یورپی یونین نے نابینا افراد کیلئے انقلابی بایونک آنکھ کی منظوری دے دی
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ یورپی یونین نے بینائی سے محروم افراد کے لیے تیار کیے گئے ایک جدید بایونک آنکھ (Bionic Eye) امپلانٹ کی منظوری دے دی ہے، جسے ماہرین بصارت کی بحالی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ اس نئی ٹیکنالوجی سے ایسے مریضوں کو امید ملی ہے جو ریٹینا کی شدید بیماریوں کے باعث اپنی بینائی کھو چکے ہیں۔
بایونک آنکھ اور جدید طبی ٹیکنالوجی
رپورٹ کے مطابق امریکی بایوٹیک کمپنی سائنس کارپ (Science Corp) کی تیار کردہ یہ ڈیوائس گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران یورپ میں منظور ہونے والا پہلا جدید ریٹینل امپلانٹ ہے۔ یہ امپلانٹ ریٹینائٹس پگمنٹوسا سمیت ریٹینا کی دیگر پیچیدہ بیماریوں میں متاثرہ خلیات کو بائی پاس کرتے ہوئے صحت مند اعصابی خلیات کو برقی سگنلز فراہم کرتا ہے، جس سے دماغ دوبارہ بصری معلومات وصول کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ عالمی سطح پر طبی میدان میں ہونے والی پیش رفت وزیراعظم کا روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کے لیے بڑے فنڈ کا اعلان جیسی حکومتی ترجیحات کے ساتھ جڑ کر مزید مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
مریضوں کے لیے نئی امید
کمپنی کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی بدولت مریض اشیا کو پہچاننے، اردگرد کے ماحول میں بہتر انداز میں نقل و حرکت کرنے اور روزمرہ کے کئی معمولات زیادہ خودمختاری کے ساتھ انجام دینے کے قابل ہو سکیں گے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں نت نئے تجربات کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین اس پیش رفت کا موازنہ دیگر سائنسی ایجادات سے کرتے ہوئے اسے انسانی زندگیوں میں بہتری لانے کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں۔ جیسے حال ہی میں وجیہہ قمر اور قازق وزیر کی تعلیمی اور تحقیقی تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے، ویسے ہی بین الاقوامی سطح پر ٹیکنالوجی کے تبادلے سے ایسی ایجادات کو فروغ مل سکتا ہے۔
مستقبل کے طبی پروگرام
ابتدائی مرحلے میں اس امپلانٹ کا استعمال یورپ میں محدود طبی پروگراموں کے تحت کیا جائے گا، جس کے بعد اس کے وسیع پیمانے پر استعمال کی راہ ہموار ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منظوری نیورو ٹیکنالوجی اور مصنوعی بینائی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اگر آئندہ کلینیکل آزمائشوں میں بھی اس ٹیکنالوجی کی کامیابی برقرار رہی تو مستقبل میں دنیا بھر کے لاکھوں نابینا افراد کے لیے بینائی بحال کرنے کی نئی امید پیدا ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی منیلا میں ایشیائی ترقیاتی بینک حکام سے ملاقات جیسے اقدامات بھی مستقبل کی ٹیکنالوجی کو مالی معاونت فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
