عمران خان کی رہائی کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت نہیں کر رہے، نئے صوبوں کا معاملہ نئی پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا جائے، بیرسٹر گوہر
عمران خان کی رہائی کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت نہیں کر رہے، نئے صوبوں کا معاملہ نئی پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا جائے، بیرسٹر گوہر
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت نہیں کی جا رہی، نئے صوبوں کے قیام سے متعلق معاملہ نئی پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا جائے، موجودہ پارلیمنٹ کو مزید متنازعہ آئینی ترامیم سے گریز کرنا چاہیے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان واضح کر چکے ہیں کہ وہ 100 سال جیل میں گزارنے کے لیے تیار ہیں لیکن کسی قسم کی ڈیل نہیں کریں گے۔ عمران خان کی رہائی کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کا کوئی معاملہ زیر غور نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس تقریباً آٹھ گھنٹے جاری رہا، جس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے تقریباً 70 ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس میں 28ویں آئینی ترمیم سمیت مختلف سیاسی اور آئینی معاملات پر تفصیلی مشاورت کی گئی، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام سمیت صوبوں سے متعلق آئینی معاملات کا فیصلہ نئی پارلیمنٹ پر چھوڑ دینا چاہیے۔ موجودہ پارلیمنٹ کو مزید متنازعہ آئینی ترامیم کرنے کے بجائے ایسے معاملات سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی نے ملک میں نافذ ایمرجنسی اور گورنر راج ختم کرانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے۔ ان کے بقول ایمرجنسی کے نفاذ سے ملک میں جمہوریت اور قومی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
سیاسی مذاکرات کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات جلد از جلد ہونے چاہئیں اور اس معاملے پر پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں۔ محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کے لیے باقاعدہ مینڈیٹ دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پارٹی ان کے اقدامات سے مکمل طور پر آگاہ اور متفق ہے۔ گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں ارکان کو اس حوالے سے اعتماد میں بھی لیا گیا تھا۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ ملک میں احتجاج اور لانگ مارچ کے سوا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں چھوڑا گیا۔
