محمد خالد
آج کا انسان بظاہر زندہ ہے… سانس لے رہا ہے، چل رہا ہے، بات کر رہا ہے… مگر حقیقت میں وہ اندر سے مر چکا ہے۔ چہرے مسکرا رہے ہیں مگر دل رو رہے ہیں، اور یہی وہ خاموش درد ہے جس نے انسان کو زندہ لاش بنا دیا ہے۔
مایوسی اور منفی خیالات نے ہماری سوچ کو اس طرح قید کر لیا ہے کہ ہر راستہ بند، ہر امید ختم اور ہر خواب ٹوٹا ہوا لگتا ہے۔ ہم خود سے ہی ہار چکے ہیں، بغیر لڑے، بغیر کوشش کیے۔ “میں نہیں کر سکتا… میری قسمت خراب ہے… میرے لیے کچھ نہیں رکھا…” یہ صرف جملے نہیں بلکہ وہ زنجیریں ہیں جو انسان کو آہستہ آہستہ جکڑ لیتی ہیں۔
مایوسی کوئی عام چیز نہیں، یہ وہ اندھیرا ہے جو انسان کی روح تک اتر جاتا ہے۔ یہ اس سے اس کی ہنسی چھین لیتی ہے، اس کا سکون، اس کی نیند، حتیٰ کہ اس کا جینے کا مقصد بھی ختم کر دیتی ہے۔ وہ ہنستا ہے مگر اندر سے ٹوٹا ہوتا ہے، لوگوں کے درمیان ہوتا ہے مگر خود کو اکیلا محسوس کرتا ہے۔
ہم اس دور میں جی رہے ہیں جہاں لوگ زندہ تو ہیں مگر محسوس کرنا چھوڑ چکے ہیں۔ رشتے ہیں مگر محبت نہیں، دوست ہیں مگر سچائی نہیں، زندگی ہے مگر زندگی کا احساس نہیں۔ ہم نے خود کو دوسروں سے موازنہ کرتے کرتے اپنی اصل کھو دی ہے اور اپنی خوشیوں کو دوسروں کی کامیابیوں کے نیچے دفن کر دیا ہے۔
لیکن ایک حقیقت آج بھی زندہ ہے… اللہ کی رحمت مایوسی سے بڑی ہے۔ رات کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو، صبح ضرور آتی ہے۔ دل کتنا ہی ٹوٹا کیوں نہ ہو، جڑ بھی سکتا ہے، اور انسان کتنا ہی گر جائے، اٹھ بھی سکتا ہے۔
آپ ختم نہیں ہوئے، آپ صرف تھک گئے ہیں، اور یاد رکھیں تھکا ہوا انسان ہارا ہوا نہیں ہوتا۔ بس ایک قدم اٹھائیں، اپنی سوچ بدلیں، اپنے رب پر یقین رکھیں اور خود کو دوبارہ زندہ کریں۔ کیونکہ آپ لاش نہیں ہیں، آپ میں ابھی بھی زندگی باقی ہے، بس اسے جگانے کی دیر ہے۔



