علیمہ خان کی احتجاجی کال، تحریک انصاف کی حمایت اور اندرونی آراء
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے ان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی جانب سے دی گئی احتجاجی اور لانگ مارچ کی کال کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے، تاہم پارٹی کے بعض حلقوں میں اس احتجاجی حکمتِ عملی کے ممکنہ نتائج کے حوالے سے تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا بنیادی مقصد عمران خان کی جلد رہائی ہے اور اس مقصد کے لیے ہر آئینی، قانونی اور پرامن جدوجہد کی حمایت کی جائے گی۔ بلاول بھٹو اور اسحاق ڈار کی آزاد کشمیر صورتحال پر مشاورت کے تناظر میں سیاسی درجہ حرارت پہلے ہی بلند ہے، تاہم شیخ وقاص کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف اور بانی پی ٹی آئی کا خاندان اس معاملے پر ایک ہی مؤقف رکھتا ہے اور رہائی کی جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ پارٹی میں خاندانی یا موروثی سیاست کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق علیمہ خان کی سرگرمیوں کا مقصد صرف عمران خان کی رہائی کے لیے آواز بلند کرنا ہے اور اسے کسی اور تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
پارٹی قیادت میں حکمت عملی پر تحفظات
دوسری جانب پارٹی ذرائع کے مطابق بعض سینئر رہنماؤں اور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے ذمہ داران نے مجوزہ احتجاجی حکمتِ عملی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ احتجاج کے دوران امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے یا کارکنوں کو مشکلات کا سامنا کرنے کا خدشہ موجود ہے، اس لیے تمام اقدامات انتہائی محتاط انداز میں کیے جانے چاہییں۔ حال ہی میں توہینِ مذہب اور پیکا ایکٹ کیس: اینکر ریحان طارق جیل منتقل جیسی پیش رفت کے بعد پارٹی محتاط رویہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق کچھ رہنماؤں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ بڑے اجتماعات یا حساس مقامات پر احتجاج کی صورت میں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے پارٹی کو سیاسی اور قانونی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ ان رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ احتجاجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ قانونی اور سیاسی محاذ پر بھی بھرپور توجہ دی جانی چاہیے۔
متوازن حکمت عملی کی ضرورت
پارٹی کے اندر یہ رائے بھی سامنے آئی ہے کہ عوامی رابطہ مہم، پارلیمانی جدوجہد اور عدالتوں میں قانونی کارروائی کو ایک متوازن حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھایا جائے تاکہ کارکنوں کی سلامتی اور پارٹی کے سیاسی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق تحریک انصاف اس وقت ایک اہم مرحلے سے گزر رہی ہے، جہاں ایک طرف عمران خان کی رہائی کے لیے عوامی دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب قیادت ایسے کسی بھی ممکنہ تصادم یا کشیدہ صورتحال سے بچنے کی خواہاں ہے جو پارٹی کے لیے نئی قانونی یا سیاسی مشکلات پیدا کر سکتی ہو۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی ٹیلی نار اور یوفون کے انضمام کی منظوری کے بعد معاشی و سیاسی معاملات پر بحث میں تیزی آئی ہے۔ واضح رہے کہ علیمہ خان کی احتجاجی کال کے بعد پارٹی کے کارکنوں میں سرگرمی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ آئندہ چند روز میں تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی جانب سے احتجاجی حکمتِ عملی اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے مزید فیصلے سامنے آنے کا امکان ہے۔
