افغانستان میں کروڑ 30 لاکھ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، ورلڈ فوڈ پروگرام
کابل۔12مئی (دوست نیوز):ورلڈ فوڈ پروگرام ( ڈبلیو ایف پی )نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں معاشی مشکلات، بے روزگاری اور موسمیاتی مسائل کے باعث ایک کروڑ 30 لاکھ سےزیادہ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔ شنہوا نے مقامی نشریاتی ادارےتولونیوز کے حوالے سے بتایا ہے کہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور علاقائی کشیدگی کے باعث غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے غریب اور کمزور خاندانوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔
عالمی ادارہ برائے خوراک نے خواتین اور بچوں میں غذائی قلت کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی خصوصی غذائی اشیا ءکی فراہمی میں شدید کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔ ڈبلیو ایف پی نے کہا کہ بڑھتے ہوئے معاشی اور انسانی بحران امدادی سرگرمیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق افغانستان میں تقریباً ایک کروڑ 38 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ تقریباً 50 لاکھ بچے اور حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین غذائی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔

Leave a Reply