قومی قرضے اور عوام کا مستقبل: معاشی چیلنجز اور پائیدار حل

تحریر: محمد خالد
قومی قرضے اور عوام کا مستقبل: معاشی چیلنجز اور پائیدار حل
*خاص تحریر: محمد خالد *
پاکستان کی معیشت اس وقت ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں قومی قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ، مہنگائی، بلند شرحِ سود، کمزور ٹیکس نظام اور محدود برآمدات جیسے مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ قرض بذاتِ خود کسی بھی ملک کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتا۔ دنیا کی بڑی معیشتیں بھی ملکی ترقی، انفراسٹرکچر اور صنعتی منصوبوں کے لیے قرض لیتی ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ قرض کہاں خرچ کیا جا رہا ہے اور اس کی واپسی کے لیے معیشت کتنی مضبوط بنیاد رکھتی ہے۔ اگر قرض سڑکوں، ڈیموں، بجلی کے منصوبوں، صنعت، تعلیم، صحت اور انسانی وسائل کی ترقی پر خرچ ہو تو وہ مستقبل میں آمدنی پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن اگر قرض کا زیادہ حصہ پرانے قرضوں کے سود کی ادائیگی اور غیر پیداواری اخراجات میں چلا جائے تو یہ معیشت کے لیے مستقل دباؤ بن جاتا ہے۔
پاکستان کے موجودہ معاشی حالات میں قرضوں کی ادائیگی ایک بڑا مالیاتی چیلنج بن چکی ہے۔ حکومت کی آمدنی کا ایک نمایاں حصہ قرضوں اور ان پر عائد سود کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال کا براہ راست اثر ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور عوامی سہولیات پر پڑتا ہے۔ جب بجٹ کا بڑا حصہ پہلے ہی مقررہ اخراجات پورے کرنے میں صرف ہو جائے تو حکومت کے پاس نئی سڑکیں بنانے، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو بہتر کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کے لیے محدود وسائل بچتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرضوں کا مسئلہ صرف سرکاری کھاتوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ عام شہری کی زندگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔
قرضوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے حکومت کو آمدنی میں اضافہ کرنا پڑتا ہے اور اس مقصد کے لیے اکثر ٹیکسوں میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ٹیکسوں کا بوجھ کئی مرتبہ ایسے شہریوں اور کاروباری طبقات پر زیادہ پڑتا ہے جو پہلے ہی باقاعدگی سے ٹیکس ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ دوسری جانب معیشت کے کئی بڑے شعبے مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں نہیں آ پاتے۔ نتیجتاً حکومت بالواسطہ ٹیکسوں، پٹرولیم لیوی، بجلی اور دیگر محصولات کے ذریعے آمدنی بڑھانے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کا اثر اشیائے خورونوش، بجلی، پٹرول اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا کی قیمتوں پر پڑتا ہے اور عام آدمی کی قوت خرید مزید کم ہو جاتی ہے۔
بلند مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرحِ سود میں اضافہ بھی کیا جاتا ہے، لیکن اس کا دوسرا رخ کاروباری سرگرمیوں کی سست روی ہے۔ جب بینکوں سے قرض لینا مہنگا ہو جائے تو صنعت کار نئی فیکٹری لگانے، کاروبار پھیلانے یا پیداوار بڑھانے سے گریز کرتے ہیں۔ اس سے سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی سرگرمیوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ یوں مہنگائی، شرحِ سود، قرض اور کمزور کاروباری سرگرمیاں ایک دوسرے سے جڑ کر معیشت کے لیے ایک مشکل چکر پیدا کر دیتی ہیں۔
پاکستان کا ایک بنیادی مسئلہ درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق بھی ہے۔ جب معیشت تیزی سے ترقی کرتی ہے تو مشینری، پٹرولیم مصنوعات، خام مال اور دیگر اشیا کی درآمد بڑھ جاتی ہے، لیکن ہماری برآمدات اسی رفتار سے نہیں بڑھ پاتیں۔ نتیجتاً زرمبادلہ پر دباؤ بڑھتا ہے اور ملک کو بیرونی قرضوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس مسئلے کا مستقل حل صرف درآمدات کم کرنا نہیں بلکہ برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔
پاکستان کو روایتی مصنوعات کے ساتھ ساتھ ویلیو ایڈڈ مصنوعات، آئی ٹی، سافٹ ویئر، مصنوعی ذہانت، فری لانسنگ، انجینئرنگ، فارماسیوٹیکل اور جدید صنعتی شعبوں پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ ہماری نوجوان آبادی ملک کا سب سے بڑا اثاثہ بن سکتی ہے، بشرطیکہ انہیں جدید تعلیم، فنی تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ دنیا میں ڈیجیٹل معیشت تیزی سے پھیل رہی ہے اور پاکستان کے لیے یہ شعبہ قیمتی زرمبادلہ حاصل کرنے کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔
معاشی استحکام کے لیے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔ ٹیکس کا دائرہ وسیع کیا جائے اور ان شعبوں کو مؤثر انداز میں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے جو ملکی معیشت میں بڑا حصہ رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس نظام کو آسان، شفاف اور کاروبار دوست بنانا ضروری ہے تاکہ لوگ ٹیکس دینے کو بوجھ کے بجائے ریاستی ذمہ داری سمجھیں۔
توانائی کا شعبہ بھی معاشی اصلاحات کا اہم حصہ ہے۔ بجلی چوری، لائن لاسز، ناقص انتظام، غیر مؤثر معاہدوں اور گردشی قرضے جیسے مسائل نے طویل عرصے سے قومی خزانے پر دباؤ ڈال رکھا ہے۔ اگر توانائی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات کی جائیں تو نہ صرف سرکاری اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں بلکہ صنعت اور کاروبار کو بھی سستی اور قابل اعتماد توانائی فراہم کی جا سکتی ہے۔
اسی طرح خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی اصلاح بھی ضروری ہے۔ ایسے ادارے جو مسلسل قومی خزانے سے اربوں روپے حاصل کر رہے ہیں، ان کی کارکردگی بہتر بنائی جائے یا شفاف طریقے سے نجی شعبے کے حوالے کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔ تاہم نجکاری کا عمل شفاف، میرٹ پر مبنی اور عوامی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے معاشی مسائل مشکل ضرور ہیں لیکن ناقابلِ حل نہیں۔ ہمارے پاس نوجوان افرادی قوت، زرعی وسائل، معدنی ذخائر، صنعتی صلاحیت اور جغرافیائی اہمیت موجود ہے۔ ضرورت صرف مستقل مزاجی، درست پالیسی، شفاف حکمرانی اور طویل المدت منصوبہ بندی کی ہے۔ اگر حکومتیں اپنی معاشی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھیں، ٹیکس نظام کو منصفانہ بنائیں، برآمدات بڑھائیں، توانائی کے مسائل حل کریں اور قرض کو پیداواری شعبوں میں استعمال کریں تو پاکستان بتدریج قرضوں کے دباؤ سے نکل سکتا ہے۔
آخرکار قومی قرضے صرف حکومت کا مسئلہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی ہیں۔ آج لیے جانے والے ہر قرض اور کیے جانے والے ہر معاشی فیصلے کا اثر کل کے پاکستان پر پڑے گا۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ وقتی سیاسی مفادات کے بجائے قومی معاشی مفاد کو ترجیح دی جائے اور ایسی مضبوط بنیاد رکھی جائے جس پر آنے والی نسلیں ایک خودمختار، مستحکم اور خوشحال پاکستان تعمیر کر سکیں
صحافی و تجزیہ کار
اس کالم میں ظاہر کیے گئے خیالات کالم نگار کے ذاتی ہیں، ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
