مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 19°C
جمعرات، 29 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.91 EUR/PKR 308.64 GBP/PKR 368.46 سونا/تولہ (عالمی) 418,143 PKR Bitcoin $81,383 USD/PKR 276.91 EUR/PKR 308.64 GBP/PKR 368.46 سونا/تولہ (عالمی) 418,143 PKR Bitcoin $81,383
عالمی

جرمنی میں ہوا اور شمسی توانائی فوسل فیول سے آگے نکل گئی

📅 ✍️ ⏱ 3 منٹ
جرمنی میں ہوا اور شمسی توانائی فوسل فیول سے آگے نکل گئی
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

برلن (نمائندہ خصوصی)۔ جرمنی نے صاف توانائی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے پہلی بار سالانہ بنیاد پر ہوا اور شمسی توانائی سے اتنی بجلی پیدا کی ہے جو کوئلے، تیل اور قدرتی گیس سمیت فوسل فیول سے حاصل ہونے والی بجلی سے زیادہ ہے۔ یہ پیش رفت یورپی معیشتوں کے لیے وسطی ایشیائی ممالک کی پاکستانی بندرگاہوں تک نئی تجارتی راہداری تلاش کرنے جیسی کوششوں کی طرح ایک اہم تزویراتی تبدیلی کی عکاس ہے۔

جرمنی کی توانائی پالیسی میں کلیدی پیش رفت

توانائی کے تحقیقی ادارے Energy Institute کے مطابق 2025 کے دوران جرمنی کی مجموعی بجلی کا 44 فیصد حصہ ہوا اور شمسی توانائی سے حاصل ہوا، جبکہ فوسل فیول سے پیدا ہونے والی بجلی کا حصہ تقریباً 43 فیصد رہا۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت جرمنی کے "انرجی وینڈے” (Energiewende) پروگرام کی بڑی کامیابی ہے، جس کے تحت ملک بتدریج فوسل فیول پر انحصار کم کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دے رہا ہے۔

توانائی کے اہداف اور مستقبل کا لائحہ عمل

جرمنی 2023 میں اپنے تمام جوہری بجلی گھروں کو بند کر چکا ہے اور اس کا ہدف 2038 تک کوئلے سے بجلی کی پیداوار مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ حکومت 2045 تک خالص صفر (Net Zero) کاربن اخراج کا ہدف حاصل کرنے کے لیے گیس سے چلنے والے بجلی گھروں کو بھی مستقبل میں گرین ہائیڈروجن پر منتقل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ دنیا بھر میں پائیدار معاشی ماڈل اپنائے جا رہے ہیں، جس کی ایک مثال امریکی پابندیوں اور جنگ کے باوجود ایرانی معیشت کیسے مستحکم رہی؟ جیسے تجزیوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

منصوبوں کی منظوری اور یورپی یونین کا کردار

قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے کے لیے جرمن حکومت نے منصوبوں کی منظوری کا عمل آسان بنایا، اجازت ناموں کا نظام ڈیجیٹل کیا اور صاف توانائی کے منصوبوں کو عوامی مفاد کا درجہ دیا، جس سے ان پر عمل درآمد میں نمایاں تیزی آئی ہے۔ جرمنی کی اس کامیابی کو یورپ میں صاف توانائی کے فروغ کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ 2025 کے دوران پہلی مرتبہ یورپی یونین میں بھی ہوا اور شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کا مجموعی حصہ فوسل فیول سے زیادہ رہا، جہاں ونڈ اور سولر کا حصہ 30 فیصد جبکہ فوسل فیول کا حصہ 29 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو کہ آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کے لیے اہم پیش رفت جیسے اقدامات کی طرح توانائی کے شعبے میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا نتیجہ ہے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں