پاکستان کی میدانِ جنگ کے بعد سفارتی میدان میں بھی انڈیا کو مات

تحریر: حنیف صابر
بین الاقوامی سیاست میں طاقت کا اظہار صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتا بلکہ اصل کامیابی اس وقت سمجھی جاتی ہے جب عسکری کامیابی کو سفارتی برتری میں تبدیل کر لیا جائے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے حوالے سے یہی منظرنامہ ابھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ معرکۂ حق میں بھارت کے مقابلے میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے بعد پاکستان نے سفارتی میدان میں بھی ایسی پیش رفت حاصل کی ہے جس نے عالمی سطح پر اس کی اہمیت کو نمایاں کر دیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے ہونے والی سفارتی کوششوں میں پاکستان کے کردار نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ ایک ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا تھا، پاکستان نے محاذ آرائی کے بجائے مکالمے اور مفاہمت کے راستے کی حمایت کی۔ اس طرزِ عمل نے اسلام آباد کو ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد سفارتی شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔
دوسری جانب بھارت، جو خود کو خطے کی ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر پیش کرتا رہا ہے، حالیہ سفارتی سرگرمیوں میں وہ تاثر قائم رکھنے میں کامیاب دکھائی نہیں دیا۔ جی سیون سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر اور بھارتی وزیرِ اعظم کی ملاقات کو عالمی میڈیا نے غیر معمولی اہمیت دی۔ کئی مبصرین کے مطابق ملاقات میں وہ گرمجوشی دکھائی نہیں دی جو ماضی میں دونوں ممالک کے تعلقات کی علامت سمجھی جاتی تھی۔
یہ حقیقت ہے کہ عالمی سیاست مستقل دوستوں یا مستقل دشمنوں کے بجائے مستقل مفادات کے اصول پر چلتی ہے۔ امریکہ سمیت بڑی طاقتیں بھی انہی ممالک کو اہمیت دیتی ہیں جو کسی بحران کے حل میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ حالیہ صورتحال میں پاکستان نے خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر منوایا ہے جو تنازعات کو کم کرنے اور مختلف فریقوں کے درمیان رابطے قائم رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان کی سفارتی کامیابی کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے بیک وقت مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن رکھا ہے۔ چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری، امریکہ کے ساتھ رابطے، خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات اور ایران و ترکیہ کے ساتھ تعاون نے پاکستان کو ایک منفرد سفارتی حیثیت عطا کی ہے۔
تاہم یہ کامیابی مستقل نہیں سمجھی جا سکتی۔ سفارتی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے معاشی استحکام، سیاسی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی مضبوطی ناگزیر ہے۔ اگر پاکستان داخلی محاذ پر استحکام پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو حالیہ سفارتی کامیابیاں ایک طویل المدتی قومی طاقت میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
آج دنیا ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں صرف فوجی قوت کافی نہیں۔ جو ممالک بحرانوں کے حل، مذاکرات کے فروغ اور علاقائی استحکام میں کردار ادا کرتے ہیں، وہی حقیقی اثر و رسوخ حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک تاریخی موقع ہے کہ وہ اپنی حالیہ کامیابیوں کو ایک جامع سفارتی حکمتِ عملی میں ڈھالے۔
اگر اسلام آباد نے یہ موقع درست انداز میں استعمال کیا تو تاریخ شاید یہ لکھے کہ پاکستان نے صرف میدانِ جنگ میں ہی نہیں بلکہ سفارتی میدان میں بھی بھارت کو پیچھے چھوڑ کر اپنی نئی عالمی شناخت قائم کی۔
