینیگال اور برونائی دارالسلام کے 17 مراکز کے ذریعے فراہم کیا جا رہا ہے۔”طریق مکہ” اقدام کا مقصد مستفید ممالک کے عازمینِ حج کے لیے ان کے اپنے ممالک میں ہی تمام طریقہ کار کو آسانی سے مکمل کر کے سفرِ حج کو سہل بنانا ہے۔ اس کا آغاز الیکٹرانک ویزا کے اجرا سے ہوتا ہے جس کے بعد روانگی کے ایئرپورٹ پر ہی پاسپورٹ کی کارروائی مکمل کی جاتی ہے۔ طبی شرائط کی تصدیق کی جاتی ہے اور سامان کی کوڈنگ اور چھانٹی سعودی عرب میں نقل و حمل اور رہائش کے انتظامات کے مطابق کی جاتی ہے۔
اس سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مملکت پہنچتے ہی عازمین مخصوص راستوں کے ذریعے براہِ راست بسوں میں سوار ہو کر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں اپنی قیام گاہوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان کا سامان متعلقہ ادارے ان کی رہائش گاہوں تک پہنچانے کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔سعودی عرب نے 2018 میں اس اقدام کا تجرباتی مرحلہ شروع کیا تھا اور 2019 میں اسے مکمل شکل میں متعارف کرایا گیا جس نے پہلے مرحلے میں سات ممالک سے آنے والے حاجیوں کے تجربے کو بہتر بنانے اور انہیں مملکت کے سفر کے دوران اعلیٰ معیار کی خدمات سے مستفید کرنے میں انقلابی تبدیلی پیدا کی۔ حجاج کے مملکت پہنچتے ہی انہیں اور ان کے سامان کو براہِ راست مکہ یا مدینہ میں ان کی رہائش گاہوں پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔
اس اقدام کی بدولت مملکت نے پاسپورٹ کاؤنٹرز پر صرف کیے جانے والے وقت کو چند منٹوں تک محدود کر دیا ہے۔ اپنے آغاز سے اب تک یہ اقدام 12 لاکھ 54 ہزار 994 حاجیوں کو خدمات فراہم کر چکا ہے۔واضح رہے وزارتِ داخلہ اس اقدام کو آٹھویں سال وزارتِ خارجہ، صحت، حج و عمرہ، اطلاعات، سول ایوی ایشن اتھارٹی، زکوۃ، ٹیکس و کسٹمز اتھارٹی، سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی (سدایا)، اوقاف اتھارٹی، خدمتِ ضیوف الرحمن پروگرام اور پاسپورٹ ڈائریکٹوریٹ کے تعاون اور ڈیجیٹل پارٹنر (ایس ٹی سی گروپ) کے اشتراک سے نافذ کر رہی ہے۔



