توہینِ مذہب اور پیکا ایکٹ کیس: اینکر ریحان طارق جیل منتقل
لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ توہینِ مذہب اور پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں نامزد اینکر پرسن ریحان طارق کو چھ روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر سخت سکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے تفتیشی حکام کی رپورٹ اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد انہیں مزید جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
تفتیشی عمل اور عدالتی کارروائی
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو اب تک کی تفتیش، شواہد اور کیس کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ عدالت نے رپورٹ کا جائزہ لینے اور وکلاء کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں، جس کے بعد ملزم کو عدالتی تحویل میں جیل منتقل کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایف بی آئی ہیڈکوارٹر کا اہم دورہ بھی قومی سطح پر زیر بحث ہے۔
دفاعی ٹیم کا موقف اور علماء کے فتاویٰ
دورانِ سماعت ریحان طارق کے وکلاء نے اپنے مؤکل کے دفاع میں مختلف جید علماء کرام کے فتاویٰ عدالت میں پیش کیے اور انہیں عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی استدعا کی۔ دفاعی ٹیم کا مؤقف تھا کہ ان فتاویٰ کے مطابق پروگرام کے دوران محض ایک سوال اٹھانا یا علمی و مذہبی موضوع پر استفسار کرنا ازخود توہینِ مذہب کے زمرے میں نہیں آتا۔ وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ پیش کیے گئے فتاویٰ میں مختلف مذہبی علماء نے قرآن و سنت اور تاریخی روایات کی روشنی میں اپنی آراء دی ہیں، جن میں ریحان طارق کے مؤقف کی حمایت کی گئی ہے۔ دفاعی ٹیم نے استدعا کی کہ مقدمے کا فیصلہ تمام قانونی تقاضوں اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیا جائے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل مواد کی نگرانی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کی ٹیلی نار اور یوفون کے انضمام کی منظوری جیسے اہم فیصلے بھی عدالتی دائرہ کار میں ہوتے ہیں۔
ضمانت کی درخواست اور آئندہ سماعت
دوسری جانب استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے کی مزید قانونی کارروائی جاری ہے اور کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ریحان طارق کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم جاری کیا۔ عدالت کے فیصلے کے فوراً بعد ریحان طارق کے وکلاء نے ضمانت کی درخواست بھی دائر کر دی۔ عدالت نے درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق درخواستِ ضمانت پر آئندہ سماعت 16 جولائی 2026ء کو متوقع ہے، جس میں فریقین اپنے تفصیلی دلائل پیش کریں گے۔ جس طرح جسٹ فونٹین کے 13 گول، فٹ بال ورلڈ کپ کا ناقابل شکست ریکارڈ کھیل کی تاریخ میں اہم ہے، اسی طرح یہ کیس بھی عدالتی تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک اہم مقدمہ بن چکا ہے۔ واضح رہے کہ ریحان طارق کے خلاف توہینِ مذہب اور پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے، جس کی تحقیقات متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری ہیں۔ مقدمے کا حتمی فیصلہ عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد، قانونی نکات اور فریقین کے دلائل کی روشنی میں کیا جائے گا۔
