ایک گہرا تجزیاتی جائزہ: اہم مذاکرات کار، بحری محاصرہ اور عالمی استحکام کو درپیش خطرات
اسلام آباد | دوست نیوز ڈیسک
تاریخ: 20 اپریل 2026
پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بن چکا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں سے جاری عارضی جنگ بندی میں توسیع کے لیے مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہونے والا ہے۔ یہ مذاکرات ایک ایسے نازک موڑ پر ہو رہے ہیں جب خطہ ایک وسیع تر جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ بدھ کے روز جنگ بندی کی مدت ختم ہو رہی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے “بمباری” کی دھمکیوں اور بحیرہ عمان میں ایرانی بحری جہاز “توسکا” کی قبضے کے بعد سفارتی ماحول انتہائی بوجھل ہے۔
مذاکرات کے پس منظر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل اور ایران کی جنگ نے مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے بعد امید پیدا ہوئی تھی، لیکن حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ امریکی بحریہ کی جانب سے 294 میٹر طویل ایرانی کنٹینر جہاز ‘توسکا’ کی گرفتاری کو تہران نے “بحری قزاقی” قرار دیا ہے، جبکہ واشنگٹن اسے ناکہ بندی کی خلاف ورزی قرار دے رہا ہے۔
میز پر بیٹھے اہم کھلاڑی: امریکی وفد
امریکی وفد کی قیادت وہ شخصیات کر رہے ہیں جو صدر ٹرمپ کے انتہائی قریبی اور “امریکہ فرسٹ” پالیسی کے سخت گیر حامی سمجھے جاتے ہیں۔
1. جے ڈی ونس (JD Vance) – امریکی نائب صدر
41 سالہ جے ڈی ونس اس وقت امریکی خارجہ پالیسی کا سب سے طاقتور چہرہ بن کر ابھرے ہیں۔ ییل لا اسکول سے فارغ التحصیل اور سابق میرین، ونس نے عراق جنگ میں خدمات انجام دیں، جس کی وجہ سے وہ مشرق وسطیٰ کی پیچیدگیوں کو عسکری نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ صدر ٹرمپ کے وفادار ترین ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں اور اسرائیل کے غیر متزلزل حامی ہیں۔ ان کا اسلام آباد آنا اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن ان مذاکرات کو محض بیوروکریٹک نہیں بلکہ اعلیٰ سیاسی سطح پر دیکھ رہا ہے۔
2. جیرڈ کشنر (Jared Kushner) – غیر سرکاری مشیر
جیرڈ کشنر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اگرچہ ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے، لیکن وہ ٹرمپ انتظامیہ کے “شیڈو ڈپلومیسی” کے سب سے بڑے کھلاڑی ہیں۔ ابراہم کارڈز (Abraham Accords) کے معمار کے طور پر، کشنر کے پاس عرب دنیا اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔ 2026 کے اوائل میں عمان میں ہونے والے خفیہ مذاکرات میں ان کا کردار کلیدی تھا، اور اب بھی وہ ایران کے ساتھ کسی “بڑی ڈیل” کے لیے پس پردہ متحرک ہیں۔
3. اسٹیو وِٹکوف (Steve Witkoff) – مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی
69 سالہ رئیل اسٹیٹ ٹائیکون اسٹیو وٹکوف کو ٹرمپ نے “امن کی آواز” قرار دیا ہے۔ وہ صدر کے دیرینہ دوست ہیں اور کشنر کے ساتھ مل کر ایران کے ساتھ بیک چینل ڈپلومیسی چلا رہے ہیں۔ ان کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ اقتصادی معاملات پر سودے بازی کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ تہران واشنگٹن کی شرائط تسلیم کرے۔
تہران کی ٹیم: تجربہ کار سفارت کار اور عسکری ماہرین
ایران نے مذاکرات کے لیے ایک ایسی ٹیم بھیجی ہے جو دفاعی طاقت اور سفارتی مہارت کا امتزاج ہے۔
1. محمد باقر قالیباف – اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
64 سالہ قالیباف ایران کے قدامت پسند بلاک کا ایک مضبوط ستون ہیں۔ پاسداران انقلاب (IRGC) کی فضائیہ کے سابق سربراہ اور تہران کے سابق میئر کی حیثیت سے، وہ سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت رکھتے ہیں۔ ان کی موجودگی اس بات کی ضمانت ہے کہ میز پر جو بھی فیصلہ ہوگا، اسے ایرانی عسکری قیادت کی منظوری حاصل ہوگی۔
2. عباس عراقچی – وزیر خارجہ
63 سالہ عباس عراقچی ایران کے سب سے ماہر سفارت کار مانے جاتے ہیں۔ 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کے مرکزی کردار ہونے کی وجہ سے وہ مغربی مذاکرات کاروں کے طریقہ کار سے بخوبی واقف ہیں۔ برطانیہ سے پی ایچ ڈی کرنے والے عراقچی کو ایک عملی پسند (Pragmatist) سیاستدان سمجھا جاتا ہے جو مشکل ترین حالات میں بھی راستہ نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایک بڑا خلا: علی لاریجانی کی شہادت
ان مذاکرات میں ایران کے سب سے تجربہ کار اسٹریٹجک ذہن، علی لاریجانی کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ مارچ کے شروع میں اسرائیلی فضائی حملے میں ان کی شہادت نے تہران کو ایک ایسے مذاکرات کار سے محروم کر دیا جو فلسفہ، ریاضی اور سیکیورٹی کے معاملات پر یکساں گرفت رکھتے تھے۔ ان کی کمی کی وجہ سے ایرانی موقف میں مزید سختی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان کا کلیدی کردار: سہولت کار یا ثالث؟
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اس بحران میں ایک اہم متحرک کردار ادا کیا ہے۔ 20 اپریل کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ان کی ٹیلیفونک گفتگو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق، اسحاق ڈار نے زور دیا کہ:
“تمام زیر التواء امور کے حل کے لیے جلد از جلد مسلسل مذاکرات اور روابط ناگزیر ہیں تاکہ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔”
پاکستان کا کردار اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اسلام آباد دونوں ممالک کے لیے ایک “نیوٹرل گراؤنڈ” فراہم کر رہا ہے، جہاں وہ براہ راست یا بالواسطہ بات چیت کر سکتے ہیں۔
عالمی ردعمل: روس، چین اور خلیج کے خدشات
عالمی طاقتیں اس وقت سانسیں روکے اسلام آباد کی طرف دیکھ رہی ہیں۔
- چین: صدر شی جن پنگ نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں جہاز رانی کی آزادی برقرار رہنی چاہیے۔ چین کی معیشت کا بڑا انحصار اس راستے سے آنے والے تیل پر ہے، اس لیے وہ کسی بھی قسم کے بحری محاصرے کے خلاف ہے۔
- روس: کریملن نے اگرچہ خود کو ثالثی سے دور رکھا ہے، لیکن یہ پیشکش کی ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ روس کے ایران کے ساتھ دفاعی تعلقات اس وقت اپنی بلند ترین سطح پر ہیں۔
- عالمی منڈی: اگر بدھ تک کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ماہرین کا خیال ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہوگا۔
تجزیہ: کیا کوئی معاہدہ ممکن ہے؟
موجودہ صورتحال میں مذاکرات کی کامیابی پر شکوک و شبہات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ اس کی چند بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:
- صدر ٹرمپ کا سخت موقف: ٹرمپ کا “بہت سارے بم پھٹنے” کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ مذاکرات کو طاقت کے زور پر منوانا چاہتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایران کا معاشی محاصرہ اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گا۔
- ایرانی مزاحمت: صدر مسعود پزشکیان کا بیان کہ “ایرانی کبھی طاقت کے آگے سر نہیں جھکائیں گے” تہران کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ دباؤ میں آکر کوئی ایسا معاہدہ نہیں کریں گے جو ان کی خودمختاری کے خلاف ہو۔
- توسکا کا معاملہ: ایرانی بحری جہاز کی گرفتاری نے مذاکرات سے پہلے ہی فضا کو مکدر کر دیا ہے۔ تہران کا مطالبہ ہے کہ جب تک بحری ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، مذاکرات کا فائدہ نہیں۔
مستقبل کا منظرنامہ (Scenario Analysis)
- کامیاب منظرنامہ: اگر دونوں فریقین عارضی جنگ بندی میں مزید ایک ماہ کی توسیع پر راضی ہو جاتے ہیں اور امریکہ “توسکا” کو چھوڑنے کا وعدہ کرتا ہے، تو یہ سفارت کاری کی بڑی فتح ہوگی۔
- ناکام منظرنامہ: اگر بدھ تک کوئی اتفاق نہ ہوا، تو صدر ٹرمپ کے بقول “جنگ بندی ختم ہو جائے گی”۔ اس کا مطلب ہے کہ ایران کی بجلی کی تنصیبات اور سویلین انفراسٹرکچر پر حملے شروع ہو سکتے ہیں، جس کے جواب میں ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر سکتا ہے۔
نتیجہ
اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات محض دو ممالک کے درمیان نہیں بلکہ دنیا کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ جے ڈی ونس اور عباس عراقچی کے کاندھوں پر اس وقت ایک ایسی ذمہ داری ہے جو اگر ناکام ہوئی تو مشرق وسطیٰ کی آگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والا یہ دوسرا دور اس بات کا تعین کرے گا کہ کیا 2026 کا سال ایک بڑی عالمی جنگ کے طور پر یاد رکھا جائے گا یا سفارت کاری کی فتح کے طور پر۔
دنیا کی نظریں بدھ کے ڈیڈ لائن پر لگی ہوئی ہیں۔
نوٹ: یہ رپورٹ دستیاب معلومات اور حالیہ سفارتی پیش رفت کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔



