مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 18°C
بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 419,665 PKR Bitcoin $80,896 USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 419,665 PKR Bitcoin $80,896
رائے و تجزیہ

28ویں آئینی ترمیم: وفاق مضبوط ہوگا یا صوبے کمزور؟

📅 🔄 اپ ڈیٹ: ✍️ ⏱ 6 منٹ
khalid
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

تحریر: محمد خالد
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض آئینی ترامیم نے ریاست کے خدوخال بدل دیے۔ 1973 کا آئین، 8ویں ترمیم، 17ویں ترمیم اور پھر 18ویں ترمیم ایسے سنگ میل ہیں جنہوں نے طاقت کے مراکز اور اختیارات کی تقسیم پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ آج ایک بار پھر 28ویں آئینی ترمیم کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ اگرچہ ابھی تک کوئی سرکاری مسودہ سامنے نہیں آیا، لیکن سیاسی راہداریوں میں ہونے والی گفتگو نے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا پاکستان ایک بار پھر مرکزیت کی طرف لوٹ رہا ہے یا واقعی نظامِ حکومت کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟
18ویں آئینی ترمیم کو پاکستان کی وفاقی تاریخ میں ایک انقلابی قدم قرار دیا جاتا ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے صوبوں کو بے شمار اختیارات منتقل کیے گئے۔ تعلیم، صحت، ثقافت، زراعت اور متعدد دیگر شعبے صوبائی دائرہ اختیار میں آ گئے۔ مشترکہ فہرست (Concurrent List) تقریباً ختم کر دی گئی اور صوبائی خودمختاری کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا۔
لیکن سولہ برس گزرنے کے بعد یہ سوال بھی شدت سے اٹھ رہا ہے کہ کیا صوبوں کو ملنے والے اختیارات عوام تک منتقل ہوئے؟ کیا اختیارات اسلام آباد سے نکل کر واقعی گاؤں، تحصیل اور ضلع تک پہنچے یا صرف وفاق سے نکل کر صوبائی دارالحکومتوں میں منتقل ہو گئے؟
28ویں ترمیم کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق چند بنیادی نکات زیرِ بحث ہیں۔ ان میں مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ دینا، این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے پر نظرثانی، وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا ازسرِ نو جائزہ اور بعض قومی شعبوں میں وفاق کے کردار کو مضبوط بنانا شامل ہیں۔
اصل تنازع این ایف سی ایوارڈ کے گرد گھوم رہا ہے۔ موجودہ نظام کے تحت وفاقی محاصل کا بڑا حصہ صوبوں کو منتقل ہوتا ہے۔ وفاق طویل عرصے سے شکایت کرتا آیا ہے کہ دفاع، قرضوں کی ادائیگی، خارجہ امور اور قومی منصوبوں کے لیے اس کے پاس مالی گنجائش کم رہ جاتی ہے۔ اسی وجہ سے بعض حلقے این ایف سی فارمولے میں تبدیلی کی بات کرتے ہیں۔ دوسری جانب صوبوں کا مؤقف ہے کہ اگر ان کے حصے میں کمی کی گئی تو صوبائی خودمختاری صرف ایک نعرہ بن کر رہ جائے گی۔
دوسرا اہم مسئلہ مقامی حکومتوں کا ہے۔ پاکستان میں ہر حکومت بلدیاتی نظام کی بات تو کرتی ہے لیکن اقتدار نچلی سطح تک منتقل کرنے سے گریز کرتی ہے۔ بعض سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 28ویں ترمیم کے ذریعے بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ دیا جا سکتا ہے تاکہ صوبائی حکومتیں انہیں معطل یا غیر فعال نہ کر سکیں۔
نئے صوبوں کا معاملہ بھی وقتاً فوقتاً زیرِ بحث آتا رہا ہے۔ جنوبی پنجاب، بہاولپور، ہزارہ اور کراچی کے حوالے سے مختلف آراء موجود ہیں۔ تاہم آئینی طور پر نئے صوبے بنانا آسان نہیں کیونکہ اس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس تجویز کو سیاسی طور پر انتہائی مشکل قرار دیتے ہیں۔
میری نظر میں اصل سوال یہ نہیں کہ وفاق مضبوط ہو یا صوبے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان مضبوط کیسے ہو؟ اگر وفاق مضبوط ہو مگر صوبے کمزور ہو جائیں تو وفاقیت متاثر ہوگی۔ اگر صوبے طاقتور ہوں مگر عوام کو بنیادی سہولیات نہ ملیں تو خودمختاری بے معنی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر اختیارات صرف صوبائی دارالحکومتوں تک محدود رہیں اور ضلع و تحصیل محروم رہیں تو جمہوریت کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔
پاکستان کو اختیارات کی جنگ نہیں بلکہ اختیارات کی منصفانہ تقسیم کی ضرورت ہے۔ وفاق، صوبے اور مقامی حکومتیں ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ ایک ہی ریاست کے ستون ہیں۔ اگر 28ویں ترمیم واقعی عوامی مسائل کے حل، بہتر طرزِ حکمرانی، مالی شفافیت اور نچلی سطح تک اختیار کی منتقلی کے لیے آتی ہے تو اس کا خیرمقدم ہونا چاہیے۔ لیکن اگر اس کا مقصد صرف اختیارات کو ایک مرکز سے دوسرے مرکز منتقل کرنا ہے تو پھر یہ بحث ایک نئے سیاسی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
فی الحال حقیقت یہ ہے کہ 28ویں ترمیم ایک تجویز اور سیاسی بحث کی حد تک موجود ہے۔ حتمی رائے اس وقت ہی قائم کی جا سکتی ہے جب اس کا باقاعدہ مسودہ عوام اور پارلیمنٹ کے سامنے آئے گا۔ تب تک سوال برقرار ہے: کیا یہ ترمیم پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو مضبوط کرے گی یا ایک نئی آئینی کشمکش کا آغاز ثابت ہوگی؟
یہ کالم اخباری انداز میں لکھا گیا ہے اور اس میں دعووں کے بجائے تجزیہ رکھا گیا ہے، کیونکہ ابھی 28ویں ترمیم کے بارے میں بہت سی باتیں قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔ �

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں