پاکستان کا نوجوان آخر ملک چھوڑنا کیوں چاہتا ہے
خواب مر رہے ہیں… یا نظام نوجوانوں کو دھکیل رہا ہے؟
تحریر: محمد خالد
پاکستان کا نوجوان آج عجیب کرب میں زندہ ہے…
اس کی آنکھوں میں خواب تو ہیں، لیکن ان خوابوں کے گرد مایوسی، بے روزگاری اور ناانصافی کی دیواریں کھڑی ہو چکی ہیں۔
آج اگر کسی نوجوان سے پوچھا جائے: “تمہارا سب سے بڑا خواب کیا ہے؟”
تو شاید وہ یہ نہ کہے کہ “میں پاکستان کو عظیم بنانا چاہتا ہوں…”
بلکہ وہ خاموش لہجے میں کہے: “بس کسی طرح ملک سے باہر نکلنا ہے…”
یہ جملہ صرف ایک خواہش نہیں… یہ اس معاشرے کے خلاف ایک خاموش چارج شیٹ ہے۔
آخر کیوں؟ آخر کیوں اس ملک کا تعلیم یافتہ نوجوان اپنے ہی وطن میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے؟ آخر کیوں ایک ذہین طالب علم، ایک قابل انجینئر، ایک محنتی ڈاکٹر، ایک باصلاحیت صحافی، ایک ہنرمند IT expert… اپنے ہی ملک میں مستقبل نہیں دیکھ پاتا؟
یہ سوال بہت خطرناک ہے… اور شاید حکمرانوں سے زیادہ اس قوم کو خود سے پوچھنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کا نوجوان تھکا ہوا ہے…
وہ مہنگائی سے لڑتے لڑتے تھک چکا ہے، وہ سفارش کے نظام سے ٹکرا ٹکرا کر زخمی ہو چکا ہے، وہ ڈگریاں اٹھائے دفاتر کے چکر لگا لگا کر مایوس ہو چکا ہے۔
یہاں قابلیت سے زیادہ تعلق چلتا ہے… محنت سے زیادہ سفارش، اور سچ سے زیادہ چاپلوسی۔
ایک نوجوان سالوں پڑھتا ہے، ماں باپ اپنی جمع پونجی اس کی تعلیم پر لگا دیتے ہیں، لیکن جب نوکری کا وقت آتا ہے… تو کرسی کسی “خاص بندے” کے حصے میں چلی جاتی ہے۔
اور پھر یہی نوجوان آہستہ آہستہ اندر سے ٹوٹنے لگتا ہے۔
پاکستان کا سب سے بڑا المیہ شاید غربت نہیں… بلکہ امید کا مر جانا ہے۔
جب نوجوان کو یقین ہو جائے کہ “یہاں میرا کچھ نہیں ہو سکتا” تو پھر ملک صرف زمین رہ جاتا ہے… وطن نہیں رہتا۔
آج ہزاروں نوجوان IELTS مراکز، ایجنٹوں، ویزا آفسوں، اور سفارت خانوں کے باہر قطاروں میں کھڑے ہیں۔
کسی کو کینیڈا جانا ہے، کسی کو آسٹریلیا، کسی کو دبئی، اور کسی کو یورپ۔
کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اس ملک میں ان کی محنت کی کوئی قیمت نہیں۔
سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جو نوجوان ملک چھوڑ رہا ہے، وہ پاکستان سے نفرت نہیں کرتا…
وہ تو شاید اس ملک سے بہت محبت کرتا ہے۔
لیکن محبت بھی آخر کب تک بھوک، بے عزتی، اور ناانصافی کے سامنے زندہ رہ سکتی ہے؟
ایک نوجوان جب اپنے باپ کو بجلی کے بلوں کے سامنے بے بس دیکھتا ہے… جب ماں گھر کے خرچے پورے کرنے کیلئے زیور بیچتی ہے… جب چھوٹا بھائی فیس نہ ہونے پر اسکول چھوڑ دیتا ہے… تو پھر اس کے دل میں وطن پرستی سے پہلے survival آتا ہے۔
یہاں مسئلہ صرف نوکری کا نہیں… ماحول کا بھی ہے۔
پاکستان کا نوجوان ذہنی دباؤ، anxiety، اور depression کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا نے بھی ایک نئی آگ لگا دی ہے۔
وہ دیکھتا ہے کہ دنیا کہاں پہنچ چکی ہے، اور ہم آج بھی بنیادی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔
وہ دیکھتا ہے کہ باہر merit کی بات ہوتی ہے، skills کی قدر ہوتی ہے، قانون طاقتور کو بھی روکتا ہے…
اور یہاں؟ یہاں غریب صرف قطاروں میں کھڑا رہتا ہے۔
پاکستان کی سب سے بڑی tragedy یہ نہیں کہ نوجوان جا رہے ہیں… اصل tragedy یہ ہے کہ جو رہ گئے ہیں، وہ بھی اندر سے ٹوٹ رہے ہیں۔
یہ brain drain صرف لوگوں کا جانا نہیں… یہ ملک کے مستقبل کا آہستہ آہستہ خالی ہونا ہے۔
ایک قوم تب کمزور نہیں ہوتی جب اس کے خزانے خالی ہوں…
قوم تب کمزور ہوتی ہے جب اس کے نوجوان امید چھوڑ دیں۔
آج اگر پاکستان کا نوجوان ملک چھوڑنے کا سوچ رہا ہے، تو اس کے پیچھے صرف پیسہ نہیں… بلکہ عزت، انصاف اور سکون کی تلاش بھی ہے۔
وہ صرف ڈالر نہیں چاہتا… وہ ایک ایسی زندگی چاہتا ہے جہاں اسے انسان سمجھا جائے۔
حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ نوجوان صرف تقریروں سے متاثر نہیں ہوتے۔
انہیں jobs چاہئیں، انہیں انصاف چاہیے، انہیں ایسا نظام چاہیے جہاں محنت کا صلہ ملے۔
ورنہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان کی گلیاں تو آباد ہوں گی… لیکن ان میں خواب دیکھنے والے نوجوان کم ہوتے جائیں گے۔
لیکن ابھی بھی وقت ہے…
اگر اس ملک میں merit کو طاقت دی جائے، تعلیم کو جدید بنایا جائے، corruption کو روکا جائے، اور نوجوانوں کو مواقع دیے جائیں…
تو یہی نوجوان پاکستان کو دنیا کے نقشے پر روشن کر سکتے ہیں۔
کیونکہ پاکستانی نوجوان بے صلاحیت نہیں… بلکہ بے سمت کر دیے گئے ہیں۔
اور یاد رکھو…
جس دن اس ملک کا نوجوان مایوسی چھوڑ کر امید کے ساتھ کھڑا ہو گیا، اُس دن پاکستان کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکے گی
