مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 20°C
اتوار، 25 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 310.12 GBP/PKR 370.24 سونا/تولہ (عالمی) 414,909 PKR Bitcoin $80,262 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 310.12 GBP/PKR 370.24 سونا/تولہ (عالمی) 414,909 PKR Bitcoin $80,262
عالمی

گرم ہوتی زمین، بڑھتے انسانی خطرات: سبز مستقبل کی راہ میں رکاوٹیں اور امید کے حقیقی امکانات

📅 ✍️ ⏱ 11 منٹ
گرم ہوتی زمین، بڑھتے انسانی خطرات: سبز مستقبل کی راہ میں رکاوٹیں اور امید کے حقیقی امکانات
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

دنیا کا ماحولیاتی بحران اب مستقبل کا اندیشہ نہیں، انسانی صحت، خوراک، رہائش اور روزگار کا موجودہ مسئلہ ہے۔ عالمی ادارۂ موسمیات، اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی تازہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ زمین کی غیر معمولی گرمی اور آلودگی کے خطرات برقرار ہیں، لیکن صاف توانائی، بہتر شہری منصوبہ بندی اور قدرتی ماحول کی بحالی کے ذریعے نقصان کم کرنے کے عملی راستے بھی موجود ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ بحث خاص اہمیت رکھتی ہے، جہاں سیلاب سے بحالی اور شدید گرمی سے تحفظ ترقیاتی منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔

خطرات: درجہ حرارت اور اخراج کے تازہ شواہد

عالمی ادارۂ موسمیات کی مارچ ۲۰۲۶ میں جاری کردہ حتمی رپورٹ کے مطابق، ۲۰۲۵ کا عالمی اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے، یعنی ۱۸۵۰ تا ۱۹۰۰، کے اوسط سے تقریباً ۱٫۴۳ ڈگری سیلسیس زیادہ تھا۔ ادارے کے مطابق ۲۰۱۵ سے ۲۰۲۵ تک کا عرصہ ریکارڈ کے گرم ترین مسلسل گیارہ برسوں پر مشتمل تھا۔ یہ اعداد سالانہ درجہ حرارت کی پیمائش ہیں؛ انہیں طویل مدتی موسمیاتی ہدف کی پیمائش کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ عالمی ادارۂ موسمیات

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی اکتوبر ۲۰۲۶ کی اخراج کے فرق سے متعلق رپورٹ میں ۲۰۲۵ کے مجموعی عالمی گرین ہاؤس گیس اخراج کا ابتدائی تخمینہ ۵۸٫۴ ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی، اور غیر یقینی کی حد جمع یا منفی ۵٫۵ ارب ٹن بتائی گئی ہے۔ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ اس غیر یقینی کے باعث اخراج کے بڑھنے یا گھٹنے کی مجموعی سمت کا قطعی نتیجہ نکالنا ممکن نہیں۔ لہٰذا اسے عالمی اخراج میں پائیدار کمی کا ثبوت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ ماحولیاتی پروگرام، خلاصۂ رپورٹ

دوسری جانب بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی عالمی توانائی جائزہ رپورٹ ۲۰۲۶ کے مطابق، توانائی سے متعلق کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ۲۰۲۵ میں تقریباً ۰٫۴ فیصد بڑھ کر قریب ۳۸٫۴ ارب ٹن کی نئی بلند سطح پر پہنچا۔ یہ مجموعی گرین ہاؤس گیسوں کے بجائے توانائی سے متعلق کاربن ڈائی آکسائیڈ کا الگ پیمانہ ہے۔ اخراج میں اضافے کی رفتار سست ہونا حوصلہ افزا ہے، مگر اخراج کا مسلسل بلند رہنا خطرہ برقرار رکھتا ہے۔ توانائی ایجنسی

انسانی زندگی کو خطرہ: سیلاب، گرمی، آلودگی اور حیاتیاتی تنوع

پاکستان کی کمزوری حالیہ سیلاب میں نمایاں ہوئی۔ عالمی ادارۂ موسمیات کی ۲۰۲۵ کے شدید موسمی واقعات کی رپورٹ، جو مارچ ۲۰۲۶ میں جاری ہوئی، کے مطابق پاکستان میں مون سون کے دوران سیلاب سے متعلق ۱٬۰۳۷ اموات رپورٹ ہوئیں، جبکہ ۲ لاکھ ۲۹ ہزار سے زیادہ مکانات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوئے۔ اسی رپورٹ کے مطابق ۳۰ لاکھ سے زیادہ افراد کو امداد درکار تھی۔ ہلاکتوں کے لیے رپورٹ نے قومی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے اعداد کا حوالہ دیا ہے۔ یہ نقصان بتاتا ہے کہ خطرہ صرف بارش کی مقدار سے نہیں، آبادی کی جگہ، رہائش اور تیاری سے بھی جڑا ہے۔ عالمی ادارۂ موسمیات، شدید واقعات

پاکستان جیسے ملک کے لیے شدید گرمی بھی صحت اور معاش کا مسئلہ ہے، بالخصوص کھیتوں اور تعمیراتی مقامات پر کام کرنے والوں کے لیے۔ عالمی ادارۂ صحت اور عالمی ادارۂ موسمیات کی اگست ۲۰۲۵ کی مشترکہ رہنمائی کے مطابق، شدید گرمی ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور گردوں کی کارکردگی متاثر ہونے کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ ادارے کام کی نوعیت اور مقامی موسم کے مطابق حفاظتی منصوبوں کی سفارش کرتے ہیں۔ سیلاب اور گرمی کے اثرات کو سمجھتے وقت یہ بھی ضروری ہے کہ ہر انفرادی واقعے میں موسمیاتی تبدیلی کے حصے کا تعین مخصوص سائنسی تحقیق سے کیا جائے۔ مشترکہ رہنمائی

فضائی آلودگی ایک الگ مگر متعلقہ بحران ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے مئی ۲۰۲۵ میں بتایا کہ دنیا کی ۹۹ فیصد آبادی ایسی ہوا میں سانس لیتی ہے جو اس کی فضائی معیار کی رہنما حدود پر پوری نہیں اترتی۔ اسی ادارے کے مطابق فضائی آلودگی ہر سال تقریباً ۷۰ لاکھ اموات کی ذمہ دار ہے، جن میں دل اور پھیپھڑوں کی بیماریاں اور فالج نمایاں ہیں۔ یہ ادارے کے تخمینے ہیں، کسی ایک سال کی براہ راست گنی گئی عالمی اموات نہیں۔ عالمی ادارۂ صحت

قدرتی ماحول کا نقصان بھی انسان سے الگ معاملہ نہیں۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی سالانہ رپورٹ ۲۰۲۵ کے مطابق، دس لاکھ سے زیادہ انواع کو معدوم ہونے کا خطرہ درپیش ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ سب انواع ختم ہو چکی ہیں۔ جنگلات، آبی علاقوں اور دوسری قدرتی پناہ گاہوں کی حفاظت خوراک، پانی اور معاشی استحکام سے وابستہ ہے۔ ماحولیاتی پروگرام، سالانہ رپورٹ

مواقع: صاف توانائی، مالی وسائل اور قدرت کی بحالی

توانائی کے شعبے میں تبدیلی محض وعدہ نہیں رہی۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق، ۲۰۲۵ میں دنیا بھر میں قابل تجدید توانائی کی پیداواری صلاحیت میں ریکارڈ ۸۰۰ گیگاواٹ کا اضافہ ہوا۔ ایجنسی کے مطابق اسی سال یورپی یونین میں شمسی اور ہوائی بجلی کا حصہ ۳۰ فیصد تک پہنچا اور پہلی مرتبہ رکازی ایندھن سے حاصل ہونے والی بجلی کے حصے سے بڑھ گیا۔ ان مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پالیسی، سرمایہ کاری اور بجلی کے نظام میں تبدیلی مل کر حقیقی نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔ توانائی ایجنسی، اہم نتائج

صاف نقل و حمل میں بھی پیش رفت ہے۔ توانائی ایجنسی کی عالمی برقی گاڑی جائزہ رپورٹ ۲۰۲۶ کے مطابق، ۲۰۲۵ میں برقی کاروں کی عالمی فروخت دو کروڑ سے زیادہ رہی اور فروخت ہونے والی نئی کاروں میں ان کا حصہ ایک چوتھائی تھا۔ رپورٹ میں بیٹری سے چلنے والی اور باہر سے چارج ہونے والی ہائبرڈ کاریں شامل ہیں۔ تاہم صاف نقل و حمل کی حکمت عملی میں قابل اعتماد عوامی ٹرانسپورٹ، پیدل چلنے کی سہولت اور محفوظ سائیکل راستوں کو بھی جگہ دینا ضروری ہے۔ برقی گاڑیوں کا جائزہ

جنگلات کی بحالی کی ایک عملی مثال بھارت کی ریاست تمل ناڈو ہے۔ ماحولیاتی پروگرام کے مطابق، سرکاری افسر سپریا ساہو کی قیادت میں مقامی اقدامات میں درخت لگانا، محفوظ جنگلات قائم کرنا اور مینگرووز و شہری سبز علاقوں کی بحالی شامل رہی۔ ادارے نے ان کاموں کو ۲۰۲۵ کے ماحولیاتی اعزازات میں نمایاں کیا۔ ایسی بحالی سے متعلق منصوبوں میں مقامی انواع، پانی کی دستیابی اور پودوں کی بقا کو مرکزی حیثیت ملنی چاہیے۔ ماحولیاتی پروگرام، تمل ناڈو

مالی وسائل کے معاملے میں وعدے اور ان پر عمل الگ ہیں۔ اقوام متحدہ کے موسمیاتی کنونشن کے مطابق، باکو میں ہونے والی کوپ۲۹ میں ترقی پذیر ممالک کے لیے ۲۰۳۵ تک سالانہ کم از کم ۳۰۰ ارب ڈالر کی موسمیاتی مالی معاونت کا ہدف طے ہوا، جس میں ترقی یافتہ ممالک کو قیادت کرنا ہے۔ کنونشن کی ۲۰۲۵ کی آخری سہ ماہی کی رپورٹ کے مطابق، کوپ۳۰ نے ۲۰۳۵ تک موافقت کے لیے مالی معاونت تین گنا کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ یہ اہداف ہیں؛ انہیں پہلے ہی ادا کی جا چکی رقم سمجھنا درست نہیں۔ کوپ۲۹، کوپ۳۰ کے بعد کی رپورٹ

پاکستان کیا کر سکتا ہے؟

پاکستان کے لیے ترجیح ایسی سرمایہ کاری ہونی چاہیے جو نقصان سے پہلے تحفظ فراہم کرے۔ اس میں مقامی آبادی تک بروقت سیلابی انتباہ پہنچانا، محفوظ انخلا کے راستے، نکاسی آب کی دیکھ بھال، سیلابی گزرگاہوں کا تحفظ اور مضبوط گھروں کی تعمیر شامل ہیں۔ عالمی بینک کی جون ۲۰۲۵ کی رپورٹ کے مطابق، سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے ہنگامی منصوبے نے ۲۳ لاکھ افراد کے لیے سیلاب سے تحفظ بہتر کیا۔ یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ بحالی کو اگلی آفت سے بچاؤ کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔ عالمی بینک

گرمی کے لیے مقامی سطح پر صحت کے انتباہ، سایہ دار عوامی مقامات، کارکنوں کے اوقات اور آرام کے انتظامات، اور طبی مراکز کی تیاری درکار ہے۔ توانائی میں شمسی و ہوائی پیداوار کے ساتھ بجلی کی ترسیل اور ذخیرے کی صلاحیت بہتر کرنا اہم ہوگا۔ صاف بسوں اور معیاری عوامی ٹرانسپورٹ سے متعلق فیصلوں کو فضائی معیار کے قابل اعتماد اعداد کے ساتھ جوڑنا چاہیے۔

زرعی علاقوں میں پانی اور زمین کے بہتر انتظام، جبکہ ساحلی علاقوں میں مینگرووز اور قدرتی آبی گزرگاہوں کی بحالی پر توجہ دی جا سکتی ہے۔ موسمیاتی مالی معاونت کے لیے منصوبوں کے نتائج، اخراجات اور فائدہ حاصل کرنے والی آبادی کے بارے میں شفاف معلومات ضروری ہوں گی۔ اس تجزیے کی روشنی میں کامیابی کا معیار صرف لگائے گئے پودے یا خریدی گئی گاڑیاں نہیں، بلکہ محفوظ انسانی زندگی اور برقرار رہنے والا قدرتی ماحول ہونا چاہیے۔

اہم نکات

  • تازہ عالمی رپورٹس بلند درجہ حرارت اور اخراج کے خطرات برقرار رہنے کی نشان دہی کرتی ہیں۔
  • پاکستان کے لیے سیلاب اور شدید گرمی سے پیشگی تحفظ ترقیاتی ترجیح ہے۔
  • قابل تجدید توانائی، صاف نقل و حمل اور قدرتی ماحول کی بحالی کے عملی نمونے موجود ہیں۔
  • مالی وعدوں کو قابل رسائی وسائل اور قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کرنا اصل امتحان ہے۔

آئندہ کا منظرنامہ

سبز سیارے کی حفاظت کے امکانات موجود ہیں، مگر نتائج خود بخود سامنے نہیں آئیں گے۔ تازہ شواہد امید اور احتیاط دونوں کا تقاضا کرتے ہیں: صاف توانائی بڑھ رہی ہے، لیکن ماحولیاتی خطرات بھی برقرار ہیں۔ پاکستان اور دنیا کے لیے بہتر مستقبل کی بنیاد مسلسل اخراج میں کمی، کمزور آبادیوں کے تحفظ اور ایسے فیصلوں میں ہے جن کے نتائج عوام دیکھ اور جانچ سکیں۔

ذرائع

تصویر: Hugh Venables, Wikimedia Commons (CC BY-SA 2.0)

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں