ایران کے ساتھ اہم سفارتی رابطے، مکہ دفاعی معاہدے کے تینوں رکن ممالک کے اعلیٰ حکام آج تہران پہنچیں گے
ایران کے ساتھ اہم سفارتی رابطے، مکہ دفاعی معاہدے کے تینوں رکن ممالک کے اعلیٰ حکام آج تہران پہنچیں گے
*اسلام آباد:* مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات کے پیش نظر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے ایران کے ساتھ اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطوں کا فیصلہ کیا ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام آج ایران کا دورہ کریں گے، جہاں ایرانی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔
رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹس کے مطابق سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ترکیہ کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن اس سفارتی مشن کا حصہ ہوں گے۔
دورے کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ سکیورٹی حکام سے ملاقاتوں میں خطے کی مجموعی صورتِ حال، ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، سعودی عرب کو حوثی باغیوں سے لاحق سکیورٹی خطرات اور علاقائی تنازعات کے ممکنہ حل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
سعودی نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری ڈاکٹر رائد کریملی نے بھی اس سفارتی سرگرمی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان رابطوں کا مقصد کشیدگی میں کمی، مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل اور خطے میں امن کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔ ان کوششوں میں قطر اور پاکستان کی ثالثی کا کردار بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ سفارتی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے جبکہ یمن کے حوثی باغیوں کی سرگرمیوں کے باعث سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اگست 2026 میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اصول طے کیا گیا ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے میں شامل تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی ایران کے ساتھ یہ سفارتی مشاورت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشترکہ دفاعی تعاون کے باوجود رکن ممالک خطے میں کشیدگی کو پھیلنے سے روکنے اور ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
