مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,805 USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,805
رائے و تجزیہ

فلسطین: خون، مزاحمت اور قبلۂ اول

📅 اتوار، 17 مئی 2026 ✍️ Editor ⏱ 12 منٹ
palestine
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

دوست نیوز رپورٹ

مختصر تفصیل

فلسطین صرف ایک جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ تاریخ، مذہب، شناخت، آزادی، قبضے، مزاحمت اور انسانی المیے کی ایسی داستان ہے جس نے پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ رکھا ہے۔ غزہ، مسجد اقصیٰ، اسرائیلی کارروائیاں، فلسطینی عوام کی جدوجہد، عالمی سیاست اور قبلۂ اول کی مذہبی حیثیت پر ایک جامع تحقیقی و تاریخی فیچر۔


فلسطین: غزہ، مسجد اقصیٰ، اسرائیلی کارروائیاں اور فلسطینی عوام کی جدوجہد

دنیا میں بہت سے تنازعات ہوئے، بہت سی جنگیں ہوئیں، سرحدیں بدلیں، حکومتیں گریں اور نئی طاقتیں ابھریں، مگر فلسطین کا مسئلہ صرف زمین کا تنازع نہیں بن سکا۔ یہ تاریخ، عقیدے، شناخت، آزادی، قبضے، مزاحمت، عالمی سیاست، انسانی حقوق اور مذہبی جذبات کا ایسا پیچیدہ امتزاج ہے جس نے ایک صدی سے زیادہ عرصے سے دنیا کو تقسیم بھی کیا اور جھنجھوڑا بھی۔ فلسطین کا نام آتے ہی صرف ایک جغرافیہ ذہن میں نہیں آتا؛ مسجد اقصیٰ، غزہ کے کھنڈرات، شہید بچے، مہاجر خاندان، مقدس مقامات، مزاحمت، احتجاج، دعائیں اور عالمی طاقتوں کی سیاست سب ایک ساتھ سامنے آ جاتے ہیں۔

فلسطین مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں تینوں کے لیے مقدس سرزمین ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں انبیائے کرام علیہم السلام کی تاریخ جڑی ہوئی ہے۔ مسلمانوں کے لیے مسجد اقصیٰ قبلۂ اول ہے، وہ مقام جہاں سے رسول اللہ ﷺ نے معراج کا سفر فرمایا۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی، جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنایا…”
(سورۃ الاسراء: 1)

یہ آیت صرف ایک روحانی واقعہ بیان نہیں کرتی بلکہ مسجد اقصیٰ کی عظمت اور اس سرزمین کی برکت کو بھی واضح کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ عالمِ اسلام کے دل کے ساتھ جڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

مگر فلسطین صرف مذہبی جذبات کی کہانی نہیں؛ یہ انسانی درد کی بھی داستان ہے۔ جدید فلسطینی تنازع کی جڑیں انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں ملتی ہیں، جب سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے، برطانوی مینڈیٹ، بالفور اعلامیہ، صہیونی تحریک، یورپی یہودیوں کی ہجرت اور عالمی طاقتوں کی سیاست نے اس خطے کی صورت بدلنا شروع کی۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام اور اس کے بعد ہونے والی جنگ کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوئے۔ فلسطینی اسے “النکبہ” یعنی عظیم تباہی کہتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزین ادارے UNRWA کے مطابق لاکھوں فلسطینی پناہ گزین اور ان کی نسلیں آج بھی غزہ، مغربی کنارہ، اردن، لبنان اور شام میں رجسٹرڈ پناہ گزین کی حیثیت سے زندگی گزار رہی ہیں۔ (unrwa.org)

یہ تنازع صرف تاریخ میں محدود نہیں رہا بلکہ ہر نئی نسل نے اسے اپنے خون، اپنے آنسوؤں اور اپنے گھروں کی تباہی کے ساتھ جھیلا۔ خاص طور پر غزہ آج دنیا کے سب سے زیادہ زیرِ بحث اور الم ناک علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی گروہوں کے درمیان جنگی کارروائیوں نے لاکھوں عام شہریوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں، عالمی امدادی تنظیموں اور متعدد بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق غزہ میں حالیہ جنگوں کے دوران بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتیں، رہائشی علاقوں کی تباہی، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان، خوراک و پانی کی قلت، نقل مکانی اور انسانی بحران پیدا ہوا۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور OCHA کے مطابق غزہ کی بڑی آبادی انسانی امداد پر انحصار کر رہی ہے۔ (ochaopt.org)

فلسطینی عوام اسے صرف جنگ نہیں بلکہ اپنی بقا اور آزادی کی جدوجہد سمجھتے ہیں۔ فلسطینی معاشرے میں “مقاومت” صرف عسکری تصور نہیں بلکہ شناخت، سرزمین، گھروں، خاندانوں اور آزادی سے جڑا ہوا احساس ہے۔ غزہ کے عام شہری، جن میں بچے، خواتین، بزرگ، صحافی، ڈاکٹر اور اساتذہ شامل ہیں، مسلسل خوف، نقل مکانی، معاشی مشکلات اور عدم تحفظ کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔

اسرائیل کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ اسرائیل اپنی کارروائیوں کو سکیورٹی، دفاع اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات قرار دیتا ہے، جبکہ فلسطینی اور عالمی انسانی حقوق کی کئی تنظیمیں اسرائیلی پالیسیوں کو قبضہ، ناکہ بندی، آبادکاری اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تناظر میں دیکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ صرف دو قوموں کا تنازع نہیں بلکہ عالمی سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کا ایک بڑا سوال بن چکا ہے۔

غزہ کی صورتحال خاص طور پر انسانی المیے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت WHO اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں نے بارہا خبردار کیا کہ جنگ اور ناکہ بندی کے باعث اسپتالوں، ادویات، صاف پانی، بجلی اور خوراک کی شدید کمی پیدا ہوئی۔ ہزاروں بچے نفسیاتی صدمے کا شکار ہوئے اور لاکھوں افراد کو بار بار نقل مکانی کرنا پڑی۔ (who.int)

غزہ کی تباہی کی تصاویر نے پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑا۔ ملبے میں دبے بچے، تباہ شدہ مساجد، اسکولوں میں پناہ لیتے خاندان، کھنڈرات میں کھڑے والدین اور لاشوں کے درمیان زندگی تلاش کرتے امدادی کارکن — یہ مناظر صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے بلکہ دنیا بھر میں احتجاج، مباحثے اور سیاسی تقسیم کا سبب بنے۔

فلسطینی عوام کی جدوجہد کو عالمِ اسلام میں اکثر “آزادی” اور “مزاحمت” کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ بہت سے مسلمان فلسطینیوں کی قربانیوں کو اپنے مذہبی اور انسانی جذبات سے جوڑتے ہیں، خاص طور پر مسجد اقصیٰ کی وجہ سے۔ قبلۂ اول کی حیثیت فلسطین کو مسلمانوں کے دل میں ایک منفرد مقام دیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے معراج کا سفر ہوا، اور یہی وہ مسجد ہے جس کے بارے میں اسلامی روایات میں خاص فضیلت بیان کی گئی ہے۔

لیکن فلسطین صرف مسلمانوں کے لیے مقدس نہیں۔ عیسائیوں کے لیے بھی یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سرزمین ہے، جبکہ یہودیوں کے لیے یروشلم اور اس سے جڑے مقامات مذہبی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہی مذہبی مرکزیت اس تنازع کو مزید حساس بنا دیتی ہے۔ دنیا کے بہت سے مبصرین کہتے ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ صرف سرحدوں کا مسئلہ نہیں بلکہ یادداشت، عقیدے اور تاریخی شناخت کا مسئلہ بھی ہے۔

یروشلم، جسے عربی میں القدس کہا جاتا ہے، اس تنازع کا سب سے حساس پہلو ہے۔ اسرائیل اسے اپنی “ابدی دارالحکومت” قرار دیتا ہے، جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت سمجھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں میں مشرقی یروشلم کی حیثیت متنازع تصور کی گئی ہے۔ (un.org)

فلسطین کے مسئلے نے عالمی سیاست کو بھی تقسیم کیا ہوا ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے اسرائیل کا قریبی اتحادی رہا ہے، جبکہ کئی یورپی ممالک اسرائیل کے حقِ دفاع کی حمایت کے ساتھ انسانی حقوق اور جنگ بندی کی بات بھی کرتے رہے ہیں۔ دوسری طرف عرب اور مسلم ممالک فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطینی حقوق کی حمایت کرتے ہیں، اگرچہ عملی سیاست میں ان کے مؤقف اور ترجیحات مختلف ہو سکتی ہیں۔

چین، روس، ترکی، ایران، قطر، سعودی عرب، مصر اور دیگر ممالک بھی اس مسئلے میں مختلف سفارتی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ بعض ممالک دو ریاستی حل کی بات کرتے ہیں، بعض جنگ بندی اور انسانی امداد پر زور دیتے ہیں، جبکہ کچھ حلقے سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں مستقل امن کا راستہ بہت مشکل ہو چکا ہے۔

دو ریاستی حل، یعنی ایک آزاد فلسطینی ریاست اور اسرائیل کا ساتھ ساتھ وجود، کئی دہائیوں سے عالمی سفارت کاری کا مرکزی تصور رہا ہے۔ مگر زمینی حقائق، آبادکاری، سیاسی تقسیم، سکیورٹی خدشات، باہمی عدم اعتماد اور مسلسل جنگی حالات نے اس راستے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

فلسطینی معاشرے کے اندر بھی مختلف سیاسی و مزاحمتی گروہ موجود ہیں۔ غزہ میں حماس کا اثر ہے جبکہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی اور الفتح کا کردار نمایاں رہا ہے۔ فلسطینی سیاست کی یہ تقسیم بھی ایک بڑا چیلنج سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح اسرائیل کے اندر بھی سخت گیر اور معتدل سیاسی حلقوں کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔

فلسطین کی کہانی صرف سیاست نہیں؛ یہ انسانی ثابت قدمی کی کہانی بھی ہے۔ غزہ کے ملبے میں پڑھنے والے بچے، تباہ شدہ اسکولوں کے باوجود تعلیم جاری رکھنے والے اساتذہ، مسلسل جنگ کے باوجود علاج کرنے والے ڈاکٹر، اور اپنے گھروں کے کھنڈرات میں زندگی دوبارہ بنانے والے خاندان اس معاشرے کی قوتِ ارادی کو ظاہر کرتے ہیں۔

فلسطینی صحافیوں اور امدادی کارکنوں نے بھی دنیا کو وہ تصاویر دکھائیں جنہوں نے عالمی رائے عامہ کو متاثر کیا۔ سوشل میڈیا نے اس تنازع کو پہلے سے کہیں زیادہ عالمی بنا دیا۔ اب غزہ یا القدس میں ہونے والا واقعہ چند منٹوں میں پوری دنیا کے موبائل فونز تک پہنچ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ صرف سفارتی کمروں تک محدود نہیں رہا بلکہ عوامی شعور، نوجوان نسل اور عالمی سول سوسائٹی کا بھی موضوع بن چکا ہے۔

عالمِ اسلام میں فلسطین کو صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ امت کے اجتماعی درد کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جمعہ کے خطبات، دعائیں، احتجاج، ریلیاں اور امدادی مہمات اس تعلق کی عکاسی کرتی ہیں۔ خاص طور پر مسجد اقصیٰ کے حوالے سے مسلمانوں کے جذبات انتہائی گہرے ہیں۔ جب بھی وہاں کشیدگی بڑھتی ہے، اس کا اثر پوری مسلم دنیا میں محسوس کیا جاتا ہے۔

مگر فلسطین کے مسئلے کو صرف جذبات سے نہیں بلکہ حقیقت، تاریخ اور انسانی اصولوں کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انسانی جان کی حرمت، شہریوں کا تحفظ، بچوں کی سلامتی، مذہبی مقامات کا احترام، انصاف، آزادی اور پائیدار امن — یہ سب اصول اس تنازع کے مرکز میں ہونے چاہییں۔

اقوام متحدہ، عالمی عدالت انصاف، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی امدادی ادارے مسلسل جنگ بندی، انسانی امداد اور سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ابھی تک ایک پائیدار اور منصفانہ حل سے دور دکھائی دیتا ہے۔

فلسطین کی سرزمین نے بہت خون دیکھا ہے، مگر اس نے امید بھی دیکھی ہے۔ غزہ کے ملبے میں کھیلتے بچے، القدس کی گلیوں میں اذان کی آواز، مسجد اقصیٰ میں سجدہ کرتے نمازی، اور اپنے گھروں کی چابیاں سنبھال کر رکھنے والے مہاجر خاندان یہ بتاتے ہیں کہ یہ قوم صرف زندہ نہیں بلکہ اپنی شناخت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

دوست نیوز کی “فلسطین” سب کیٹیگری کا مقصد صرف خبروں کی ترسیل نہیں ہونا چاہیے بلکہ قارئین کو اس تنازع کی تاریخ، انسانی پہلو، مذہبی اہمیت، عالمی سیاست اور زمینی حقیقتوں سے جوڑنا چاہیے۔ فلسطین کی ہر خبر صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک بڑی انسانی اور تاریخی داستان کا حصہ ہے۔

فلسطین آج بھی دنیا کے ضمیر کا امتحان ہے۔ یہ سوال صرف یہ نہیں کہ جنگ کون جیت رہا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ انسانیت کیا کھو رہی ہے۔ مسجد اقصیٰ آج بھی کھڑی ہے، غزہ کے لوگ آج بھی زندہ ہیں، اور فلسطینی عوام آج بھی آزادی، شناخت اور اپنے مستقبل کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہی جدوجہد فلسطین کی اصل کہانی ہے۔


فلسطین، غزہ، مسجد اقصیٰ، قبلۂ اول، فلسطینی عوام، اسرائیل، القدس، غزہ جنگ، فلسطینی مزاحمت، عالم اسلام، مشرق وسطیٰ، انسانی بحران، Palestine News Urdu, Gaza, Al Aqsa, Dost News, World News Urdu

ٹیگز: #america #GAZA #israel #israeli terrorism #palestine #trending
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں