مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 19°C
پیر، 26 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 416,822 PKR Bitcoin $79,600 USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 416,822 PKR Bitcoin $79,600
رائے و تجزیہ

چار صوبوں کا صحت بجٹ 2026-27: پنجاب کا حجم بڑا، سندھ کا اسپیشلائزڈ ماڈل، کے پی کا ہیلتھ کارڈ، بلوچستان کی اصل جنگ بنیادی سہولت تک رسائی

📅 🔄 اپ ڈیٹ: ✍️ ⏱ 23 منٹ
صحت بجٹ 2026-27
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

مکمل تحقیقی و تجزیاتی رپورٹ

رپورٹ: دوست نیوز اسپیشل

پاکستان کے چاروں صوبوں کے مالی سال 2026-27 کے صحت بجٹ کا جائزہ لیا جائے تو ایک بات صاف دکھائی دیتی ہے کہ ہر صوبہ صحت کو ترجیح تو کہہ رہا ہے، مگر ہر صوبے کی ترجیح، ضرورت اور خرچ کا انداز مختلف ہے۔ پنجاب کا بجٹ سب سے بڑا ہے، سندھ کا زور بڑے اسپیشلائزڈ اداروں، دل، گردہ، ٹراما، بچوں اور ایمرجنسی سروسز پر زیادہ نظر آتا ہے، خیبرپختونخوا کا ماڈل صحت کارڈ اور کیش لیس علاج کے گرد گھومتا ہے، جبکہ بلوچستان ابھی بھی بنیادی سہولت، ڈاکٹر، ادویات، ٹراما کیئر اور دور دراز علاقوں تک رسائی کی جنگ لڑ رہا ہے۔

یہ رپورٹ صرف اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل تصویر پیش کرتی ہے کہ پیسہ کہاں جا رہا ہے، عام شہری کے حصے میں کتنا بنتا ہے، انتظامی یا جاری اخراجات کتنے ہیں، کس صوبے کا health model زیادہ بہتر دکھائی دیتا ہے، facilities کہاں بہتر ہیں اور کہاں misuse یا بدانتظامی کا خطرہ زیادہ ہے۔


مجموعی تصویر: کون کہاں کھڑا ہے؟

پنجاب نے صحت کے لیے تقریباً 500.62 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ اس میں 424.32 ارب روپے recurring یا non-development اخراجات کے لیے ہیں، جبکہ 76.3 ارب روپے development یعنی نئے منصوبوں، اپ گریڈیشن اور جدید سہولتوں کے لیے رکھے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پنجاب کا زیادہ تر بجٹ موجودہ نظام کو چلانے، تنخواہوں، ادویات، ہسپتالوں کے روزمرہ خرچ، utilities اور routine services پر خرچ ہوگا، جبکہ ایک مناسب حصہ نئے منصوبوں کے لیے بھی رکھا گیا ہے۔

سندھ میں broader health allocation مختلف رپورٹس کے مطابق تقریباً 381.83 ارب سے 393.16 ارب روپے کے درمیان سامنے آتا ہے۔ سندھ کا خاص پہلو یہ ہے کہ یہاں بڑے اسپیشلائزڈ اداروں کو بڑی grants دی جا رہی ہیں۔ تقریباً 148.17 ارب روپے بڑے ہسپتالوں، specialized medical institutions اور emergency health services کے لیے رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس سے سندھ کا health model واضح ہوتا ہے: دل کے امراض، گردوں کے علاج، transplant، cancer، بچوں کی صحت، trauma care اور ambulance networks پر خاص توجہ۔

خیبرپختونخوا نے صحت کے لیے 334 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ اس صوبے کی اصل پہچان Sehat Card Plus ہے، جس کے لیے 50 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ Medical Teaching Institutions کے لیے 80 ارب روپے، سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کے لیے 14.263 ارب روپے، BHUs اور RHCs کی اپ گریڈیشن، 72 ہسپتالوں میں management reforms اور بنیادی صحت کو مضبوط کرنے کے اقدامات اس بجٹ کا مرکزی حصہ ہیں۔ کے پی کا ماڈل عوام کو علاج کے مالی بوجھ سے بچانے کی کوشش ہے۔

بلوچستان نے صحت کے لیے 96 ارب روپے مختص کیے ہیں، جس میں 90 ارب روپے non-development اور صرف 6 ارب روپے development کے لیے ہیں۔ یہ صوبہ باقی تینوں صوبوں سے مختلف ہے، کیونکہ یہاں مسئلہ صرف ہسپتال بنانا نہیں بلکہ ہسپتال تک پہنچنا بھی ہے۔ فاصلے زیادہ، آبادی بکھری ہوئی، ڈاکٹرز کی دستیابی مشکل، ادویات کی سپلائی کمزور اور emergency transport محدود ہے۔ بلوچستان کے بجٹ میں New Trauma Centre Quetta، Balochistan Health Card، PPHI، ادویات، nutrition programme، cardiology institute اور 500 نئی آسامیوں جیسے اقدامات شامل ہیں۔


فی شہری خرچ: اصل فرق یہاں سمجھ آتا ہے

اگر صرف کل رقم دیکھی جائے تو پنجاب سب سے آگے ہے۔ لیکن اگر آبادی کے حساب سے دیکھا جائے تو تصویر بدل جاتی ہے۔ پنجاب کی آبادی تقریباً 127.68 ملین ہے۔ 500.62 ارب روپے کو اس آبادی پر تقسیم کیا جائے تو سالانہ فی شہری خرچ تقریباً 3,920 روپے بنتا ہے، یعنی ماہانہ تقریباً 327 روپے۔ یہ رقم ظاہر کرتی ہے کہ پنجاب کا بجٹ بڑا ضرور ہے مگر آبادی اتنی بڑی ہے کہ فی شہری حصہ کم ہو جاتا ہے۔

سندھ کی آبادی تقریباً 55.69 ملین ہے۔ اگر سندھ کا broader health allocation 381.83 ارب روپے لیا جائے تو فی شہری سالانہ خرچ تقریباً 6,856 روپے بنتا ہے، یعنی ماہانہ تقریباً 571 روپے۔ اگر 393.16 ارب روپے کی figure استعمال کی جائے تو فی شہری خرچ تقریباً 7,059 روپے سالانہ بنتا ہے۔ اس لحاظ سے سندھ پنجاب سے بہتر per-person position میں آتا ہے۔

خیبرپختونخوا کی آبادی تقریباً 40.85 ملین ہے۔ 334 ارب روپے کا health budget فی شہری تقریباً 8,175 روپے سالانہ بنتا ہے، یعنی ماہانہ تقریباً 681 روپے۔ اس حساب سے کے پی چاروں صوبوں میں per-person health allocation میں سب سے نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ مگر یہاں یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ health card اور insurance-style spending اگر شفاف audit کے بغیر بڑھے تو رقم جلد consume ہو سکتی ہے۔

بلوچستان کی آبادی تقریباً 14.89 ملین ہے۔ 96 ارب روپے کا بجٹ فی شہری تقریباً 6,445 روپے سالانہ بنتا ہے، یعنی ماہانہ تقریباً 537 روپے۔ بظاہر یہ پنجاب سے بہتر لگتا ہے، لیکن بلوچستان میں ایک مریض تک service پہنچانے کی لاگت بہت زیادہ ہے۔ ایک دور دراز علاقے میں ambulance، doctor، medicine اور referral system کا خرچ شہری علاقے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس لیے بلوچستان کا per-person number مناسب دکھائی دیتا ہے مگر ground reality میں اس کی buying power کم ہو جاتی ہے۔


پنجاب: بڑا بجٹ، بڑا نظام، مگر فی شہری خرچ کم

پنجاب کا health budget سب سے بڑا ہے اور صوبے کے پاس پاکستان کا سب سے وسیع public health network ہے۔ لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ، بہاولپور، ڈی جی خان اور دیگر بڑے شہروں میں teaching hospitals، specialized units اور tertiary care facilities موجود ہیں۔ اس سال پنجاب کے بجٹ میں cancer treatment، cardiology، mental health، MRI، CT scan، cath labs، emergency services، Children Hospital Bahawalpur اور D.G. Khan Cancer Hospital جیسے منصوبوں پر توجہ نظر آتی ہے۔

یہ approach politically visible بھی ہے اور عوامی demand کے مطابق بھی، کیونکہ cancer، heart disease، stroke اور emergency care کے مریضوں کے لیے بڑے ہسپتال فوری ضرورت ہیں۔ لیکن پنجاب کا اصل امتحان tertiary hospitals نہیں بلکہ primary healthcare ہے۔ اگر BHUs، RHCs، THQ اور DHQ hospitals میں doctor، medicine، test اور referral system بہتر نہ ہوا تو بڑے ہسپتالوں پر بوجھ کم نہیں ہوگا۔

پنجاب کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا 76.3 ارب روپے کا development budget واقعی district-level facilities تک جائے گا یا زیادہ تر بڑے flagship منصوبوں پر خرچ ہوگا؟ اگر ترقیاتی بجٹ صرف بڑے شہروں تک محدود رہا تو جنوبی پنجاب، دیہی علاقوں اور کچی آبادیوں میں صحت کی محرومی برقرار رہے گی۔

انتظامی اخراجات کے لحاظ سے پنجاب کا 84 فیصد سے زیادہ health budget recurring side پر ہے۔ یہ خود مسئلہ نہیں، کیونکہ ہسپتال چلانے، تنخواہیں دینے، ادویات خریدنے اور emergency services برقرار رکھنے کے لیے recurring budget ضروری ہے۔ مسئلہ تب بنتا ہے جب اس spending کے بدلے مریض کو medicine نہ ملے، test باہر سے کروانا پڑے یا emergency ward میں جگہ نہ ملے۔


سندھ: اسپیشلائزڈ اداروں، دل، گردہ، ٹراما اور ambulance network پر فوکس

سندھ کا health model باقی صوبوں سے مختلف ہے۔ یہاں بجٹ کا ایک بڑا حصہ بڑے specialized institutions کو grants کی صورت میں جاتا ہے۔ SIUT، NICVD، Sindh Institute of Cardiovascular Diseases، JPMC، Gambat Institute، Sindh Institute of Child Health and Neonatology، Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto Institute of Trauma اور Sindh Integrated Emergency and Health Services جیسے ادارے سندھ کے health system کی backbone بن چکے ہیں۔

سندھ کا strong point یہ ہے کہ صوبے نے دل، گردہ، transplant، cancer، بچوں کی صحت، trauma اور emergency services میں بڑے اداروں کو مسلسل funding دی ہے۔ NICVD اور cardiac networks لاکھوں مریضوں کو مفت یا کم خرچ treatment دیتے ہیں۔ SIUT kidney and transplant care میں ایک مضبوط نام ہے۔ Gambat Institute transplant medicine اور advanced procedures میں نمایاں ہے۔ SIEHS 1122 ambulance system کو سندھ کے مختلف علاقوں تک پھیلایا جا رہا ہے، جبکہ boat ambulance اور telemedicine جیسے اقدامات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

لیکن سندھ کا challenge بھی واضح ہے۔ کراچی اور بڑے شہروں میں facilities بہتر ہیں، مگر اندرون سندھ کے کئی اضلاع میں basic health access، maternal health، nutrition، clean water، disease prevention اور emergency referral اب بھی کمزور ہیں۔ ایک طرف کراچی میں world-class cardiac services available ہیں، دوسری طرف تھر، کشمور، بدین، جیکب آباد، دادو اور دیگر remote علاقوں میں primary care کے مسائل برقرار رہتے ہیں۔

سندھ کے current اور grants-based model کو زیادہ شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔ جب 100 ارب روپے سے زیادہ بڑے اداروں کو grants کی صورت میں جاتے ہیں تو ہر grant کے ساتھ واضح performance indicators ہونے چاہئیں: کتنے مریض، کتنے operations، کتنی emergency angioplasties، کتنے cancer patients، کتنی dialysis، کتنی deliveries، کتنی ambulance responses اور کتنی patient satisfaction۔

سندھ کا model health delivery میں mature لگتا ہے، مگر یہ model تبھی مثالی بنے گا جب urban-rural gap کم ہو اور بڑے اداروں کی funding کے ساتھ district hospitals بھی مضبوط ہوں۔


خیبرپختونخوا: صحت کارڈ، MTIs اور بنیادی صحت کا reform model

خیبرپختونخوا کا health budget 334 ارب روپے ہے اور اس کی خاص پہچان Sehat Card Plus ہے۔ یہ model شہری کو علاج کے وقت جیب سے بڑی رقم ادا کرنے سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں بیماری اکثر خاندان کو قرض، زیور بیچنے یا گھر کا سامان فروخت کرنے پر مجبور کر دیتی ہے، health card ایک اہم social protection tool ہے۔

اس سال KP نے Sehat Card Plus کے لیے 50 ارب روپے رکھے ہیں۔ MTIs کے لیے 80 ارب روپے، مفت ادویات کے لیے 14.263 ارب روپے، BHUs اور RHCs کی اپ گریڈیشن کے لیے منصوبے، 72 ہسپتالوں میں management reforms، 2,819 doctors, dental surgeons اور nurses کی recruitment، Category-D hospitals کو teaching hospitals میں upgrade کرنے کے لیے 9.9 ارب روپے، Peshawar میں new general hospital کے لیے 4 ارب روپے اور free cancer treatment کے لیے 200 ملین روپے جیسے اقدامات بجٹ کا حصہ ہیں۔

کے پی کا model reform-oriented ہے۔ اس کا مقصد صرف ہسپتال بنانا نہیں بلکہ access کو بہتر بنانا ہے۔ health card کے ذریعے مریض کو public یا empanelled private hospital سے علاج کی سہولت مل سکتی ہے۔ اگر یہ system ٹھیک audit ہو تو غریب مریض کے لیے بہت بڑا سہارا ہے۔

لیکن اس model کے خطرات بھی بڑے ہیں۔ insurance-style system میں claims inflation، unnecessary admissions، private hospitals کی overbilling، weak verification اور political misuse کا خطرہ رہتا ہے۔ اگر Sehat Card claims کی third-party audit نہ ہو تو یہ scheme عوامی فائدے کے بجائے provider payment machine بن سکتی ہے۔

KP کو اپنے model کو مضبوط بنانے کے لیے three-level audit چاہیے: hospital-wise claims dashboard، disease-wise cost analysis، اور patient verification۔ اس کے ساتھ primary care کو مضبوط کرنا ضروری ہے، تاکہ ہر بیماری کا pressure tertiary hospitals اور insurance claims پر نہ جائے۔

per-person basis پر KP چاروں صوبوں میں سب سے بہتر position میں دکھائی دیتا ہے۔ لیکن بہتر number کا مطلب بہتر outcome تب بنے گا جب health card، MTIs اور outsourced hospitals مکمل transparency کے ساتھ چلیں۔


بلوچستان: اصل جنگ access، distance، doctor اور medicine کی ہے

بلوچستان کا health budget 96 ارب روپے ہے۔ بظاہر یہ پنجاب، سندھ اور KP کے مقابلے میں کم ہے، مگر بلوچستان کا مسئلہ صرف money size نہیں بلکہ geography ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ رقبے کے لحاظ سے بلوچستان ہے، مگر آبادی بکھری ہوئی ہے۔ کئی علاقوں میں مریض کو basic facility تک پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ emergency case میں یہ delay جان لے سکتا ہے۔

بلوچستان نے health sector کے لیے 90 ارب روپے non-development اور 6 ارب روپے development کے لیے رکھے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بجٹ کا بڑا حصہ موجودہ نظام کو چلانے، staff، medicines، hospital operations اور grants پر خرچ ہوگا۔ development share بہت کم ہے، مگر بلوچستان کی صورتحال میں پہلے existing system کو functional بنانا بھی بڑی ضرورت ہے۔

بلوچستان کے health budget میں New Trauma Centre Quetta کے لیے 1.3 ارب روپے، Balochistan Health Card کے لیے 6 ارب روپے، PPHI کے لیے 8.8 ارب روپے، medicines کے لیے 8.5 ارب روپے، nutrition programme کے لیے 1.5 ارب روپے، Sheikh Zayed Institute of Cardiology کے لیے 2.8 ارب روپے، house officers and postgraduate training کے لیے 1.1 ارب روپے اور 500 نئی posts شامل ہیں۔

یہ priorities درست سمت میں ہیں، مگر اصل سوال implementation ہے۔ بلوچستان کو fancy buildings سے پہلے functional BHUs، RHCs، district hospitals، ambulance/referral system، medicines stock، female health workers، maternal care اور emergency treatment کی ضرورت ہے۔ اگر PPHI network rural areas میں واقعی بہتر delivery دے، ادویات stock میں موجود رہیں، doctors remote areas میں حاضر ہوں اور trauma referral strong ہو تو بلوچستان میں health outcomes بہتر ہو سکتے ہیں۔

بلوچستان میں بدانتظامی کا خطرہ صرف corruption نہیں بلکہ capacity leakage بھی ہے۔ یعنی بجٹ منظور ہو جاتا ہے مگر doctor نہیں پہنچتا، medicine وقت پر نہیں آتی، machine خراب رہتی ہے، building بن جاتی ہے مگر staff نہیں ہوتا۔ اس صوبے کو district-level monitoring، biometric attendance، medicine tracking اور third-party facility verification کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔


کس صوبے کا انتظامی خرچ زیادہ ہے؟

پنجاب میں recurring اخراجات تقریباً 424.32 ارب روپے ہیں، جو total health budget کا تقریباً 85 فیصد بنتے ہیں۔ سندھ میں current expenditure تقریباً 336.46 ارب روپے بتایا گیا ہے، جو healthcare services allocation کا تقریباً 88 فیصد بنتا ہے۔ بلوچستان میں 90 ارب روپے non-development ہیں، جو total health outlay کا تقریباً 94 فیصد ہے۔ KP کے بارے میں overall current/development split مکمل detail میں سامنے نہیں، مگر Sehat Card، MTIs، medicines اور hospital operations کی وجہ سے اس کا budget بھی heavily service-delivery and recurring nature رکھتا ہے۔

یہاں اہم بات یہ ہے کہ recurring خرچ ہمیشہ برا نہیں ہوتا۔ health sector میں staff، doctors، nurses، medicines، oxygen، fuel، lab material، ambulance operation، utilities اور maintenance recurring spending ہی سے چلتے ہیں۔ لیکن اگر recurring spending کے باوجود ہسپتال میں medicine نہیں، doctor absent ہے، machine خراب ہے اور مریض private pharmacy سے دوا خرید رہا ہے تو پھر یہ budget public value نہیں دے رہا۔


facilities کہاں بہتر ہیں؟

اگر physical infrastructure، teaching hospitals، specialist doctors، diagnostic machines اور tertiary care کو معیار بنایا جائے تو پنجاب overall سب سے بڑا اور وسیع system رکھتا ہے۔ پنجاب کے بڑے شہروں میں specialist care بہتر ہے، مگر دیہی اور جنوبی پنجاب میں gaps موجود ہیں۔

اگر specialized free care، cardiac network، transplant medicine، trauma care، children hospitals اور emergency ambulance کو معیار بنایا جائے تو سندھ خاص طور پر مضبوط دکھائی دیتا ہے۔ سندھ کے بڑے اداروں نے لاکھوں مریضوں کو service دی ہے، مگر اندرون سندھ کی basic facilities اب بھی توجہ چاہتی ہیں۔

اگر financial protection کو معیار بنایا جائے تو KP کا model سب سے نمایاں ہے۔ Health Card Plus لوگوں کو بڑے medical bills سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہ model audit کے بغیر risky بھی ہو سکتا ہے۔

اگر need اور deprivation کو معیار بنایا جائے تو بلوچستان سب سے critical province ہے۔ یہاں facilities کم، فاصلے زیادہ اور service delivery مشکل ہے۔ بلوچستان کے لیے basic access بہتر کرنا سب سے بڑی priority ہونی چاہیے۔


misuse of power یا بدانتظامی کہاں کم ہے؟

کسی بھی صوبے کو hard evidence کے بغیر clean یا corrupt کہنا غیر ذمہ دارانہ ہوگا۔ بجٹ documents سے صرف governance risk کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، حتمی فیصلہ audit reports، procurement records، PAC findings، field verification اور patient-level data سے ہی ہو سکتا ہے۔

پنجاب میں capacity strong ہے مگر بڑے projects کی وجہ سے procurement risk بھی بڑا ہے۔ بڑے ہسپتال، equipment، construction اور technology projects میں cost escalation اور contract management کی سخت نگرانی ضروری ہے۔

سندھ میں بڑے institutional grants کا model ہے۔ یہ model قابلِ audit ہے، مگر شرط یہ ہے کہ grants کے ساتھ performance reports public ہوں۔ اگر institution کو اربوں روپے ملیں مگر district-level impact public نہ ہو تو transparency gap رہتا ہے۔

KP میں Sehat Card اور MTIs کا model مضبوط بھی ہے اور risk-sensitive بھی۔ Health insurance claims کی independent audit، private hospitals کی billing verification اور patient confirmation لازمی ہے۔

بلوچستان میں misuse سے زیادہ implementation failure کا خطرہ ہے۔ remote areas میں monitoring مشکل ہے، اس لیے staff absenteeism، medicine leakage، inactive facilities اور weak procurement زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر governance کے لحاظ سے KP کا reform framework نسبتاً بہتر دکھائی دیتا ہے، سندھ کا institution-based model measurable ہو سکتا ہے، پنجاب کا mega-project model strong capacity مگر high scrutiny مانگتا ہے، جبکہ بلوچستان کو سب سے زیادہ ground monitoring کی ضرورت ہے۔


کون سا صوبہ بہتر کر رہا ہے؟

اگر سوال یہ ہو کہ سب سے بڑا health budget کس کا ہے؟ جواب پنجاب ہے۔

اگر سوال یہ ہو کہ per-person allocation کس کا بہتر ہے؟ جواب خیبرپختونخوا ہے۔

اگر سوال یہ ہو کہ specialized hospitals اور emergency networks کہاں زیادہ مضبوط دکھائی دیتے ہیں؟ جواب سندھ ہے۔

اگر سوال یہ ہو کہ basic health need سب سے زیادہ کہاں ہے؟ جواب بلوچستان ہے۔

اگر سوال یہ ہو کہ عوام کو جیب سے علاج کے بڑے خرچ سے بچانے کا model کہاں نمایاں ہے؟ جواب KP ہے۔

اگر سوال یہ ہو کہ facilities کا سب سے بڑا physical network کہاں ہے؟ جواب پنجاب ہے۔

اگر سوال یہ ہو کہ health budget کو outcome-based بنانے کی سب سے زیادہ ضرورت کہاں ہے؟ جواب چاروں صوبوں میں ہے، مگر بلوچستان اور rural Sindh میں urgency سب سے زیادہ ہے۔


سفارشات

چاروں صوبوں کو health budget کے ساتھ annual patient outcome report جاری کرنی چاہیے۔ اس میں بتایا جائے کہ کتنے مریضوں کا علاج ہوا، کتنی surgeries ہوئیں، کتنی emergency cases handle ہوئے، کتنی deliveries safe ہوئیں، کتنی medicines stock-out ہوئیں، کتنے doctors absent پائے گئے، کتنی ambulance calls attend ہوئیں اور patient satisfaction کیا رہی۔

دوسری سفارش یہ ہے کہ essential medicines کو ring-fence کیا جائے۔ عام مریض کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ سرکاری ہسپتال میں prescription تو مل جاتی ہے مگر medicine باہر سے خریدنی پڑتی ہے۔ medicine availability dashboard ہر صوبے میں public ہونا چاہیے۔

تیسری سفارش primary healthcare ہے۔ BHU، RHC، THQ اور DHQ hospitals کو مضبوط کیے بغیر tertiary hospitals پر بوجھ کم نہیں ہوگا۔ پنجاب اور سندھ کو بڑے اداروں کے ساتھ district health system پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ KP کو health card کے ساتھ primary gatekeeping ضروری بنانی چاہیے۔ بلوچستان کو functional BHUs اور emergency referral کو top priority بنانا چاہیے۔

چوتھی سفارش insurance audit ہے۔ KP اور بلوچستان کے Health Card programmes کو claims dashboard کے بغیر نہیں چلانا چاہیے۔ hospital-wise claims، disease-wise cost، rejected claims، average treatment cost اور patient verification public ہونی چاہیے۔

پانچویں سفارش یہ ہے کہ budget کو population کے ساتھ poverty, distance اور disease burden کے formula سے تقسیم کیا جائے۔ بلوچستان، جنوبی پنجاب، اندرون سندھ اور merged districts KP کے لیے special equity formula ضروری ہے۔


حتمی نتیجہ

2026-27 کے صوبائی health budgets سے ایک واضح نتیجہ نکلتا ہے: پنجاب size میں سب سے بڑا ہے، سندھ specialized care میں سب سے نمایاں ہے، خیبرپختونخوا financial protection میں سب سے مضبوط model پیش کر رہا ہے، اور بلوچستان سب سے زیادہ محروم مگر سب سے زیادہ urgent province ہے۔

پنجاب کو ثابت کرنا ہوگا کہ بڑا budget صرف بڑے منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ عام مریض، دیہی مرکز صحت، district hospital اور medicine counter تک پہنچتا ہے۔ سندھ کو اپنے specialized institutions کی کامیابی کے ساتھ rural health gap کم کرنا ہوگا۔ KP کو Sehat Card Plus کو شفاف audit کے ساتھ sustainable بنانا ہوگا۔ بلوچستان کو basic access، doctor availability، medicines اور emergency referral پر جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔

پاکستان میں صحت کا اصل امتحان budget speech نہیں، hospital ward میں ہوتا ہے۔ اگر مریض کو doctor، medicine، test، ambulance اور dignity مل جائے تو budget کامیاب ہے۔ اگر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود مریض private pharmacy، private lab اور سفارش کے چکر میں پھنس جائے تو پھر budget صرف کاغذی دعویٰ رہ جاتا ہے۔

2026-27 کا health budget چاروں صوبوں کے لیے موقع بھی ہے اور امتحان بھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ پیسہ عمارتوں، فائلوں اور grants میں گم ہوتا ہے یا واقعی عوام کی زندگی بچانے والے نظام میں بدلتا ہے۔


صحت بجٹ 2026-27، پنجاب بجٹ، سندھ بجٹ، خیبرپختونخوا بجٹ، بلوچستان بجٹ، ہیلتھ کارڈ، سرکاری ہسپتال، صحت سہولیات، بجٹ تجزیہ، دوست نیوز

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں