پاکستان کا بحری سلامتی کے لیے نئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور
اقوام متحدہ، 29 اکتوبر 2026: نیویارک میں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران پاکستان نے بحری سلامتی کو مضبوط بنانے اور عالمی امن کے تحفظ کے لیے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ اور منصفانہ استعمال کا مطالبہ کیا ہے۔
اہم نکات
- پاکستان نے نئی ٹیکنالوجیز کے غلط استعمال سے بچنے اور انہیں عالمی امن کے تحفظ میں بروئے کار لانے پر زور دیا۔
- اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے بحری ڈومین میں نئی ٹیکنالوجیز کے چیلنجز پر روشنی ڈالی۔
- پاکستان نے بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کی۔
- سفیر عثمان جدون نے بحری قانون پر اقوام متحدہ کے کنونشن (UNCLOS) کو عالمی بحری نظام کی بنیاد قرار دیا۔
نئی ٹیکنالوجیز اور سمندری خطرات
اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں ہونے والی بحث کے دوران سفیر عثمان جدون نے نشاندہی کی کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، بلاک چین اور بغیر پائلٹ کے خودکار نظام تیزی سے سمندری شعبے کو تبدیل کر رہے ہیں، تاہم یہ جدتیں نئے خطرات اور غلط فہمیوں کا باعث بھی بن رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ڈرون ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن نے بندرگاہوں اور تجارتی جہاز رانی کو سائبر حملوں کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔
بین الاقوامی تعاون اور ریگولیٹری فریم ورک
پاکستان نے ایک متوازن اور جامع نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک بالخصوص گلوبل ساؤتھ کی صلاحیتوں کو بڑھایا جا سکے۔ سفیر جدون نے مطالبہ کیا کہ انسانی ہمدردی کے مقاصد اور سمندری قزاقی سے متاثرہ ملاحوں کی مدد کے لیے ٹیکنالوجی تک رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کپاس کی پیداوار اور دیگر معاشی شعبوں کی طرح بحری تجارت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بحری سلامتی کے لیے عالمی سطح پر ایک مربوط فریم ورک وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی
پاکستان نے باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حملوں کو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ سفیر عثمان جدون نے مملکت سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے حوثی جارحیت کے خلاف سعودی قیادت اور عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
اہم سوالات و جوابات
پاکستان بحری سلامتی کے لیے نئی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے کیا مطالبہ کر رہا ہے؟
پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت کا ذمہ دارانہ اور منصفانہ استعمال کیا جائے تاکہ بحری سلامتی کو مضبوط بنایا جا سکے اور ان کے غلط استعمال سے عالمی امن کو خطرات سے بچایا جا سکے۔
پاکستان کن وجوہات کی بنا پر بحری راستوں کے تحفظ کو اہم سمجھتا ہے؟
پاکستان ایک ساحلی ملک ہے جس کا بڑا انحصار سمندری تجارت پر ہے، اس لیے پاکستان کے نزدیک بحری راستوں میں خلل عالمی توانائی، خوراک اور معاشی سلامتی کو فوری طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے۔
