امریکی پابندیوں اور جنگ کے باوجود ایرانی معیشت کیسے مستحکم رہی؟

تہران (نمائندہ خصوصی)۔ امریکہ کی جانب سے طویل عرصے سے عائد سخت اقتصادی پابندیوں، حالیہ جنگی دباؤ اور فوجی حملوں کے باوجود ایران کی معیشت مکمل طور پر کیوں نہیں ٹوٹی؟ اس سوال کا جواب ایک نئی تجزیاتی رپورٹ میں دیا گیا ہے، جس کے مطابق شدید مشکلات کے باوجود ایران نے بعض ایسے معاشی ذرائع اور حکمت عملیاں برقرار رکھی ہیں جنہوں نے معیشت کو مکمل انہدام سے بچائے رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ ایران کی معیشت برسوں سے امریکی پابندیوں، بلند افراطِ زر، کرنسی کی قدر میں کمی، بے روزگاری اور حالیہ جنگ کے اثرات کا سامنا کر رہی ہے، لیکن ملکی اقتصادی نظام مکمل طور پر منہدم نہیں ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران گزشتہ کئی برسوں سے پابندیوں کے ماحول میں خود کو ڈھال چکا ہے اور اس کی معیشت کسی حد تک ان حالات کے مطابق تبدیل ہو چکی ہے۔
تیل کی برآمدات اور غیر ملکی زرمبادلہ
رپورٹ کے مطابق ایران کی معیشت میں تیل کی برآمدات اب بھی بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں۔ اگرچہ مغربی پابندیوں نے سرکاری برآمدات کو محدود کیا، تاہم ایران نے مختلف ذرائع سے اپنی تیل کی فروخت جاری رکھی، جس سے حکومت کو غیر ملکی زرمبادلہ حاصل ہوتا رہا۔ اسی آمدنی نے ریاست کو بنیادی اخراجات اور معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں مدد دی۔ جیسا کہ اسحاق ڈار اور اردن کے وزیر خارجہ کی فلسطین صورتحال پر تشویش کے تناظر میں خطے کی معاشی و سفارتی صورتحال اہم ہے، ویسے ہی ایران کی علاقائی تجارت بھی اس کے استحکام میں کلیدی ہے۔
تجارتی نیٹ ورکس اور متبادل حکمت عملی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے گزشتہ برسوں میں ہمسایہ ممالک اور ایشیائی شراکت داروں کے ساتھ تجارت کو بھی وسعت دی ہے۔ اس کے علاوہ غیر رسمی تجارتی نیٹ ورکس اور متبادل مالیاتی طریقہ کار نے بھی پابندیوں کے اثرات کو کسی حد تک کم کرنے میں کردار ادا کیا۔ حوثیوں کی بڑھتی عسکری سرگرمیوں سے یمن میں جنگ کے خدشات اور دیگر علاقائی کشیدگیوں کے باوجود، ایران نے اپنے تجارتی راستے محفوظ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ حالیہ جنگ کے دوران صنعتی تنصیبات، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بعض دیگر اقتصادی شعبوں کو نقصان پہنچا، جس سے معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
عوام اور معاشی بقا کا چیلنج
رپورٹ میں ماہرین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایران کی معیشت اگرچہ شدید دباؤ میں ہے، لیکن اس کی مکمل تباہی کا امکان فوری طور پر نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق کئی برسوں سے جاری پابندیوں نے ایرانی کاروبار، صنعت اور عوام کو نسبتاً سخت معاشی حالات میں زندگی گزارنے کا عادی بنا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی عوام کو مسلسل بلند مہنگائی، قوتِ خرید میں کمی، بجلی کی قلت، بنیادی سہولیات پر دباؤ اور روزگار کے مسائل کا سامنا ہے، تاہم صرف فوجی دباؤ یا نئی پابندیاں فوری طور پر حکومت یا معیشت کے مکمل انہدام کا سبب نہیں بنیں۔ جس طرح آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کے لیے اہم پیش رفت جیسے اقدامات معاشی اصلاحات کا حصہ ہوتے ہیں، ایران بھی اپنے اندرونی معاشی ڈھانچے کو تبدیل کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کی معیشت کا مستقبل بڑی حد تک جنگ کی صورتحال، امریکی پابندیوں، تیل کی برآمدات، علاقائی تجارت اور ممکنہ سفارتی پیش رفت پر منحصر ہوگا۔ اگر کشیدگی برقرار رہی تو معاشی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں، تاہم موجودہ حالات میں ماہرین کے نزدیک ایران کی معیشت مکمل طور پر گرنے کے بجائے مسلسل دباؤ برداشت کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
