کاروباری آسانیوں کیلئے وفاقی اور صوبائی قوانین میں ہم آہنگی ناگزیر ہے
لاہور (نمائندہ خصوصی) پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف) انجم نثار گروپ کے رکن اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) کے سابق ایگزیکٹو کمیٹی ممبر مدثر مسعود چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں کاروباری آسانیوں کیلئے وفاقی اور صوبائی قوانین میں ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح پر ضابطہ جاتی اصلاحات میں یکجہتی انتہائی ضروری ہے۔
اہم نکات
- مختلف اداروں کے قوانین میں عدم مطابقت سے کاروباری لاگت اور انتظامی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
- کاروباری اداروں کو بار بار معلومات فراہم کرنے سے بچانے کیلئے ون ونڈو پورٹلز کو آپس میں مربوط کیا جائے۔
- ٹیکس ریفنڈز میں تاخیر اور پیچیدہ تقاضوں کو حل کر کے کاروباری اداروں کے گردشی سرمائے پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔
ضابطہ جاتی اصلاحات اور شفافیت
مدثر مسعود چوہدری نے مزید کہا کہ صرف وفاقی سطح پر اصلاحات کافی نہیں ہیں بلکہ تمام صوبائی اور مقامی قواعد کو ایک قومی ریگولیٹری رجسٹری میں شامل کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ضابطہ جاتی فیصلوں سے قبل متعلقہ صنعتوں اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت لازمی ہے، خصوصاً ماحولیاتی اور پیکیجنگ پالیسیوں میں شواہد پر مبنی فیصلے کیے جائیں تاکہ سپلائی چین اور ری سائیکلنگ کا عمل متاثر نہ ہو۔
سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے کے اقدامات
انہوں نے ٹیکس نظام میں سادگی لانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس انتظامیہ میں شفافیت اور ریفنڈز کی بروقت ادائیگی سے کاروباری طبقے کو ریلیف ملے گا۔ مدثر مسعود چوہدری نے تجویز دی کہ سرکاری معائنوں کے نظام کو خطرات کی بنیاد پر ترتیب دیا جائے اور غیر ضروری بار بار کے دورے ختم کیے جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ منظوریوں کے عمل کو خودکار بنایا جائے اور کارکردگی کو جانچنے کیلئے عوامی ڈیش بورڈز قائم کیے جائیں تاکہ کاروباری ماحول میں بہتری آ سکے۔
